70 - سورة المعارج (مکیہ)

رکوع - 2 آیات - 44

مضمون: عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو تنبیہ کہ مہلت سے غلط فہمی میں نہ پڑیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: قیامت کا وقت پوچھنے والوں کو قیامت پر ایمان لاکر ،دیگر اہلِ ایمان کی طرح،اپنی ذات میں اعلیٰ صفات پیدا کرنا چاہئیے۔دنیا پرست بخیلوں کو دوزخ کی آگ اپنی طرف کھینچے گی۔ اس سورت میں قریش کے معاشی رویوں پر بھی سخت گرفت کی گئی ہے۔

شانِ نزول: یہ سورت ،اعلان عام کے بعد حضورؐ کے قیام مکہ کے دوسرے دور (4تا5نبوی)کے آخر میں حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام (ذوالحجہ6نبوی)سے پہلے نازل ہوئی۔

نظمِ کلام: سورۂ الملک

ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1(عذاب آخرت اور نیکوکاروں کے اوصاف)(ii)ر۔2(کفار کی آخرت کے عیش کے بارے میں غلط فہمی)


پہلا رکوع

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ  ﴿1﴾ لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ  ﴿2﴾ مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ  ﴿3﴾ تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ  ﴿4﴾ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا ﴿5﴾ اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ  ﴿6﴾ وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ  ﴿7﴾ یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ  ﴿8﴾ وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ  ﴿9﴾ وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚ ۖ ﴿10﴾ یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ  ﴿11﴾ وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ  ﴿12﴾ وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ  ﴿13﴾ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ  ﴿14﴾ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ  ﴿15﴾ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚ ۖ ﴿16﴾ تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ  ﴿17﴾ وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى ﴿18﴾ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ  ﴿19﴾ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ  ﴿20﴾ وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ  ﴿21﴾ اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ  ﴿22﴾ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ  ﴿23﴾ وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ  ﴿24﴾ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ  ﴿25﴾ وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ  ﴿26﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ  ﴿27﴾ اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ ﴿28﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ  ﴿29﴾ اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ  ﴿30﴾ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ  ﴿31﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ  ﴿32﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ  ﴿33﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ  ﴿34﴾ اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَؕ۠   ﴿35ع المعارج 70﴾
1. ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا۔ 2. (یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا۔ 3. (اور وہ) خدائے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)۔ 4. جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے چڑھتے ہیں (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا۔ 5. (تو تم کافروں کی باتوں کو) قوت کے ساتھ برداشت کرتے رہو۔ 6. وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے۔ 7. اور ہماری نظر میں نزدیک۔ 8. جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا۔ 9. اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دھنکی ہوئی) رنگین اون۔ 10. اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان نہ ہوگا۔ 11. ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے (اس روز) گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دے دے یعنی اپنے بیٹے۔ 12. اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی۔ 13. اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا۔ 14. اور جتنے آدمی زمین میں ہیں (غرض) سب (کچھ دے دے) اور اپنے تئیں عذاب سے چھڑا لے۔ 15. (لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ 16. کھال ادھیڑ ڈالنے والی۔ 17. ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا۔ 18. اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا۔ 19. کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ 20. جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔ 21. اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔ 22. مگر نماز گزار۔ 23. جو نماز کا التزام رکھتے (اور بلاناغہ پڑھتے) ہیں۔ 24. اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔ 25. (یعنی) مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگے والے والا کا۔ 26. اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں۔ 27. اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ 28. بےشک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بےخوف نہ ہوا جائے۔ 29. اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ 30. مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے پر) انہیں کچھ ملامت نہیں۔ 31. اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔ 32. اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں۔ 33. اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں۔ 34. اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں۔ 35. یہی لوگ باغہائے بہشت میں عزت واکرام سے ہوں گے۔

تفسیر آیات

یہ سارا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین نہیں کیے جاسکتے۔ ہم نہ فرشتوں کی حقیقت جانتے ہیں، نہ ان کے چڑھنے کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں، نہ یہ بات ہمارے ذہن کی گرفت میں آسکتی ہے کہ وہ زینے کیسے ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہ تصور نہیں کیا سکتا کہ وہ کسی خاص مقام پر رہتا ہے، کیونکہ اس کی ذات زمان و مکان کی قیود سے منزہ ہے۔(تفہیم القرآن)

۔اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کا مفہوم:  یہ اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کی وضاحت ہے کہ اس کی بارگاہ بلند تک پہنچنے کے لیے فرشتوں اور جبرئیلؑ کو بھی پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔ ’معارج‘ کے معنی زینوں اور سیڑھیوں کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ وراء الوراء اور وراء الوراء ہے۔ اس تک رسائی کے لیے دوسروں کا تو کیا ذکر ملائکہ اور جبرئیلؑ تک کا یہ حال ہے کہ اس راہ کے مراحل طے کرنے کے لیے انھیں پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ لفظ یوم کی مختلف مدتیں:۔ یوم یعنی دن ۔یعنی غروب آفتاب سے لے کر اگلے دن کے غروب آفتاب تک کا وقت۔ لیل اور نہار کے وقت کا مجموعہ یا 24 گھنٹے کی مدت۔ اور یوم کی یہ مدت ہم اہل زمین کے لئے ہے۔ چاند پر یہ یوم ہمارے حساب سے تقریباً ایک ماہ کا ہے۔ عطارد(Mercury)پر یہ دن ہمارے 88 دنوں کے برابر ہے۔قطب شمالی اور جنوبی پر تقریباً ایک سال کا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا تو یہاں دن سے مراد مدت کا ایک طویل دور ہے جو ہمارے حساب سے لاکھوں سال کا بھی ہوسکتاہے۔قرآن میں ایک مقام پر یوم کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی گئی ہے۔رہی یہ بات کہ جبرئیل امین یا دوسرے فرشتے یا نیک لوگوں کی ارواح اس بلندیوں کے مالک تک پچاس ہزار سال میں چڑھتے ہیں۔تو یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ یہ بات خالصتاًصفات الٰہی سے تعلق رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی کون سی اسکیم یا منصوبہ کی تکمیل کے بعد فرشتے اور جبرائیل امین اس کی طرف اتنی مدت میں چڑھتے ہیں؟ اس کی جو بھی صورت پیش کریں گے وہ ناقص ہی ہوگی۔ اس کا ٹھیک مطلب اللہ ہی جانتاہے۔البتہ احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن کی مدت پچاس ہزار سال کی ہوگی۔یہی وہ دن ہوگا جس میں کافروں کو یقیناً عذاب دیا جائے گا۔یہ عذاب بلندیوں کے مالک کی طرف سے ہوگا اور کوئی طاقت کافروں کو اس عذاب سے بچانہ سکے گی۔(تیسیر القرآن)

۔اور آیت تنزیل السجدہ جس میں ایک ہزار سال کا دن بیان کیا گیا ہے اس کی ایک توجیہ تفسیر مظہری میں یہ بیان کی ہے کہ اس آیت میں جس دن کا ذکر ہے وہ دنیا ہی کے دنوں میں کا ایک دن ہے اس میں جبرئیل ؑ اور فرشتوں کا آسمان سے زمین پر آنا پھر زمین سے آسمان واپس جانا اتنی بڑی مسافت کو طے کرتا ہے کہ انسان طے کرتا تو اس کو ایک ہزار سال لگتے کیونکہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے آسمان سے زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے تو پانسو سال اوپر سے نیچے آنے کے اور پانسو واپس جانے کے یہ کل ایک ہزار سال انسانی چال کے اعتبار سے ہیں کہ بالفرض انسان اس مسافت کو قطع کرتا تو آنے اور جانے میں ایک ہزار سال لگ جاتے اگرچہ فرشتے اس مسافت کو بہت ہی مختصر وقت میں طے کرلیتے ہیں تو سورة سجدہ کی آیت میں دنیا ہی کے دنوں میں سے ایک دن کا بیان ہوا اور سورة معارج میں قیا مت کے دن کا بیان ہے جو ایام دنیا سے بہت بڑا ہوگا اور اس کی درازی اور کوتاہی مختلف لوگوں پر اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے مختلف محسوس ہوگی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم (معارف القرآن)

بعیداً۔قریباً ۔بعید سے مراد بعید از قدرت اور قریب سے مراد اندرونِ قدرت لی گئی ہے۔ (تفسیر ماجدی)

 11۔ یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہونگےکہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھ کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہوگا کہ کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ سورۂ عبس (34-37)میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔(تدبرقرآن)

18۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے اسلام کی مخالفت میں بخیل سب سے پیش پیش رہے ہیں ۔(تدبرقرآن)

19۔یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب اس کو پیدا ہی اس حال میں کیا ہے اور یہ عیب اس کی تخلیق میں رکھے ہیں تو پھر اس کا کیا قصور ہوا وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے سو اس میں حق تعالیٰ نے ہر خیر و صلاح کا مادہ اور استعداد بھی کھی ہے اور شر و فساد کی بھی۔ اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمایا اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کام کا انجام بھی بتلادیا تو اپنے اختیار سے مادہ شر و فساد کی پرورش کے اپنے اختیاری اعمال کو اس رخ پر ڈال دیا تو وہ مجرم ان اختیاری اعمال کی وجہ سے قرار پایا جو مادہ اس کی پیدائش میں ودیعت رکھا گیا تھا اس کی وجہ سے اس کو مجرم نہیں قرار دیا گیا جیسا کہ آگے هَلُوْعٌ کے معنی کی تشریح خود قرآن کریم نے کی ہے ان میں صرف افعال اختیار یہ کا ذکر فرمایا ہے۔ (معارف القرآن)

22۔ یہاں سے مومنین کے آٹھ اوصاف  کا تذکرہ شروع ہوتاہے:(i)پکے اور سچے نمازی(ii)سائل اور محروم کا حق اداکرنے والے(iii)انصاف کے دن پر یقین رکھنے والے(iv) اللہ کے عذاب سے ڈرنے والے(v)زنا سے بچنے والے(vi)امانتوں کو نباہنے والے(vii)عہدکوپوراکرنے والے(viii)شہادتوں پر قائم رہنے والے۔(تفسیر عثمانی)

23۔ ابوالخیر کہتے ہیں کہ ہم نے عقبہ بن عامر سے دریافت کیا کہ کیا اس آیت میں دائمون کا معنی پابندی سے نماز اداکرنا ہے انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس کا مطلب کسی کی طرف التفات نہ کرنا ہے۔ نمازی کو چاہئیے کہ اپنی نگاہ سجدہ گاہ پر مرکوز رکھے ۔اس سے حضور قلب حاصل ہوتاہے۔(ضیاء القرآن)

- فرمایا کہ اس مقصد کیلئے انہی نمازیوں کی نماز کارآمد ہے جو اپنی نماز وں کی مداومت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک نہایت اہم تنبیہ ہے ۔قرآن میں ایسے لوگوں کا بھی مختلف پیرایوں سے ذکر ہواہے جن کا حال یہ ہے کہ یوں تو ان کو کبھی ذکرِ الٰہی یا سجدہ کی توفیق نہیں ہوتی لیکن ان پر کوئی مصیبت آجائے تو بڑے نمازی اور بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے والے بن جاتے ہیں ۔نافع وہ نماز ہوتی ہے جس کی مداومت کیجائے۔ عمل کی یہی مداومت اس کے اندر قوت ،روح اور زندگی پیدا کرتی ہے۔(تدبرقرآن)

24۔ نماز کے بعد انفاق دین کا دوسرا بازوہے۔

- زمانۂ جاہلیت کے نیکوں کے اندر بھی زکوٰۃ کی ایک معینہ شکل معروف تھی چنانچہ اسی وجہ سے مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ کا لفظ باربار آیا ہے۔ ملتِ ابراہیم کی دوسری تعلیمات کی طرح یہ زکوٰۃ بھی بدعات کے حجاب میں گم تھی لیکن اس کا نام باقی تھا۔ اسلام نے اس کو اجاگر کیا اور از سرِ نو اس کی کامل صورت کو اسلامی معاشرے کے اندر نافذ کیا۔(تدبرقرآن)

- مقرر حق سے مراد فرض زکوٰۃ نہیں جس کے نصاب اور شرح مدینہ منورہ میں جاکر متعین ہوئے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حصہ طے کررکھا ہے جسے وہ ان کا حق سمجھ کر اداکرتے ہیں۔(تفہیم القرآن)

25۔ مَحْرُوْمٌ۔ لیکن یہ لفظ یہاں "سَائِلٌ" کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ وہ محروم ہونے کے باوجود لوگوں کے آگے دستِ سوال دراز کرنے کا ننگ گوارا نہیں کرتا۔خاص طورپر وہ مصیبت زدہ جو پہلے صاحبِ حیثیت رہے ہوں پھر گردش ِ روزگار کے ہاتھوں نانِ شبینہ کے محتاج ہوگئے ہوں ۔ان کی مدد ان کو تلاش کرکے بلکہ ان کے آگے جھک کے کرنی پڑتی ہے اس لئے کہ ان کی بلند ہمتی کسی کے آگے جھکنا گوارا نہیں کرتی۔علامہ اقبالؒ۔

گدائی میں بھی وہ اللہ والے   تھے غیور اتنے                                     کہ منعم کو گدا کے ڈرسے بخشش کا نہ تھا یارا(تدبرقرآن)

26۔ مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ نمازیوں کا ھلوع یا بدہمت نہ ہونا دلیل ہے اس کی کہ قوتِ قلب و تحمل ِ شدائد میں نماز کو دخل عظیم ہے اور اس اثر کا مشاہدہ بھی کیا جاسکتاہے۔(تھانوی،ج2/ص:697)(تفسیر ماجدی)

32۔ جو امانتیں ان کے سپرد کی جاتی ہیں وہ ان میں سے خیانت نہیں کرتے ۔امانتوں سے مراد ہمارے اعضاء ،ہمارے ہوش و حواس ،ہماری عقل  اور ہماری زندگی سب خدا کی امانتیں ہیں ۔ان کو اس کے حکم کے مطابق صرف کرنا دیانتداری ہے اور اس کی نافرمانی میں خرچ کرنا بددیانتی اور خیانت ہے۔اگر حکومت نے کوئی ذمہ داری کسی کو سونپی ہےتو اس کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق انجام دینا بھی اس میں داخل ہے۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرے گا تو وہ خائن ہوگا ۔اسی طرح کسی کا سامان، زیور وغیرہ کسی کے پاس بطورِ امانت ہے تو اسے عندالطلب جوں کا توں واپس کرنا۔نہ کرنے والا خائن اور بددیانت ہوگا۔(ضیاء القرآن)

33۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ ہمارے سامنے جو بھی تقریر فرماتے اس میں یہ بات ضرور ارشاد فرماتے : خبردار جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں ۔(تفہیم القرآن)

- جس طرح اوپر والی آیت میں امانت اور عہد کے الفاظ وسیع معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اسی طرح"شہادت" اس آیت میں وسیع معنوں میں استعمال ہواہے ۔ہر شخص چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی اس شہادت کے اداکرنے کا ذمہ دار ہے جس کا بار اس نے اپنے سر لیا ہے اور اس شہادت کبریٰ کے اداکرنے کا بھی ذمہ دار ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو لِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا(البقرہ2:143)والی آیت میں مامور فرمایاہے۔(تدبرقرآن)

۔ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم (معارف القرآن)

34۔ اور اب اسی پر اس باب کو ختم کیا کہ نماز ہی ان تمام نیکیوں کا منبع بھی ہے اور وہی ان کی محافظ بھی ہے۔ گویا تمام دین و اخلاق کیلئے نماز کی حیثیت  حصار کی ہے ۔ اس حقیقت کی وضاحت حضرت عمرؓ نے یوں فرمائی کہ جو اپنی نماز کو ضائع کردے گا وہ باقی دین کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کربیٹھے گا۔۔۔۔۔۔ یہاں اس پہلو پر بھی نگاہ رہے کہ اوپر والی نماز میں مداومت کا ذکر ہے اور اس آخری آیت میں اس کی محافظت کی تاکید ہے۔محافظت سے مراد نماز کو ان آفات و خطرات سے محفوظ رکھنا ہے جو اس کی افادیت کو برباد کردینے والے ہیں مثلاً اوقات کی پابندی یا جماعت کی حاضری کا اہتمام نہ رکھا جائے یا نماز کے ساتھ ایسے افعال کا ارتکاب کیا جائے جو اس کے مقصد کے منافی ہوں(مقصد: اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ) نہی و منکر سے نہ روکنے والی نماز بندے کو اللہ سے دور کردیتی ہے۔(تدبرقرآن)

ــــ سورۂ مومنون کی ابتدا میں فلاح پانے والے ایمانداروں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جو بہت حدتک انہی صفات سے ملتی جلتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں سورۂ مومنون میں ان صفات کی ابتداء بھی نماز سے ہوئی تھی اور انتہا بھی نماز پر ہی ہوئی۔اور اس مقام پر بعینہٖ وہی صورت ہے جس سے دین میں نماز کی اہمیت کا ٹھیک طورپر اندازہ کیا جاسکتاہے۔(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ  ﴿36﴾ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ ﴿37﴾ اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ  ﴿38﴾ كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ ﴿39﴾ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ  ﴿40﴾ عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ﴿41﴾ فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ  ﴿42﴾ یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ  ﴿43﴾ خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ ﴿44ع المعارج 70﴾
36. تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ 37. اور) دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر (جمع ہوتے جاتے ہیں)۔ 38. کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔ 39. ہرگز نہیں۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔ 40. ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں۔ 41. (یعنی) اس بات پر (قادر ہیں) کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں اور ہم عاجز نہیں ہیں۔ 42. تو (اے پیغمبر) ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آ موجود ہو۔ 43. اس دن یہ قبر سے نکل کر (اس طرح) دوڑیں گے جیسے (شکاری) شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں۔ 44. ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

تفسیر آیات

37۔یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور تلاوت قرآن کی آواز سن کر مذاق اڑانے اور آوازے کسنے کے لیے چاروں طرف سے دوڑ پڑتے تھے۔ (تفہیم القرآن)

42۔ خَوضٌ وَّ لَعِبٌ۔ یہ دو فعل قرآن مجید میں باربار ایک ساتھ آئے ہیں، اس سے دونوں کا باہمی تعلق ظاہر ہے۔عربی کا خوض  اُردو کاخوض نہیں جو غور کے ساتھ عطف ہو کر آتاہے بلکہ یہ وہ خوض ہے جس کے مفہوم میں بیہودگی بھی شامل ہے۔(تفسیر ماجدی)

43۔ اصل الفاظ ہیں اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ۔ نصب کے معنی میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ان میں سے بعض نے اس سے مراد بت لیے ہیں اور ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ  محشر کی مقرر کی ہوئی جگہ کی طرف اس طرح دوڑے جا رہے ہونگے جیسے آج وہ اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑتے ہیں۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ نشان لیے ہیں جو دوڑ کا مقابلہ کرنے والوں کے لیے لگائے جاتے ہیں تاکہ ہر ایک دوسرے سے پہلے مقرر نشان پر پہنچنے کی کوشش کرے۔  (تفہیم القرآن)