75 - سورة القيامة (مکیہ)
| رکوع - 2 | آیات - 40 |
مضمون:قیامت کی دلیل انسان کے نفس میں موجود ہے لیکن دنیا اس کے لیے حجاب بن جاتی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: قیامت برحق ہے ۔قیامت کی دلیل خود انسانی نفس میں ضمیر یعنی نفس ِ لوّامہ کی شکل میں موجود ہے(ضمیر اللہ کا ایجنٹ ہے)عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔فسق و فجور میں مبتلا لوگ ،ضمیر کی آواز کو دبا کرآخرت کا انکار کردیتے ہیں ۔اہلِ ضمیر ایمان اور عملِ صالح سے قیامت کی تیاری کرتے ہیں ۔
کلیدی مضامین: "اولی"یہ لفظ چار مرتبہ ابوجہل کے نامناسب رویوں کے بارے میں افسوس اور رنج کے ساتھ بطور تبصرہ استعمال کیا گیا ہے۔"اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى"(آیت: 34)۔"ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى"(آیت: 35)۔سورت کا اختتام کئی سوالوں پر کیا گیا ہے، تاکہ لوگ غور و فکر سے کام لے کر، اپنے ضمیر کو ٹٹولیں اور آخرت کے قائل ہوجائیں۔ " اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ؟"۔"اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰى اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰى۠"(آیت:40)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
شانِ نزول: سورۂ قیامہ،قیام مکہ کے پہلے دور (0تا3 نبوی) کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی۔ نزولِ وحی کے ابتدائی سالوں میں نیا تجربہ ہونے کی وجہ سے آپؐ وحی سن کر اپنی زبان کو حرکت دیا کرتے تھے۔آیات31 تا 35 دوسرے دور میں اعلانِ عام کے بعد (بعض روایات کے مطابق)ابوجہل کے بارے نازل ہوئیں۔
نظمِ کلام: سورۂ ملک ،اگلی دس سورتیں (القیامہ تا الانشقاق) امکانِ قیامت اور احوال جنت و دوزخ پر مشتمل ہیں۔ان سورتوں میں مختلف کرداروں کے درمیان تقابل اور موازنہ پایا جاتاہے اور ان کے انجام کا بھی تذکرہ ہے ۔
ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1(قیامت اور نْفسِ لوّامہ کی شہادت) (ii) ر۔2(منکرین ِ آخرت کی کیفیت)
تعارفی کلمات: خطاب کا انداز۔خطابت کا بہترین نمونہ۔جب آپؐ قرآن سناتے تھے تو اس طرح بیان کرتے تھے جیسے خطبہ دے رہے ہیں اور ایک کمانڈر اپنے فوجیوں کو خطاب کررہاہے۔ )بیان القرآن(
ــــ سابق سورہ کا انداز بہت ہی تیز ہے۔۔۔۔۔تاہم غضب کی کچھ چنگاریاں اس میں بھی دبی ہوئی ہیں۔۔۔۔انسان اکڑتاہے اور مذاق سے پوچھتا ہےکہ وہ دن کب آئے گا، اگر اس کو آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتا، آخریہ جہاز کہاں لنگر انداز ہوگیا۔۔۔۔۔اس سورت کے اسلوب کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے سورہ علق، سورۂ تکاثر، اور سورۂ ہمزہ کے اسالیب پر باربار غورکرنا چاہیے۔۔۔۔۔ان توضیحی آیتوں کی ایک اور نمایاں علامت بھی قرآن کے مطالعہ سےمعلوم ہوتی ہے۔وہ یہ کہ خود ان آیتوں کے اندر ایسے الفاظ موجود ہوتے ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ یہ آیتیں تشریح و توضیح کے لیے نازل ہوئی ہیں۔ مثلاً اس طرح کی آیات کے ساتھ اکثر فرمایا گیا ہے کذٰلک یُبین اللہ اٰیاتہٖ للناس(اسی طرح اللہ اپنی آیتوں کو لوگوں کے لیے کھول دیتاہے)۔(تفسیر فراہی)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ ﴿1﴾ وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ ﴿2﴾ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ ﴿3﴾ بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ ﴿4﴾ بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ ﴿5﴾ یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ ﴿6﴾ فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ ﴿7﴾ وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ ﴿8﴾ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ ﴿9﴾ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ ﴿10﴾ كَلَّا لَا وَزَرَؕ ﴿11﴾ اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ ﴿12﴾ یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ ﴿13﴾ بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ ﴿14﴾ وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ ﴿15﴾ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ ﴿16﴾ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚ ۖ ﴿17﴾ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ ﴿18﴾ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ ﴿19﴾ كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ ﴿20﴾ وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ ﴿21﴾ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ ﴿22﴾ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ ﴿23﴾ وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ ﴿24﴾ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ ﴿25﴾ كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ ﴿26﴾ وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ ﴿27﴾ وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ ﴿28﴾ وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ ﴿29﴾ اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُؕ ۠﴿30ع القيامة 75﴾ |
| 1. ہم کو روز قیامت کی قسم۔ 2. اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر) کھڑے کئے جائیں گے۔ 3. کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟ 4. ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔ 5. مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے۔ 6. پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟ 7. جب آنکھیں چندھیا جائیں۔ 8. اور چاند گہنا جائے۔ 9. اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں۔ 10. اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟ 11. بےشک کہیں پناہ نہیں۔ 12. اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانا ہے۔ 13. اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے سب بتا دیئے جائیں گے۔ 14. بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔ 15. اگرچہ عذر ومعذرت کرتا رہے۔ 16. اور (اے محمدﷺ) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کرلو۔ 17. اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔ 18. جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم (اس کو سنا کرو اور) پھر اسی طرح پڑھا کرو۔ 19. پھر اس (کے معانی) کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے۔ 20. مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو۔ 21. اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو۔ 22. اس روز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے۔ 23. اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے۔ 24. اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے۔ 25. خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔ 26. دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے۔ 27. اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے۔ 28. اور اس (جان بلب) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے۔ 29. اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے۔ 30. اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔قسم کھانے سے مقصد بعض دفعہ تواپنی بات کو مؤکد بناناہوتاہے۔اور بعض دفعہ قسم بطور شہادت یا شہادت کو مزید مؤکد بنانے کے لیے کھائی جاتی ہے۔اور ایسی چیز کی کھائی جاتی ہے جسے انسان بہرحال اپنی ذات سے بالاتر سمجھتا ہو۔اور چونکہ انسان خود اشرف المخلوقات پیدا کیا گیا ہے۔لہذا ہم انسانوں کو یہی حکم ہے کہ اگر قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے تو صرف اللہ کی ذات کی یا اس کی صفات کی کھائی جائے ۔اس کے علاوہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک اور حرام ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس چیز کو اہم سمجھتے ہوئے قسم اٹھانا چاہے بطورشہادت اور دلیل پیش کرکے قسم اٹھا سکتاہے۔مثلاً یہی قیامت کا دن جسے برپا کرنا اللہ کے انتہائی مہتمم بالشان کارناموں سے ایک کارنامہ ہوگا اور یہ ایسی چیز تھی جس کا کفارِ مکہ یکسر انکار کررہے تھے۔لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی یقین دہانی کی خاطر قیامت کے دن کی قسم اٹھاکر فرمایا کہ وہ یقیناًواقع ہوکے رہے گی۔(تیسیر القرآن)
ــــ لَا اُقْسِمُ۔ اقسامِ قرآنی کی حقیقت کے لیے ملاحظہ ہو ضمیمہ سورۃ الحجر(آیت: 73)(تفسیر ماجدی)
2۔ آدمی کا جی اول کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتاہے ۔ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا،اور بدی پر ابھارتاہے اسے نفسِ امارہ کہتے ہیں۔پھر ہوش پکڑا، نیک و بد سمجھ میں آیا تو باز آیا۔ کبھی غفلت ہوئی تو اپنی خو پر دوڑ پڑا ۔کچھ سمجھ آئی تو اپنے کئے پر پچھتانے اور ملامت کرنے لگا، اسے نفسِ لوّامہ(یاضمیر یا خدا کا ایجنٹ ) کہتے ہیں ۔پھر جب پورا سنور گیا ۔دل سے رغبت نیکی ہی پر ہوگئی ۔بے ہودہ کام سے خود بخود بھاگنے لگا اور بدی کے ارتکاب بلکہ تصور سے تکالیف پہنچنے لگی تو وہ نفسِ مطمئنہ ہوگیا۔)تفسیر عثمانی(
ــــ گناہ یا واجب میں کوتاہی پر ملامت تو ظاہر ہے ،حسنات اور نیک کاموں میں ملامت کی وجہ یہ ہے کہ اے نفس! تویہ نیکی اس سے زیادہ بھی تو کر سکتاتھا۔اس زیادتی سے کیوں محروم رہاہے۔)معارف القرآن(
ــــ یہ انسان کے اندر مخفی زاجر کی حیثیت رکھتاہے جو اس کو ،جب وہ کسی بدی کا ارتکاب کرتاہے، ملامت اور سرزنش کرتاہے۔یہ اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اس دنیا میں مطلق العنان اور غیر مسؤل بناکر نہیں چھوڑا گیا ۔انسان ایک عالم ِ اصغر ہے اس کے اندر نفسِ لوّامہ کا پایا جانا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس عالمِ اکبر کے اندر بھی ایک نفسِ لوامہ ہے جس کو قیامت کہتے ہیں ۔جدید فلسفۂ اخلاق کے ماہروں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ انسان کے اندر نیکی اور بدی کا احساس ہے۔لیکن وہ اس کی بنیاد نہ بتاسکے کہ نیکی نیکی کیوں ہے اور بدی بدی کیوں ؟انسان کی فطرت کے اندر ایک مخفی زاجر (ضمیر یانفسِ لوّامہ) رکھا ہے جو برائیوں کے ارتکاب پر اسے سرزنش کرتاہے اور نیکیوں پر اسے شاباش دیتاہے۔۔۔۔۔۔۔ نفس کے توازن کو قائم رکھنے کی تدبیر : اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ آدمی برابر اپنے رب اور روزِ جزاو سزا کو یاد رکھے ۔جس کے اندر یہ توازن پیدا ہوجائے قرآن نے اس کو نفس ِ مطمئنہ کہا ہےجو سب سے اونچا مرتبہ ہے جسے شریعت کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتاہے۔اسی نفس کو راضیۃ ً مرضیۃکا مقام حاصل ہوگاجو نفسِ انسانی کی معراج ہے۔اگر اس کا خالق لوگوں کی نیکی اور بدی دونوں سےبے تعلق ہوتاتو اس نے نیکی کی تحسین اور بدی کی سرزنش کیلئے انسان کے اندر یہ خلش کیوں اور کہاں سے ڈالدی؟۔(تدبرقرآن)
ــــ نفس انسانی کی تین حالتیں: ۔۔۔۔ 1۔جوعموماً بری باتوں کا ہی انسان کو حکم دیتاہے،یعنی نفس امارۃ۔۔۔۔2۔نفس لوامہ یا ملامت کرنے والا اور اسے ہی ہم آج کی زبان میں ضمیر کہتے ہیں۔۔۔۔3۔ نفس مطمئنہ جسےبرے کاموں سے نفرت اور چڑسی ہوجاتی ہے ۔اور بھلائی کے کاموں میں ہی اس کا دل لگتاہے۔انہی میں وہ اپنی خوشی اور اطمینان محسوس کرتاہے۔اسےنفس مطمئنہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
4۔ ہم ان کی ہڈیوں کو صرف جمع ہی نہیں کریں گے بلکہ اس قدرت و کمال کے ساتھ جمع کریں گے کہ ان کے جوڑ جوڑ پور پور کو ٹھیک کردیں گے۔"بنان" انگلیوں کے پور کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی حقیر سے حقیر جز و بھی جمع کرنے اور جوڑنے سے نہ رہ جائیگا۔(تدبرقرآن)
- شایدانگلیوں کے پوروں (بنان) کی تخصیص میں اس طرف اشارہ ہوکہ حق تعالیٰ نے ایک انسان کو دوسرے انسان سے ممتاز کرنے کیلئے اس کے بدن ہی میں ایسی خصوصیات رکھی ہیں جن سے وہ پہچاناجاتاہے۔مثلاً انسانی چہرہ ،آوازیں، زبان اور حلقوم ایک جیسےمگر مردو عورت کی آواز، انگوٹھے اور انگلیوں کے پورے ،نشان انگوٹھا ( عدالتی کارروائی کی بنیاد)۔آنکھ کی پتلی۔DNA وغیرہ۔(معارف القرآن)
5۔اس چھوٹے سے فقرے میں منکرین آخرت کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کردی گئی ہے۔ ان لوگوں کو جو چیز آخرت کے انکار پر آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اور آخرت کو ناممکن سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے اس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں۔۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
6۔یہ سوال استفسار کے طور پر نہیں بلکہ انکار اور استہزاء کے طور پر تھا۔ (تفہیم القرآن)
9۔یہ قیامت کے پہلے مرحلے میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بےنور ہوجانے اور سورج کے مل کر ایک ہوجانے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند کی روشنی ختم نہ ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بےنور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک الٹی چل پڑے گی اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ چاند یک لخت زمین کی گرفت سے چھوٹ کر نکل جائے گا اور سورج میں جا پڑے گا۔ ممکن ہے اس کا کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج ہم نہیں سمجھ سکتے۔ (تفہیم القرآن)
13۔۔۔۔۔۔ ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجی تھی اور یہ حساب بھی اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ اپنے اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدتہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
15۔یعنی آدمی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھنے کی غرض در حقیقت یہ نہیں ہوگی کہ مجرم کو اس کا جرم بتایا جائے، بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہوگا کہ انصاف کے تقاضے بر سر عدالت جرم کا ثبوت پیش کیے بغیر پورے نہیں ہوتے۔ ورنہ ہر انسان خوب جانتا ہے کہ وہ خود کیا ہے۔ اپنے آپ کو جاننے کے لیے وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اسے بتائے کہ وہ کیا ہے۔ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکہ دے سکتا ہے، لیکن اسے خود تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ایک چور لاکھ حیلے اپنی چوری چھپانے کے لیے اختیار کرسکتا ہے، مگر اس کے اپنے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں ہوتی کہ وہ چور ہے۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
16۔یہاں سے لے کر " پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے " تک کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیج میں توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن)
17۔ جمع سے مراد قرآن کو حضورؐ کے سینہ میں محفوظ کرنا بھی ہے اور ان منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرونا بھی چنانچہ نبی اکرمؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر رہنما ئی ملتی رہی کہ مختلف مواقع پر نازل ہونی والی آیات کو الگ الگ سورتوں میں کس ترتیب سے آپ جمع کرائیں(آخری آیت کے ساتھ قرآن جمع بھی ہوگیا۔حضورؐ نے خود بھی پڑھ کرسنادیا ، حضرت ِ جبرائیل سے ہر رمضان میں مذاکرہ بھی ہوتارہا۔آخری رمضان میں دودفعہ ،حضورؐ خود اس پر عمل کرتے رہے اور صحابہ بھی سنتِ رسول کے مطابق عمل کرتے رہے ۔الفاظ بھی محفوظ اور عمل بھی ) امامیہ/شیعہ کے کچھ جہلا کے بے بنیاد خیالات (ان کے علماء ان کے خلاف) ۔امام فراہی کے شیعہ علماءو مفسرین کے اقتباسات اور خوبصورت تجزیہ(87-89) شیعہ علما کا اپنے لوگوں پر غم و غصہ۔(تدبرقرآن)
ــــ اس زمانے میں نزول وحی کا نیا نیا تجربہ ۔ اس مقام کے علاوہ دومثالیں ۔ سورۂ طٰہٰ (114)،سورۂ اعلیٰ(6) ہم عنقریب تم کو پڑھوا دینگے اور پھر تم بھولوگے نہیں ۔ان تین مثالوں کے علاوہ پورے قرآن میں ایسی کوئی اورمثال نہیں ۔(تفہیم القرآن)
ــــ قرآن کا بیان کیا چیز ہے؟ ان آیات سے کئی اہم امور پر روشنی پڑتی ہے۔مثلاً یہ کہ اللہ نے صرف قرآن ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ قرآن کا بیان بھی نازل فرمایا ہے۔دوسرے یہ کہ جس طرح اللہ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔اس کے بیان کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ قرآن کا بیان ہے کیا چیز؟ توواضح رہے کہ محض قرآن کے الفاظ کو دہرادینے کا نام بیان نہیں بلکہ بیان میں ان قرآنی الفاظ کا مفہوم بتانا،اس کی شرح و تفسیر، اس کی حکمت عملی اور طریق بتانا سب کچھ شامل ہے۔قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نازل کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ اور جس پر نازل ہواہے یعنی رسول اللہؐ دونوں کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ زید(متکلم)بکر(مخاطب)سے کہتاہے کہ :"پانی لاؤ"تو بکر زید کے حکم کی تعمیل اسی صورت میں کرسکے گا کہ متکلم اور مخاطب دونوں کے ذہن میں "پانی"اور"لاؤ"دونوں الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ورنہ بکر زید کے حکم کی تعمیل کرنے سے قاصر رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کے الفاظ ہی نازل نہیں فرمائے بلکہ ان الفاظ کا مفہوم (بیان)بھی مخاطب(یعنی رسول اللہؐ )کے ذہن میں القاء کردیا۔یہ بیان بھی امت کو بتلانا رسول اللہؐ کی ذمہ داری تھی۔(44: 16)اب اگر کوئی شخص رسول اللہؐ کے فرمودہ بیان یعنی سنت رسولؐ سے آزاد ہوکر محض لغت کی روسے قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرے گاتو کبھی ہدایت نہیں حاصل کر سکے گا۔(تیسیرالقرآن)
ــــ محفوظیت و جامعیت متن قرآنی پر یہ آیت ایک مستقل نص کا کام دے رہی ہے،اشارۃً اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نزولِ وحی میں فرشتۂ جبرئیلؑ کا مقام تعلیم و افادہ کا نہیں، صرف تبلیغ و اعادے کا ہے۔جیسے جمعہ یا عیدین کی نماز میں مکبرّین ،امام کی تکبیر و تسبیح کو صرف دہرا دیتے ہیں،کسی اور حیثیت سے نائب امام نہیں۔(تفسیر ماجدی)
18۔ (اور یہ رسول کے ذریعے سے ہوگا)قرآن کو رسول تک بجنسہٖ پوری حفاظت کے ساتھ پہنچا دینا جو حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا تھا،اس کا انصرام توفرشتے کی وساطت سے ہوا۔ اب رہا دوسرا وعدۂ الٰہی یعنی قرآن کی تبیین و تشریح یہ کس کے ذریعہ سے ہوگی؟ یہ رسولؐ کے ذریعہ سے ۔۔۔ گویا حق تعالیٰ سے رسولؐ تک متنِ قرآن پہنچانے کا ذمہ دار تو فرشتۂ وحی ٹھہرا، اور رسول سے امت تک متنِ قرآن و شرحِ قرآن پہنچانے کے ذمہ دار رسول کریمؐ قرارپائے۔۔۔۔۔آج جس نوپیداگروہ نے رسول اللہؐ کی حیثیت صرف ایک خطوط رساں یا ڈاکیہ کی تسلیم کررکھی ہے،کاش اس آیت سے اس کی آنکھیں کھلتیں!۔ (تفسیر ماجدی)
19۔ یہ ایک بڑی اہم آیت ہے،اولاً(قرآن کے علاوہ بھی آپؐ پر وحی) ثانیاً (حضورؐ کا کام محض قرآن سنادینا ہی نہ تھا بلکہ اس کی تعلیم بھی اور عملی رہنمائی بھی۔سورۂنحل :44،البقرہ:129،151،آلِ عمران:164،الجمعہ:2۔ان کی تشریح۔سنت کی آئینی حیثیت:ص 74تا77) ثالثاً(عمل کیسے کیا جائے؟ مثلاً صلوٰۃ ،زکوٰۃ ،حج)رابعاً(حدیث و سنت کا ذخیرہ اور ثم انّ علینا بیانہ کا حق ادا ہوگیا)۔(تفہیم القرآن)
30۔ ضعف و بے بسی کی تعبیر کیلئے التفافِ سیاق (پنڈلی کا لپٹ جانا)نہایت موزوں تعبیر ہے۔مدعا کلام کا یہ ہے کہ جب معالج مریض سے مایوس،اعزہ و اقربادست بردار ،فرمانبردار اعضا قابو سے باہر ہوجائیں گے اور ایک بھاری بوجھ کے ساتھ اس کو رب کی طرف جانا ہوگا ،سہارا دینے والا کوئی نہ ہوگا ،تو اس وقت اس کا کیا حال ہوگا۔(تدبرقرآن)
دوسرا رکوع |
| فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ ﴿31﴾ وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ ﴿32﴾ ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ ﴿33﴾ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ ﴿34﴾ ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ ﴿35﴾ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ ﴿36﴾ اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ ﴿37﴾ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ ﴿38﴾ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ ﴿39﴾ اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ ﴿40ع القيامة 75﴾ |
| 31. تو اس (ناعاقبت اندیش) نے نہ تو (کلام خدا) کی تصدیق کی نہ نماز پڑھی۔ 32. بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا۔ 33. پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا۔ 34. افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے۔ 35. پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے۔ 36. کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟ 37. کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا؟ 38. پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اس کے اعضا کو) درست کیا۔ 39. پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک) مرد اور (ایک) عورت۔ 40. کیا اس خالق کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اُٹھائے؟ |
تفسیر آیات
31۔۔۔۔۔ضمناً آیت31 سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کی آیات کو سچا سمجھنے کی سب سے پہلی اور اہم علامت نماز کی ادائیگی ہے۔(تیسیر القرآن)
33۔مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا اس نے وہ سب کچھ سنا جو اوپر کی آیات میں بیان کیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ اپنے انکار ہی پر اڑا رہا اور یہ آیات سننے کے بعد اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ مجاہد، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ یہ شخص ابو جہل تھا۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایک شخص تھا جس نے سورة قیامہ کی مذکورہ بالا آیات سننے کے بعد یہ طرز عمل اختیار کیا ۔۔۔۔ ۔ ۔۔ (تفہیم القرآن)
35۔ مفسرین نے "اَوْلٰى لَكَ" کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ تف ہے تجھ پر۔ ہلاکت ہے تیرے لیے۔ خرابی، یا تباہی، یا کمبختی ہے تیرے لیے۔ لیکن ہمارے نزدیک موقع و محل کے لحاظ سے اس کا مناسب ترین مفہوم وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ " جب تو اپنے خالق سے کفر کرنے کی جرات کرچکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی کو یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے " یہ اسی طرح کا طنزیہ کلام ہے جیسے قرآن مجید میں ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں عذاب دیتے ہوئے مجرم انسان سے کہا جائے گا کہ" ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ" لے چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو "۔ (الدخان۔ 49) (تفہیم القرآن)
36۔عربی زبان میں اِبِل سُدَی اس اونٹ کے لیے بولتے ہیں جو یونہی چھوٹا پھر رہا ہو، جدھر چاہے چرتا پھرے، کوئی اس کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ اسی معنی میں ہم شتر بےمہار کا لفظ بولتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انسان نے اپنے آپ کو شتر بےمہار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خالق نے اسے زمین میں غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا ہو ؟ کوئی فرض اس پر عائد نہ ہو ؟ کوئی چیز اس کے لیے ممنوع نہ ہو ؟ اور کوئی وقت ایسا آنے والا نہ ہو جب اس سے اس کے اعمال کی باز پرس کی جائے ؟ یہی بات ایک دوسرے مقام پر قرآن مجید میں اسی طرح بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کفار سے فرمائے گا اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ۔ " کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں کبھی ہماری طرف پلٹ کر نہیں آنا ہے " ؟ (المؤمنون۔ 115) (تفہیم القرآن)
40۔۔۔۔۔۔متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کبھی بلٰی (کیوں نہیں) ، کبھی سبحنک اللھم فبلٰی (پاک ہے تیری ذات، خداوندا، کیوں نہیں) اور کبھی سبحانک فبلٰی یا سبحانک و بلٰی فرمایا کرتے تھے (ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو داؤود)۔ ابو داؤود میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تم سورة تین میں آیت اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ(کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟) پڑھو تو کہو بلٰی و انا علی ذلک من الشاھدین (کیوں نہیں، میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں)۔ اور جب سورة قیامہ کی یہ آیت پڑھو تو کہو بلیٰ ، اور جب سورة مرسلات کی آیت فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ (اس قرآن کے بعد یہ لوگ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟) پڑھو تو کہو امنّا باللہ (ہم اللہ پر ایمان لائے)۔ اسی مضمون کی روایات امام احمد، ترمذی، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی اور حاکم نے بھی نقل کی ہیں۔ (تفہیم القرآن)