76 - سورة الانسان (مدنیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 31 |
مضمون: انسان میں خیر و شر کے درمیان امتیاز کی صلاحیت کا پایا جانا آخرت کی دلیل ہے جس میں وفا شعاروں کی عزت افزائی ہوگی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: اس سورۂ میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور اعمال پر جزاوسزا ،قیامت اور جنت دوزخ کے خاص حالات نہایت بلیغ انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
شانِ نزول: اسے سورۂ الانسان بھی کہتے ہیں ۔یہ قیام مکہ کے پہلے دور (0تا3سن نبوی) میں آپؐ پر نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپردی جارہی تھی جمعے کے روز آپؐ نماز فجر میں سورۂ السجدہ اور سورۂ الدھر تلاوت فرماتے(مسلم)
نظمِ کلام: سورۂ القیامہ(سورۂ الملک)
ترتیب ِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i) ر۔1( انسان کی پیدائش۔نیکوکاروں کی صفات اور ان کو ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ) (ii) ر۔ 2(نزول ِ قرآن اور اس کی اطاعت)
اہلِ جنت پر انعامات: کافروں کیلئے زنجیریں ،طوق اور دہکتی آگ ۔اس کے مقابلہ میں اہل ایمان ایسی شراب نوشِ جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی یہ ایک ایسا چشمہ ہوگا جس میں اہل جنت چھوٹی چھوٹی نہریں نکالیں گے۔(i) انکو بہشت کے باغات اور ریشم کے ملبوسات عطاء کئے جائیں گے۔وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گےجس میں نہ دھوپ کی حدت نہ سردی کی شدت ہوگی ۔میووں کے گچھے لٹک رہے ہوں گے اور خدام چاندی کے بلوریں گلاسوں میں ایسی شراب پلائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی جو چشمۂ سلسبیل سے پیش کی جائے گی۔ان کے پاس نوعمر لڑکے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے موتی (ii) ان کے بدنوں پر دیبائے سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے گنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا یعنی شراباً طہوراً۔
نظمِ جلی: آیات5 تا 22 : دوسرے پیراگراف میں شاکرین ابرار کی دس خصوصیات اور پندرہ انعامات کا ذکر ہے۔شاکرین"ابرار"کی دس خصوصیات:1۔ ابرار،شاکر(شکر گزار)ہوتے ہیں۔2۔"عبادُاللہِ"ہوتےہیں،3۔ اپنی نذروں کو پوراکرتے ہیں،4۔قیامت کی ہمہ گیر ہولناکی سے ڈرتے ہیں۔،5۔مسکینوں ،یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔(آیت:8)،6۔صرف اللہ کی خوشنودی کے حصول کے لیےکھلاتےہیں۔7۔نیکی کرنےکےبعد،بدلے کی توقع نہیں رکھتے۔8۔ ابرار کا نفس، نیکی کرنے کے بعد شکریے کا طالب بھی نہیں ہوتا۔9۔قیامت کے دن کی ترشی اور اکھڑپن سے ڈرتے ہیں۔،10۔ ابرار،صبرواستقامت کی اعلیٰ مثال پیش کرتے ہیں۔۔۔۔۔شاکرین ابرار کے پندرہ انعامات:1۔ ابرار،ایسی شراب پئیں گے، جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔،2۔ وہ جدھر چاہیں گے،شراب کے چشموں سے شاخ نکال لیں گے۔3۔ اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کی آفت سے بچالے گا۔4۔اللہ تعالیٰ انہیں تازگی اور سرور سے نوازے گا۔5۔ اللہ تعالیٰ انہیں باغ اور ریشمی لباس عطافرمائے گا۔ ،6۔ جنت میں تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے،7۔جنت میں موسم خوشگوار اور معتدل ہوگا،نہ گرمی اور نہ سردی۔،8۔ جنت کے میوے ،ابرار کی دسترس میں ہوں گے۔،9۔ ان کے لیے چاندی اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے،10۔ ایک چشمے "سلسبیل"سے شراب پلائی جائے گی، جس میں "زنجبیل"(ادرک)کی آمیزش ہوگی،11۔ موتی جیسے، ہمشہ جوان رہنے والے تجربہ کار اور مستعد لڑکے گردش میں ہوں گے۔12۔ ہرطرف عظیم نعمت اور عظیم بادشاہت نظر آئے گی،13۔ سبز سندس اور استبرق کا بالائی لباس ہوگا،چاندی کے گنگن پہنائے جائیں گے۔14۔ پروردگار،پاکیزہ شراب پلائے گا۔15۔ ابرار(شکرگزاروں )کی سرگرمیاں اور ثابت قدمی مقبول ہوگی، اس کا اجر عطاکیا جائے گا۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِْ هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا ﴿1﴾ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا ﴿2﴾ اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا ﴿3﴾ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا ﴿4﴾ اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ ﴿5﴾ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا ﴿6﴾ یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا ﴿7﴾ وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا ﴿8﴾ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا ﴿9﴾ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا ﴿10﴾ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ ﴿11﴾ وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ ﴿12﴾ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ ﴿13﴾ وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا ﴿14﴾ وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ ﴿15﴾ قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا ﴿16﴾ وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ ﴿17﴾ عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا ﴿18﴾ وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا ﴿19﴾ وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا ﴿20﴾ عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا ﴿21﴾ اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ ﴿22ع الانسان 76﴾ |
| شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے بے شک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آ چکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی (۱) ہم نے انسان کو نطفۂ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا (۲) (اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ نا شکرا (۳) ہم نے کافروں کے لئے زنجیر اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے (۴) جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی (۵) یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے (۶) یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہو گی خوف رکھتے ہیں (۷) اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں (۸) (اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکر گزاری کے (طلبگار) (۹) ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے (جو چہروں کو) کریہہ المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کر دینے والا) ہے (۱۰) تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچا لے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا (۱۱) اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کرے گا (۱۲) ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت (۱۳) ان سے (ثمر دار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے (۱۴) خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس (۱۵) اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں (۱۶) اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہو گی (۱۷) یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے (۱۸) اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) رہیں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں (۱۹) اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے (۲۰) ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا (۲۱) یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی (۲۲( |
تفسیر آیات
1۔ دَھر سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتداء انسان کو معلوم ہے نہ انتہا، اور حِینسے مراد وہ خاص وقت ہے جو اس لامتناہی زمانے کے اندر کبھی پیش آیا ہو۔ ایک طویل مدت تو ایسی گزری جب سرے سے نوعِ انسانی ہی موجود نہ تھی۔ وہ اس وقت بھی کوئی قابل ِ ذکر چیز نہ تھا جب اس کا ایک حصہ باپ کے نطفے میں اور ایک ماں کے نطفے میں تھا۔(تفہیم القرآن)
ــــ دہر کا لغوی مفہوم،دہر اللہ کی ذات ہے:۔ دَھرٌ بمعنی زمانہ کائنات، مدت عالم،جب سے کائنات شروع ہوئی اس وقت سے لے کر اس کے اختتام تک کا وقت (مفردات)اور ابن الفارس کہتے ہیں کہ دھر میں غلبہ اور قہر کا مفہوم پایا جاتاہے اور دہر کایہ عالم اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز پر اضطرار گزرتااور اس پر غالب آتاہے۔(مقاییس اللغۃ)اور دہر کا تعلق مشیت ِ الٰہی سے ہے۔چنانچہ آپؐ نے فرمایا:"لاتسبواالدھر فان اللہ ھو الدھر"یعنی دہر کو برابھلا نہ کہہ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دہر ہے۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔باب لاتسبوا الدھر)اور دہری وہ شخص ہے جو کائنات کا قائل نہیں بلکہ اسے اس ابدلاباد سے شمار کرتاہے اور سمجھتاہے کہ اس کائنات کا کوئی صانع نہیں بس یہ آپ سے آپ اتفاقات کے نتیجہ میں وجود میں آگئی تھی۔اس آیت میں یہ بتایا جارہاہے کہ انسان پر ایسا وقت بھی گزرچکا ہے جبکہ بنی نوع انسان کی ابھی تخلیق ہی نہ ہوئی تھی۔ اور اس کا نام و نشان تک صفحہ ہستی پر موجود نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور اور طورطے کرنے کے بعد یہ نطفہ کی شکل میں آیا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ جب انسان نطفہ کی حالت میں تھا تو اس کی موجودہ شرافت و کرامت کے مقابلہ میں اس کی وہ حالت اس قابل ہی نہیں تھی کہ اسے زبان پر لایا جائے۔(تیسیر القرآن)
ــــ ھل یہاں بالاتفاق قد کے معنی میں ہے یعنی ضروریا یقیناً۔(تفسیر ماجدی)
۔۔۔۔۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ ھل عربی زبان میں " کیا " کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مثلاً ہم کسی سے پوچھتے ہیں " کیا میں نے تمہارے ساتھ کوئی برائی کی ہے ؟ " اس سے مقصود صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بات کا اقرار کرے کہ آپ نے اس کے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے، بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی مقصود ہوتا ہے کہ جس نے میرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے اس کے ساتھ میں برائی کرنے میں کہاں تک حق بجانب ہوں۔ آیت زیر بحث] میں سوالیہ فقرہ دراصل اسی آخری معنی میں ارشاد ہوا ہے۔ اس سے مقصود انسان سے صرف یہی اقرار کرانا نہیں ہے کہ فی الواقع اس پر ایک وقت ایسا گزرا ہے، بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہے کہ جس خدا نے اس کی تخلیق کا آغاز ایسی حقیر سی حالت سے کر کے اسے پورا انسان بنا کھڑا کیا وہ آخر اسے دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز ہوگا ؟ (تفہیم القرآن)
2۔یہ ہے دنیا میں انسان، اور انسان کے لیے دنیا کی اصل حیثیت۔ وہ درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد تخلیق یہیں پورا ہوجائے اور قانون فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کا کام کر کے وہ یہیں مر کر فنا ہوجائے۔ نیز یہ دنیا اس کے لیے نہ دار العذاب ہے، جیسا کہ راہب سمجھتے ہیں، نہ دار الجزا ہے جیسا کہ تناسخ کے قائلین سمجھتے ہیں، نہ چراگاہ اور تفریح گاہ ہے، جیسا کہ مادہ پرست سمجھتے ہیں اور نہ رزم گاہ، جیسا کہ ڈارون اور مارکس کے پیرو سمجھتے ہیں، بلکہ دراصل یہ اس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔ وہ جس چیز کو عمر سمجھتا ہے حقیقت میں وہ امتحان کا وقت ہے جو اسے یہاں دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ جو حضرات اسے پوری طرح سمجھنا چاہتے ہوں وہ تفہیم القرآن کی ہر جلد کے آخر میں فہرست موضوعات کے اندر لفظ " آزمائش " نکال کر وہ تمام مقامات دیکھ لیں جہاں قرآن میں مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ قرآن کے سوا دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں یہ حقیقت اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہو۔ (تفہیم القرآن)
3۔ ا س آیت میں " راستہ دکھانے " سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدِ نہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر۔۔۔۔۔۔ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے۔۔۔۔۔ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کے اپنے وجود میں اور اس کے گرد و پیش زمین سے لے کر آسمان تک ساری کائنات میں ہر طرف ایسی بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔انسان کی اپنی زندگی میں، اس کی ہم عصر دنیا میں، اور اس سے پہلے گزری ہوئی تاریخ کے تجربات۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کی عقل اور اس کی فطرت قطعی طور پر حکم لگاتی ہے کہ جرم کی سزا اور عمدہ خدمات کا صلہ ملنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام ذرائع رہنمائی کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کی صریح اور واضح رہنمائی کے لیے دنیا میں انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
6۔عباد اللہ (اللہ کے بندے) یا عبادالرحمٰن (رحمٰن کے بندے) کے الفاظ اگرچہ لغوی طور پر تمام انسانوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، کیونکہ سب ہی خدا کے بندے ہیں، لیکن قرآن میں جہاں بھی یہ الفاظ آئے ہیں ان سے نیک بندے ہی مراد ہیں۔ گو یا کہ بد لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو بندگی سے خارج کر رکھا ہو، اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنے اسم گرامی کی طرف منسوب کرتے ہوئے عباد اللہ یا عبدالرحمٰن کے معزز خطاب سے نوازے۔ (تفہیم القرآن)
7۔ جولوگ ان نذروں کے پورے کرنے کا ہتمام کریں جو انہوں نے خود اپنے اوپر واجب کی ہوں ان سے ان نیکیوں کے بدرجۂ اولیٰ اہتمام کی توقع ہے جو ان کے رب نے ان پر واجب ٹھہرائی ہیں۔(تدبرقرآن)
شرائط ِ نذر: (i)جس کام کی نذر مانی جائے وہ جائز و حلال ہو معصیت نہ ہو (ii)اللہ کی طرف سے واجب نہ ہو مثلاً نماز ،روزہ ،حج وغیرہ۔(معارف القرآن)
۔ نذر کا مفہوم اور قواعد و ضوابط۔ صفحہ 191 تا 197 (تفہیم القرآن)
8۔ ترجیحاً علیٰ حبہ میں ضمیر کا مرجع طعام ہے ۔مطلب یہ ہے کہ اگر چہ وہ خود ضرورت مند ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی ضرورت پر مسکینوں اور یتیموں کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں ۔کوئی چیز خواہ اس وجہ سے عزیز ہوکہ وہ بذاتِ خود قیمتی ہے یا اس وجہ سے کہ وہ خود اس کا ضرورت مندہے۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔(تدبرقرآن)
ــــ قدیم زمانے میں یہ دستور تھا کہ قیدیوں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لگا کرروزانہ باہر نکالاجاتاتھا اور وہ سڑکوں پر یا محلوں میں بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے تھے ۔بعد میں اسلامی حکومت نے یہ طریقہ بند کردیا ۔(تفہیم القرآن)
ــــ عَلٰى حُبِّهٖ میں"ہ"کی ضمیر کا مرجع طعام بھی ہوسکتاہے ۔جیساکہ ترجمہ سے واضح ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت بھی یعنی وہ ایسے کام اللہ کی محبت کے جوش میں کرتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
10۔( اور ہم یہ اعمال اس لیے بجالاتے ہیں کہ اس دن کی سختیوں سے محفوظ رہیں)یہ آیتیں مسلسل اسی تاکید اخلاص کے لیے چلی آتی ہیں، اس قسم کی آیتیں اُن تمامی غیر محقق صوفیہ کی تردید کے لیے کافی ہیں،جنہوں نے خوفِ آخرت سے کسی عمل کے کرنے کو خلافِ اخلاص سمجھا ہے۔(تفسیر ماجدی)
11۔یعنی چہروں کی تازگی اور دل کا سرور۔ دوسرے الفاظ میں روز قیامت کی ساری سختیاں اور ہولناکیاں صرف کفار و مجرمین کے لیے ہوں گی، نیک لوگ اس دن ہر تکلیف سے محفوظ اور نہایت خوش و خرم ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
12۔یہاں صبر بڑے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، بلکہ در حقیقت صالح اہل ایمان کی پوری دنیوی زندگی ہی کو صبر کی زندگی قرار دیا گیا ہے۔ ہوش سنبھالنے یا ایمان لانے کے بعد سے مرتے دم تک کسی شخص کا اپنی ناجائز خواہشوں کو دبانا، اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی پابندی کرنا، ْاللہ کے عائد کیے ہوئے فرائض کو بجا لانا، اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنا وقت، اپنا مال، اپنی محنتیں، اپنی قوتیں اور قابلیتیں، حتٰی کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کردینا، ہر اس لالچ اور ترغیب کو ٹھکرا دینا جو اللہ کی راہ سے ہٹانے کے لیے سامنے آئے، ہر اس خطرے اور تکلیف کو برداشت کرلینا جو راہ راست پر چلنے میں پیش آئے، ہر اس فائدے اور لذت سے دست بردار ہوجانا جو حرام طریقوں سے حاصل ہو، ہر اس نقصان اور رنج اور اذیت کو انگیز کر جانا جو حق پرستی کی وجہ سے پہنچے، اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے کرنا کہ اس نیک رویے کے ثمرات اس دنیا میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ملیں گے، ایک ایسا طرز عمل ہے جو مومن کی پوری زندگی کو صبر کی زندگی بنا دیتا ہے۔ یہ ہر وقت کا صبر ہے، دائمی صبر ہے۔ ہمہ گیر صبر ہے اور عمر بھر کا صبر ہے۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
16۔ دنیامیں کئی قسم کے شیشے ایجاد ہوچکے ہیں۔اور ایسی اشیاء بھی جو شیشے کے علاوہ ہونے کے باوجود شیشے کی طرح صاف شفاف بھی ہیں جیسے پلاسٹک کی اشیاء لیکن یہ چیزیں آتش گیر ہوتی ہیں جنت میں چاندی اور اس کے برتنوں کو شیشے کی طرح صاف شفاف بنا دیا جائے گا اور یہ صنعت دنیا میں آج تک ایجاد نہیں ہوسکی اور شاید آئندہ بھی نہ ہوسکے۔(تیسیر القرآن)
20۔یعنی دنیا میں خواہ کوئی شخص فقیر بےنواہی کیوں نہ رہا ہو، جب وہ اپنے اعمال خیر کی بنا پر جنت میں جائے گا تو وہاں اس شان سے رہے گا کہ گویا وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا مالک ہے۔(تفہیم القرآن)
21۔پہلے دو شرابوں کا ذکر گزر چکا ہے۔ ایک وہ جس میں آب چشمئہ کافور کی آمیزش ہوگی۔ دوسری وہ جس میں آب چشمئہ زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔ ان دونوں شرابوں کے بعد اب پھر ایک شراب کا ذکر کرنا اور یہ فرمانا کہ ان کا رب انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا، یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ کوئی اور بہترین نوعیت کی شراب ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل خاص کے طور پر انہیں پلائی جائے گی۔(تفہیم القرآن)
۔ یہ کافور اور زنجبیل کے امتزاج والے مشروبات کے علاوہ ایک تیسرے مشروب کا ذکر ہے۔جسےشراباً طہوراً کا نام دیا گیا ہے۔طہور سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جو خود بھی صاف ستھری ہو اور دوسری چیزوں کو بھی صاف ستھرا کرنے والی ہو۔یعنی وہ مشروب ایک تو بذات خود انتہائی صاف شفاف ہوگا۔ دوسرے اہل جنت کے دلوں سے ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کی رنجش اور کدورتیں دورکردے گا۔(تیسیر القرآن)
22۔اصل الفاظ ہیں كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۔ یعنی تمہاری سعی مشکور ہوئی۔ سعی سے مراد وہ پورا کارنامہ حیات ہے جو بندے نے دنیا میں انجام دیا۔ جن کاموں میں اس نے محنتیں اور جن مقاصد کے لیے اس نے اپنی کوششیں صرف کیں ان سب کا مجموعہ اس کی سعی ہے اور اس کے مشکور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ قابل قدر قرار پائی۔ شکریہ جب بندے کی طرف سے خدا کے لیے ہو تو اس سے مراد اس کی نعمتوں پر احسان مندی ہوتی ہے، اور جب خدا کی طرف سے بندے کے لیے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خدمات کی قدر فرمائی۔ آقا کی یہ بہت بڑی عنایت ہے کہ بندہ جب اس کی مرضی کے مطابق اپنا فرض انجام دے تو وہ اس کا شکریہ ادا کرے۔(تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ ﴿23﴾ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ ﴿24﴾ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ ﴿25﴾ وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا ﴿26﴾ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا ﴿27﴾ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا ﴿28﴾ اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا ﴿29﴾ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ ﴿30﴾ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ ﴿31ع الانسان 76﴾ |
| 23. اے محمد (ﷺ) ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ 24. تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو۔ 25. اور صبح وشام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو۔ 26. اور رات کو بڑی رات تک سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ 27. یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑے دیتے ہیں۔ 28. ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں۔ 29. یہ تو نصیحت ہے۔ جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا رستہ اختیار کرے۔ 30. اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو۔ بےشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔ 31. جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ |
تفسیر آیات
26۔ قرآن کا قاعدہ ہے کہ جہاں بھی کفار کے مقابلہ میں صبر و ثبات کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس کے معاً بعد اللہ کے ذکر اور نماز کا حکم دیا گیا ہے، جس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دین حق کی راہ میں دشمنان حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اسی چیز سے حاصل ہوتی ہے، صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے سے مراد ہمیشہ اللہ کو یاد کرنا بھی ہوسکتا ہے، مگر جب اللہ کی یاد کا حکم اوقات کے تعین کے ساتھ دیا جائے تو پھر اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ آیت میں سب سے پہلے فرمایا اُذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا۔ بکرہ عربی زبان میں صبح کو کہتے ہیں اصیل کا لفظ زوال کے وقت سے غروب تک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں ظہر اور عصر کے اوقات آجاتے ہیں۔ پھر فرمایا وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ۔ رات کا وقت غروب آفتاب کے بعد شروع ہوجاتا ہے، اس لیے رات کو سجدہ کرنے کے حکم میں مغرب اور عشاء، دونوں وقتوں کی نمازیں شامل ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ ارشاد کہ رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو، نماز تہجد کی طرف صاف اشارہ کرتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل حواشی 92 تا 97۔ جلد ششم، المزمل، حاشیہ 2 ) ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے یہی اوقات ابتدا سے اسلام میں تھے، البتہ اوقات اور رکعتوں کے تعین کے ساتھ پنجوقتہ نماز کی فرضیت کا حکم معراج کے موقع پر دیا گیا ہے۔(تفہیم القرآن)
27۔ ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ اس دنیا کی لذتِ عاجل کے پرستار ہیں ۔آخرت کی خاطر وہ اس نقد کو چھوڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ (تدبرقرآن)
28۔ اس فقرے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم جب چاہیں انہیں ہلاک کر کے انہی کے جنس کے دوسرے لوگ ان کی جگہ لا سکتے ہیں جو اپنے کردار میں ان سے مختلف ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہم جب چاہیں ان کی شکلیں تبدیل کرسکتے ہیں، یعنی جس طرح ہم کسی کو تندرست اور سلیم الاعضاء بنا سکتے ہیں اسی طرح ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ کسی کو مفلوج کردیں، کسی کو لقوہ مار جائے اور کوئی کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو کر اپاہج ہوجائے۔ (تفہیم القرآن)