83 - سورة المطففین (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 36 |
مضمون:انسان کے بالطبع عدل اور خیر کو پسند اور ظلم و شرسے نفرت کرنے میں آخرت کی جزاو سزا کی دلیل ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: یوم الدین کی تکذیب کرنے والے مطففین ،مکذبین ،معتد (حد سے گذرنے والے)، مجرم اور کفار و فجار ہوتے ہیں ۔ابرار و فجار کا انجام مختلف ہوگا۔
نام : پہلی ہی آیت سے اس کا نام لیا گیا ہے ۔عربی زبان میں تطفیف ڈنڈی مارنے کو کہتے ہیں اور مطففین ڈنڈی مارنے والے کو۔
شانِ نزول: یہ سورت قیام مکہ کے ابتدائی دور (0تا3 نبوی) میں نازل ہوئی جس میں آخرت کا مضمون بیان ہوا ہے۔
نظمِ کلام: سورۂ القیامۃ۔۔۔۔۔ (سورۂ الملک)
خلاصۂ مضامین: یہ سورۂ سابق سورۂ (الانفطار ) کا تکملہ و تتمہ ہے ۔دونوں کا عمود بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔ سورۂ انفطار کے آخر میں ابرار اور فجار کی جو تقسیم ہے اس سورۂ میں اسی کی تفصیل ہے۔اس میں استدلال یہ ہے کہ انسان بالطبع عدل اور خیر کو پسند کرنے والا ہے اور ظلم و شر سے نفرت کرنے والا ۔رہایہ سوال کہ انسان جب طبعاً نیکی پسند ہے تو وہ بدی کیوں کرتاہے؟ طبعاً تو اس کو مرغوب نیکی ہی ہے لیکن بسااوقات نفس کے دوسرے داعیات سے وہ مغلوب ہوکر اپنی فطرت کے خلاف بدی کا ارتکاب کرتاہے۔اللہ تعالیٰ خود عادل ہے اور اس نے اپنے بندوں کے اندر بھی عدل اور خیر کی محبت ودیعت فرمائی ہے۔)تدبرقرآن(
| وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ ﴿1﴾ الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ ﴿2﴾ وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ ﴿3﴾ اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ ﴿4﴾ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ ﴿5﴾ یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ ﴿6﴾ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ ﴿7﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ ﴿8﴾ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ ﴿9﴾ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ ﴿10﴾ الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ ﴿11﴾ وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ ﴿12﴾ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ ﴿13﴾ كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿14﴾ كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ ﴿15﴾ ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ ﴿16﴾ ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ ﴿17﴾ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ ﴿18﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ ﴿19﴾ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ ﴿20﴾ یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ ﴿21﴾ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ ﴿22﴾ عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ ﴿23﴾ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ ﴿24﴾ یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ ﴿25﴾ خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ ﴿26﴾ وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ ﴿27﴾ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ ﴿28﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ ﴿29﴾ وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ ﴿30﴾ وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ ﴿31﴾ وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ ﴿32﴾ وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ ﴿33﴾ فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ ﴿34﴾ عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ ﴿35﴾ هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ ﴿36ع المطففين 83﴾ |
| 1. ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے۔ 2. جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ 3. اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں۔ 4. کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے۔ 5. (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں۔ 6. جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ 7. سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں۔ 8. اور تم کیا جانتے ہوں کہ سجّین کیا چیز ہے؟ 9. ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔ 10. اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ 11. (یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ 12. اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے۔ 13. جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔ 14. دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔ 15. بےشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے۔ 16. پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے۔ 17. پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ 18. (یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں۔ 19. اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے؟ 20. ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔ 21. جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں۔ 22. بےشک نیک لوگ چین میں ہوں گے۔ 23. تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے۔ 24. تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لو گے۔ 25. ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی۔ 26. جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں۔ 27. اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی۔ 28. وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پیئْں گے۔ 29. جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے۔ 30. اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے۔ 31. اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے۔ 32. اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں۔ 33. حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ 34. تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔ 35. (اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے ان کا حال) دیکھ رہے ہوں گے۔ 36. تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا) بدلہ مل گیا۔ |
تفسیر آیات
1۔پہلی چھ آیتوں میں اس عام بے ایمانی پر گرفت کی گئی ہےجو کاروباری لوگوں میں بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کر لیتے تھے ، مگر جب دوسروں کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ گھٹا دیتے تھے۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہ جملہ صر ف خبریہ نہیں بلکہ اس کے اندر لعنت اور پھٹکار کا مضمون بھی مضمر ہے ۔تطفیف کے معنی ناپ تول میں کمی کرنے کے ہیں ۔ان لوگوں پر لعنت جن کے لینے کے باٹ اور ،اور دینے کے باٹ اور ہیں۔)تدبرقرآن(
3۔ گولوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں مگر یہاں اُس کے لانے سے مقصودکم دینے کو مؤکد کرنا ہے۔اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا کہ ناپنے میں بھی کم ناپتے ہیں اور تولنے میں بھی کم تولتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی نفسہ مذموم نہیں اس لئے وہاں صرف ایک کے ذکر پر اکتفا کیا۔)تفسیر عثمانی(
ــــ تطفیف صرف ناپ تول ہی میں نہیں بلکہ حقدار کو اس کے حق سے کم دینا کسی بھی چیز میں ہو ، تطفیف میں داخل ہے۔(معارف القرآن)
ــــ اس سورت کی ابتدا میں ناپ تول کے ساتھ ساتھْ عام معاشرتی زندگی کا بھی ایک اصول مذکور ہے کہ ہم لوگ دوسروں سے کچھ اور توقع رکھتے ہیں اور جب خود اپنا معاملہ ہوتاہے تو لوگوں کی توقعات پر قطعاً پورا نہیں اترتے(Double Standard)(انوار القرآن)
- یہ ان کمی کرنے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مجرد ناپنے اور تولنے میں کمی کرنا زیر بحث نہیں بلکہ ایک خاص کردار زیر بحث ہے ۔وہ یہ کہ آدمی دوسروں سے اپنے لئے نپوانے اور تولوانے میں میں تو بڑا چوکس اور حساس ہو لیکن وہی شخص جب دوسروں کیلئے ناپے اور تولے تو اس میں ڈنڈی مار نے کی کوشش کرے۔وہ اچھی طرح جانتاہے کہ لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ الگ الگ نہیں ہونا چاہئیں بلکہ ان کا ایک ہونا ضروری ہے ۔اگر وہ ایسا کرتاہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے خلاف محض اپنی خود غرضی سے مغلوب ہوکر کرتاہے اور یہ ایک کھلی ہوئی ناانصافی بھی ہے اور ایک سخت قسم کی دناءت بھی ۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ عدل اور ظلم میں امتیاز سے قاصر ہے یا ظلم کا ظلم ہونا اس پر واضح نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ اپنی کسی خواہش یا کسی جذبے سے مغلوب ہوکر اپنے نفس کے توازن کو قائم نہیں رکھ پاتا۔ایک چور جو دوسروں کے گھروں میں نقب لگاتاہے وہ ہرگز نہیں چاہتاکہ کوئی دوسرا اس کے گھر میں نقب لگائے ۔یہی حال ایک قاتل اور ایک زانی کا ہے۔انسان کا یہ طرز عمل اور اس کی فطرت کا یہ پہلو اس بات کی بدیہی شہادت ہے کہ نہ وہ نیک اور بد کو یکساں سمجھتااور نہ اس بات پر راضی ہے کہ دونوں قسم کے لوگوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ کیا جائے ۔یہاں انسان کی اسی فطرت سے ایک روزِ جزا و سزا کے لازمی ہونے پر دلیل ہے ۔ایک ضعیف شانِ نزول (انصار میں ناپ تول میں کمی کی خرابی)۔۔۔۔۔۔۔ اہل مکہ کے اندر اس کے پائے جانے کے زیادہ امکان تھے اس لیے کہ وہ بالعموم تجارت پیشہ تھے جبکہ انصار کا اصل پیشہ زراعت تھا۔ پھر سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آیت ناپ تول میں کمی کرنے کی مذمت کے سیاق میں نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس حقیقت کے بیان میں ہے کہ انسان عدل و ظلم میں امتیاز سے قاصر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔(تدبرقرآن)
۔اس سورت کے نازل ہونے پر یہ لوگ اس رسم بد سے باز آگئے اور ایسے باز آئے کہ آج تک اہل مدینہ ناپ تول پورا پورا کرنے میں معروف و مشہور ہیں (رواہ الحاکم والنسائی وابن ماجہ بسند صحیح از مظہری)۔۔۔۔۔۔ موَطا امام مالک میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز کے رکوع سجدے وغیرہ پورے نہیں کرتا جلدی جلدی ختم کر ڈالتا ہے تو اس کو فرمایا لقد طففت یعنی تو نے اللہ کے حق میں تطفیف کردی، فاروق اعظم کے اس قول کو نقل کرکے حضرت امام مالک ؒ نے فرمایا لکل شیئٍ وفاء وتطفیف یعنی پورا حق دینا یا کم کرنا ہر چیز میں ہے یہاں تک کہ نماز، وضو طہارت میں بھی اور اسی طرح دوسرے حقوق اللہ اور عبادات میں کمی کوتاہی کرنے والا تطفیف کرنے کا مجرم ہے اسی طرح حقوق العباد میں جو شخص مقررہ حق سے کم کرتا ہے وہ بھی تطفیف کے حکم میں ہے۔ مزدور ملازم نے جتنے وقت کی خدمت کا معاہدہ کیا ہے اس میں سے وقت چرانا اور کم کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ وقت کے اندر جس طرح محنت سے کام کرنے کا عرف میں معمول ہے اس میں سستی کرنا بھی تطفیف ہے اس میں عام لوگوں میں یہاں تک کہ اہل علم میں بھی غفلت پائی جاتی ہے، اپنی ملازمت کے فرائض میں کمی کرنے کو کوئی گناہ ہی نہیں سمجھتا۔ اعاذنا اللہ منہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خمس بخمس یعنی پانچ گناہوں کی سزا پانچ چیزیں ہیں۔ (1) جو شخص عہد شکنی کرتا ہے اللہ اس پر اس کے دشمن کو مسلط اور غالب کردیتا ہے۔ (2) جو قوم اللہ کے قانون کو چھوڑ کر دوسرے قوانین پر فیصلے کرتی ہے ان میں فقرواحتیاج عام ہوجاتا ہے۔ (3) جس قوم میں بےحیائی اور زنا عام ہوجائے اس پر اللہ تعالیٰ طاعون (اور دوسرے وبائی امراض) مسلط کردیتا ہے۔ (4) اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں اللہ تعالیٰ ان کو قحط میں مبتلا کردیتا ہے۔ (5) جو لوگ زکوٰة ادا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک دیتا ہے (ذکرہ القرطبی وقال خرجہ البزار بمعناہ ومالک بن انس ایضا من حدیث ابن عمر) اور طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس قوم میں مال غنیمت کی چوری رائج ہوجائے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں دشمن کا رعب اور ہیبت ڈال دیتے ہیں۔ اور جس قوم میں ربوٰ یعنی سود خوری کا رواج ہوجائے ان میں موت کی کثرت ہوجاتی ہے اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ انکا رزق قطع کردیتے ہیں اور جو لوگ حق کے خلاف فیصلے کرتے ہیں ان میں قتل وخون عام ہوجاتا ہے اور جو لوگ معاہدات میں غداری کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمن مسلط کردیتا ہے (رواہ مالک موقوفا، ازمظہر) (معارف القرآن)
ــــ قرآن مجید میں جگہ جگہ ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت مذمت اور صحیح ناپنے اور تولنے کی سخت تاکید کی گئی ہے ۔سورۂ انعام میں فرمایا :"انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو،ہم کسی کو اس کی مقدرت سے زیادہ کا مکلف نہیں ٹھہراتے" (152)سورۂ بنی اسرائیل (35) میں ارشاد ہواہے"جب ناپو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو۔سورۂ رحمٰن(8-9) میں تاکید کی گئی کہ "تولنے میں زیادتی نہ کرو ،ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور ترازو میں گھاٹانہ دو"قومِ شعیب پر جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا وہ یہی تھا کہ اس کے اندرناپ تول میں کمی کرنے کا مرض عام تھا۔(تفہیم القرآن)
7۔ اصل میں لفظ سجین استعمال ہوا ہے جو سجن (جیل یا قید خانے) سے ماخوذ ہے اور آگے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رجسٹر ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کیے جا رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
۔كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ ، سجین، بکسر سین وتشدید جیم بروزن سکین و سجن سے مشتق ہے جس کے معنے تنگ جگہ میں قید کرنے کے ہیں۔ قاموس میں ہے کہ سجین کے معنے دائمی قید کے ہیں اور احادیث وآثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجین ایک مقام خاص کا نام ہے اور کفار فجار کی ارواح کا مقام یہی ہے اور اسی مقام میں انکے اعمال نامے رہتے ہیں، جسکا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اعمالنامے اس جگہ میں محفوظ کردیئے جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی ایسی کتاب جامع ہو جس میں تمام دنیا کے کفار و فجار کے اعمال لکھدیئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ مقام کس جگہ ہے اس کے متعلق حضرت برا بن عازب کی طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبحین ساتویں زمین کے نچلے طبق میں ہے اور علیین ساتویں آسمان میں زیر عرش ہے (اخرجہ البغوی بسندہ واخرجہ احمد وغیرہ از مظہری) بعض روایات حدیث میں یہ بھی ہے کہ سبحین کفار و فجار کی ارواح کا مستقر ہے اور علیین، مومنین متقین کی ارواح کی جگہ ہے۔ (معارف القرآن)
9۔ سجین اس دفتر کا نام ہے جس میں مجرموں کے اعمال کا وہ سارا ریکارڈ تحریری صورت میں محفوظ کیا جارہاہے جس کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا کہ کون دوزخ کے کس طبقہ میں داخل کیے جانے کا حقدار ہے۔ (ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
13۔منکرین قرآن کی ایک عجیب مسخ شدہ ذہنیت دنیا میں ہرزمانے میں رہی ہے کہ قرآن اگر کوئی نئی تعلیم پیش کرے تو اسے یہ کہہ کر رد کردیجئے کہ یہ انوکھی بات تو ان پیمبر عرب نے دل سے گڑھ کر پیش کی ہے،ورنہ اگلوں میں آخر کوئی تو اسے پیش کرتا! اور یہ کبھی تو سننے میں آئی ہوتی! اور اگر قرآن کوئی قدیم حقیقت اس کی اصلی اور غیر محرف شکل میں پیش کرے تو اس کے خلاف دلیل یہ لاتے کہ یہ تو پہلے صحیفوں کی نقل یا اُن سے سرقہ ہے!(تفسیر ماجدی)
14۔۔۔۔۔۔اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو پورے دل پر وہ چھا جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
17۔۔۔۔’ثُمَّ‘ کی تکرار سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ بات ان سے خاص اہتمام کے ساتھ کہی جائے گی۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
18۔اسی طرح کفار کی ارواح سجین میں ہیں جو ساتویں زمین میں ہے اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ جہنم بھی ساتویں زمین میں ہے اور اہل سجین کو جہنم کی تپش اور ایذائیں پہنچتی رہیں گی اسلئے انکا مقام جہنم میں کہہ دینا بھی صحیح ہے۔ البتہ اوپر جس روایت میں ارواح کا قبر میں رہنا معلوم ہوتا ہے بظاہر پچھلی دونوں روایتوں سے بہت مختلف ہے اس کی تطبیق بیہقی زمانہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے تفسیر مظہری میں یہ بیان کی ہے کہ یہ بات کچھ بعید نہیں کہ اصل مستقر ارواح کا علیین اور سجین ہی ہوں مگر ان ارواح کا ایک خاص رابطہ قبروں کے ساتھ بھی قائم ہو۔ اس رابطہ کی حقیقت تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا مگر جس طرح آفتاب ماہتاب آسمان میں ہیں اور ان کی شعاعیں زمین پر پڑ کر اس کو روشن بھی کردیتی ہیں اور گرم بھی۔ اسی طرح علیین و سجین کی ارواح کا کوئی رابطہ معنویہ قبروں سے ہوسکتا ہے اور ان تمام اقوال کی تطبیق میں حضرت قاضی ثناء اللہ ؒ کی تحقیق سورة نازعات کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ روح کی دو قسمیں ہیں ایک جسم لطیف ہے جو انسان کے بدن میں حلول کرتا ہے اور وہ مادی اور عنصری جسم ہے مگر لطیف ہے نظر نہیں آتا، اسی کو نفس کہا جاتا ہے۔ دوسری روح جوہر مجرد ہے مادی نہیں، اور وہ روح مجرد ہی روح اول کی حیات ہے اسلئے اس کو روح الروح کہہ سکتے ہیں، انسان کے جسم سے تعلق تو ان دونوں قسم کی روحوں کا ہے مگر پہلی قسم جسم انسانی کے اندر رہتی ہے اسکے نکلنے ہی کا نام موت ہے۔ دوسری روح کا اس پہلی روح سے تعلق قریب تو ہے مگر اس تعلق کی حقیقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ مرنے کے بعد روح اول تو آسمانوں میں لیجائی جاتی ہے پھر قبر میں لوٹا دیجاتی ہے اس کا مستقر قبر ہی ہے اسی پر عذاب وثواب ہوتا ہے اور روح مجرد علیین یا سجین میں رہتی ہے۔ اسطرح اقوال جمع ہوگئے مستقر ارواح کا جنت یا علیین میں یا اسکے بالمقابل جہنم یا سجین میں ہونا روح مجرد کے اعتبار سے ہے اور انکا مستقر قبر میں ہونا روح کی قسم اول یعنی نفس کے اعتبار سے ہے جو جسم لطیف ہے اور مرنے کے بعد قبر میں رہتا ہے۔ واللہ اعلم۔ (معارف القرآن)
21۔ عِلِّیِّیْنَ عالی مقام لوگوں کے اعمال کا دفتر ہے جس میں ان کے کارنامے درج ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے اس کی نگرانی کرتے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
23۔ہوسکتاہے کہ مراد دیدار جمالِ الٰہی سے ہو، اور چونکہ ینظرون یہاں مقابلے میں محجوبون کے آیاہے، اس لیے قرینہ اسی کا مقتضی ہے۔(تفسیر ماجدی)
25۔اصل میں الفاظ ہیں خِتٰمُهٗ مِسْكٌ۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں میں وہ شراب رکھی ہوگی ان پر مٹی یا موم کے بجائے مشک کی مہر ہوگی۔ اس مفہوم کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ شراب کی ایک نفیس ترین قسم ہوگی جو نہروں میں بہنے والی شراب سے اشرف و اعلی ہوگی اور اسے جنت کے خدام مشک کی مہر لگے ہوئے برتنوں میں لا کر اہل جنت کو پلائیں گے۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ شراب جب پینے والوں کے حلق سے اترے گی تو آخر میں ان کو مشک کی خوشبو محسوس ہوگی۔ یہ کیفیت دنیا کی شرابوں کے بالکل برعکس ہے جن کی بوتل کھلتے ہی بو کا ایک بھبھکا ناک میں آتا ہے، پیتے ہوئے بھی ان کی بدبو محسوس ہوتی ہے، اور حلق سے جب وہ اترتی ہے تو دماغ تک اس کی سڑاند پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے بد مزگی کے آثار ان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
26۔جو لوگ جنت کی مادّی نعمتوں پر منہ بناتے اور کچھ شرمندہ سے ہوجاتے ہیں وہ غور کرکے دیکھیں کہ قرآن مجید کس کس طرح شوق و رغبت ان نعمتوں کی جانب دلاتاہے اور کس کس طرح ان مادّی و جسمانی نعمتوں کو بھی عین اپنی رضا کا مظہرقراردیتاہے!(تفسیر ماجدی)
27۔تسنیم کے معنی بلندی کے ہیں، اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آ رہا ہو۔ (تفہیم القرآن)
31۔یعنی یہ سوچتے ہوئے پلٹتے تھے کہ آج تو مزا آ گیا ہے، میں نے فلاں مسلمان کا مذاق اڑا کر اور اس پر آوازے اور پھبتیاں کس کر خوب لطف اٹھایا اور لوگوں میں بھی اس کی اچھی گت بنی۔(تفہیم القرآن)