7 - سورة الأعراف (مکیہ)
| رکوع - 24 | آیات - 206 |
شان نزول: سورۂ انعام کے ساتھ ، حضورؐ کے آخری مکی دور کے آخر پر۔
نظمِ سورت: سورۂ انعام۔
مضمون: قریش کو انذار کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو تم خدا کے عذاب کی زد میں ہو۔ تم اس انجام سے نہیں بچ سکتے جس سے پچھلی قومیں رسولوں کی تکذیب کرکے دوچار ہوئیں۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: سورۂ انعام کا جوڑا ۔اس لئے مرکزی مضمون تقریباً وہی مگر انداز مختلف ( وہاں قریش کو توحید و رسالت کی دعوت ،یہاں انذار)۔صاف صاف قریش کو دھمکی۔اس کے ساتھ یہودکو بھی لے لیا اور ان کو بھی آخری تنبیہ ۔۔۔۔۔آخر میں عہدِ فطرت (عہدالست) کو بنیاد قراردیکر انذار کے مضمون کو آخری نتائج تک پہنچا دیا۔(تدبر قرآن)
ـــ قانون ِ ہلاکت،قانون ِ استبدال اقوام ،چھ رسولوں کی دعوت اور ان کی اقوام کی ہلاکت سے عبرت،توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہوئے ،خاتم الانبیاءؑ پر ایمان لانے کی دعوت۔
- ایک جگہ تمام دنیا کے لوگوں سے بھی خطاب کیا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اب ہجرت قریب ہے اور وہ دور جس میں نبی کا خطاب تمام تر اپنے قریب کے لوگوں سے ہواکرتاہے،خاتمہ پر آلگاہے۔(تفہیم القرآن)
ترتیب مطالعہ: سورۂ اعراف فہم ِ قرآن کا ایک بہترین نمونہ اور اسلوب ِ قرآن کا ایک نہایت عمدہ ماڈل ہے۔
(i) رکوع۔1 تا 7: نزول قرآن کا مقصد انذار و تذکیر ہے،اور منکرین کا انجام ۔
رکوع۔1: دعوت حق کی راہ میں چلنے والوں کو نصیحت اور مشرکین عرب کو انکار اور بد عملی کے نتائج سے آگاہی۔ رکوع۔2: حضرت ِ آدم کی تخلیق ،آزمائش اور دنیوی زندگی ۔ رکوع۔3: انسان کی زینت لباسِ تقویٰ ہے، بے حیائی کا لباس شیطانی عمل ہے۔ رکوع۔4: رہبانیت کا رد، حلال کو حرام نہ کرو،گمراہ قوموں کا انجام۔ رکوع۔5: اہلِ جنت و دوزخ اور اعراف والے۔ رکوع۔6: جنت و دوزخ والوں کا مکالمہ ،دوزخیوں کی حالتِ زار اور مکافاتِ عمل۔ رکوع۔7: توحید ِ ربوبیت سے قرآنی دعوت پر استدال۔
(ii) رکوع۔8 تا 11: دعوتِ انبیا کا انکار کرنے والی قوموں پر عذاب اور آنے والی قوموں کےلئے عبرت ۔پانچ اقوام کا تذکرہ(قومِ نوح ،حضرت ِ ھود ؑ کی قومِ عاد، حضرت صالحؑ کی قوم ِ ثمود،قوم ِ لوط ؑ اور قومِ شعیب )۔
(iii)رکوع۔12تا13:(آیت :102تک) رسولوں کی دعوت کا انکار کرنے والی اقوام کے انجام کا فلسفہ ۔
(iv)رکوع۔13: آیت : 103 تا 108)اور 14 تا21 ( تقریباً2/1-8 رکوع) حضرت موسیٰؑ کا تفصیلی قصہ۔اطلس القرآن کے مطابق حضرت ِ موسیٰ کا نام قرآن میں 136دفعہ۔ اطلس کے ص130 میں تفصیلات دی گئی ہیں مثلا حضرت موسٰی کا ذکر(اعراف:20 آیات ،القصص:18 آیات ،طٰہٰ۔17آیات) میں آیا ہے۔- 2/1-8 رکوعوں کے درمیان میں ( آیات : 156 تا 158) میں حضرت ِ موسیٰ کی دعا اور حضوراکرمؐ کا تذکرہ۔
(v) رکوع۔22تا 24 : اختتامِ سورۂ ۔۔۔عہدالست (عہدِ فطرت) کو فراموش کرنے کا انجام (رکوع۔ 22) ۔اللہ کی نشانیاں اور حضورؐ کا حقیقی مقام (رکوع۔23) ۔ داعیانِ حق کے حقیقی اوصاف اور قرآن کی پُرحکمت باتیں(رکوع۔24)
سورۂ کی خصوصیات:آیت نمبر 34 میں"وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجلٌ"کے الفاظ سے ہلاکت ِ اقوام کے بارے میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ،افرادکی طرح،اقوام کی موت کا وقت بھی مقررہے،جس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوتی۔۔۔سورۂ "الاعراف"نظم کے اعتبار سے سورۂ"ھود"سے مشابہ ہے ۔دونوں کے آٹھ پیرا گراف ہیں ۔دونوں میں تمہید و اختتامیے کے درمیان چھ قوموں کی جانشینی اور ہلاکت کے سچے واقعات بیان کرکے اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہلاکت اور قانون استبدال سمجھا یا گیا ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
پہلا رکوع |
| الٓمّٓصٓۚ ﴿1﴾ كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ ﴿2﴾ اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ ﴿3﴾ وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ ﴿4﴾ فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ﴿5﴾ فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ ﴿6﴾ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ ﴿7﴾ وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿8﴾ وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ ﴿9﴾ وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿10ع الأعراف 7﴾ |
| 1. المص۔ 2. (اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ 3. (لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ 4. اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے۔ 5. تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے۔ 6. تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے۔ 7. پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔ 8. اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں۔ 9. اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔ 10. اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔ |
تفسیر آیات
1۔ شیخ رشید رضا مصری نے لکھا ہے کہ یہ حروف بہ طور کلمہ تنبیہ 'ألا' یا 'ھا' سامعین کو مخاطب کرنے اور حاضرین کو چونکانے کیلئے ہوتے ہیں ،اور یہ معلوم ہے کہ نزول کے وقت رسول اللہؐ سورتوں کو بہ طورخطبہ زبانی ہی سناتے تھے ،بہ طورکتاب پڑھنے کی صورت تو بہت بعد کوپیداہوئی ،شیخ موصوف نے یہ بھی کہاہے کہ حروف مقطعات سے شروع ہونے والی سورتیں مکی ہی ہیں ،جن میں مشرکین کو دعوتِ توحید دی گئی ہے،اور دو مدنی سورتیں(البقرہ ،آل عمران)جو ان حروف سے شروع ہوئی ہیں،ان میں بھی اہل کتاب کیلئے دعوتی پہلوغالب ہے۔ (تفسیرماجدی)
ــــ قریش کی مخالفت کے شباب کے زمانہ میں نبیؐ کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ مبادا میری ہی کوئی کوتاہی ہو جس کے سبب سے یہ لوگ اتنی صاف اور واضح حقیقت کے قائل نہ ہورہے ہوں۔قرآن نے ابتدائے سورہ ہی میں آپ کے لئے تسلی و تسکین کا مضمون رکھ دیا ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
2۔ انذار (ڈراوا) اور تذکیر (یاددہانی)
-ذکر کا معنی ہے صرف یادکرنا لیکن ذکریٰ کا معنی ہے بہت زیادہ اور بار بار یادکرانا۔(ضیاء القرآن)
- یہاں کتاب سے مراد یہی سورہ اعراف ہے اور قرآن میں جب کبھی سورہ کے ابتداء میں کتاب کا لفظ آتاہے تو اس کا معنی وہ سورت ہی ہوتاہے گویا قرآن کریم کی ہر سورۂ ایک مستقل کتاب ہے جو اپنی ذات میں مکمل ہے اور قرآن ایسی ہی ایک سوچودہ کتابوں (یاسورتوں) کا مجموعہ ہے جیساکہ سورہ "البینہ "میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا"رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً، فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌ"(98: 2، 3)پھر لفظ کتاب کا اطلاق پورے قرآن پر بھی ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
۔ مطلب یہ ہے کہ اس سورۃ کا اصل مقصد تو ہے انذار یعنی لوگوں کو رسول کی دعوت قبول نہ کرنے کے نتائج سے ڈرانا اور غافلوں کو چونکانااور متنبہ کرنا ، رہی اہلِ ایمان کی تذکیر (یاددہانی) تو وہ ایک ضمنی فائدہ ہے جو انذار کے سلسلہ مین خود بخود حاصل ہو جاتا ہے۔(تفہیم القرآن)
3۔ آیت 3 اس سورۃ کا مرکزی مضمون ہے۔ (تفہیم القرآن)
4۔ یعنی عموماً ایسے وقت جب وہ غفلت اور بے فکری میں پڑے تھے،ان دووقتوں کی تصریح اس لئے کی گئی کہ یہی دووقت عموماً غفلت و بے خبری کے ہوتے ہیں۔۔۔اَوْ هُمْ قَآىٕلُوْنَ۔ قائل قیلولہ کرنے والے کے معنی میں ہے اور قیلولہ کہتے ہیں دوپہر میں آرام کرنے کو۔(تفسیرماجدی)
6۔ بعد والی آیت کے ساتھ لفظ "پس" کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ، گویا اس دنیوی عذاب کا بار بار واقع ہونا آخرت کی باز پرس کے یقیناً واقع ہونے پر ایک دلیل ہے۔ (تفہیم القرآن)
7۔فیصلہ کرنے کیلئے شہادت:۔ اور دوسری بات یہ مستنبط ہوتی ہے کہ قاضی محض اپنے علم کی بناپر مقدمے کا فیصلہ نہیں دے سکتا بلکہ فیصلہ اور سزا شہادتوں کی بناپر ہی دیے جاسکتے ہیں اور اس کی دلیل یہ واقعہ ہے کہ دورنبویؐ میں مدینہ میں ایک فاحشہ عورت رہتی تھی لوگوں کی اس کے ہاں آمد و رفت کی وجہ سے اس کی فحاشی کھل کر سامنے آچکی تھی اور زبان زدعام تھی اس کے متعلق ایک دفعہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ"اگر شہادتوں کا نصاب اور نظام نہ ہوتاتو میں اس عورت کو رجم کردیتا"(بخاری، کتاب الطلاق ۔باب لوکنت راجما بغیر بینہ)(تیسیر القرآن)
8۔ دنیا میں وزن تولنے کےلئے نئے نئے آلات ایجاد ہوچکے ہیں جن میں نہ ترازو کی ضرورت ہے نہ اس کے پلّوں اور نہ ڈنڈااور کانٹے کی ۔آج تو ان آلات کےذریعے وہ چیزیں بھی تولی جاتی ہیں جن کے تولنے کا آج سے پہلے کسی کو تصور بھی نہ تھا ۔ہوا تو لی جاتی ہے ،بجلی تو لی جاتی ہے، سردی گرمی تو لی جاتی ہے ۔ان کا میٹر (یا تھرمامیٹر) ان کی ترازو ہوتی ہے اگر حق تعالیٰ اپنی قدرت ِ کاملہ سے انسانی اعمال کا وزن کرلیں تو اس میں کیا بعید ہے۔ اس کے علاوہ خالقِ کائنات کو اس پر بھی قدرت ہے کہ ہمارے اعمال کو کسی وقت جو ہری وجود اور کوئی اور شکل و صورت عطافرمادیں۔ ۔۔۔
- اہم۔حضرت ابوہریرہ کی وہ حدیث جس پر امام بخاری نے اپنی کتاب کو ختم کیا ہے اس میں یہ ہے کہ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پربہت ہلکے ہیں مگر میزان ِ عمل میں بہت بھاری اور اللہ کے نزدیک محبوب ہیں ۔اور وہ کلمے ہیں۔"سُبْحَانَ اللہ وَ بِحَمْدِهٖ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِيمِ"۔۔۔۔۔ابوداؤد ،ترمذی اور ابنِ حیان نے سندِ صحیح کے ساتھ ابودرداء سے نقل کیا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ میزانِ عمل میں حسنِ خلق کے برابر کوئی عمل وزنی نہیں ہوگا۔(معارف القرآن)
۔ اعمال کا وزن حق کے ساتھ کیسے؟:۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں "وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذٍ ﹰالْحَقُّ"(یعنی اس دن وزن صرف حق یا حقیقت کا ہوگا)یعنی جتنی کسی عمل میں حقیقت ہوگی اتنا ہی وہ عمل وزنی ہوگامثلاً ایک شخص اپنی نماز نہایت خلوص نیت سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئےاس کی رضامندی چاہتے ہوئے ،خشوع و خضوع کے ساتھ اداکرتاہے تو اس کا یہ عمل یقیناً اس شخص کی نماز سے بہت زیادہ وزنی ہوگا جس نے اپنی نماز بے دلی سے، سستی کے ساتھ اور دنیوی خیالات میں مستغرق رہ کراداکی اورجس عمل میں حق کا کچھ حصہ نہ ہوگا اس کا وزن کیا ہی نہیں جائے گا۔۔۔(تیسیر القرآن)
10۔ "تمکین فِی الْاَرْضِ" سے مراد زمین میں اختیار واختیار بخشنا ہے۔ ۔۔۔خطاب چونکہ قریش سے ہےاس وجہ سے اس سے مراد یہاں سر زمینِ حرم ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ان تمام آیات و روایات کا حاصل یہ ہے کہ مومن مسلمان کا پلہ بھی کبھی بھاری کبھی ہلکا ہو گا۔ اس لیے بعض علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں وزن دو مرتبہ ہو گا۔ اول کفر و ایمان کا وزن ہو گا، جس کے زریعہ مومن ، کافر کا امتیاز کیا جائے گا ۔ اس وزن میں جس کے نامہ اعمال میں کلمہ ایمان بھی ہےاس کا پلہ بھاری ہو جائے گا، اور وہ کافروں کے گروہ سے الگ کر دیا جائے گا، پھر دوسرا وزن نیک و بد اعمال کا ہو گا، اس میں کسی مسلمان کی نیکیاں کسی کی برائیاں بھاری ہوں گی، اور اسی کے مطابق اس کوسزا و جزا ملے گی۔ اسی طرح تمام آیات اور روایات کا مضمون اپنی اپنی جگہ درست اور مربوط ہو جاتا ہے۔ (بیان القرآن) (معارف القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ﴿11﴾ قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ ﴿12﴾ قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ ﴿13﴾ قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ﴿14﴾ قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ﴿15﴾ قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ ﴿16﴾ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ ﴿17﴾ قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ ﴿18﴾ وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ﴿19﴾ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ ﴿20﴾ وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ ﴿21﴾ فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ﴿22﴾ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿23﴾ قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ ﴿24﴾ قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿25ع الأعراف 7﴾ |
| 11. اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا۔ 12. (خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔ 13. فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے۔ 14. اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔ 15. فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔ 16. (پھر) شیطان نے کہا مجھے تو تُو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا۔ 17. پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا (اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ 18. (خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ 19. اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے۔ 20. تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ 21. اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔ 22. غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ 23. دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔ 24. (خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے۔ 25. (یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے۔ |
تفسیر آیات
تفسیر آیات:
11۔ تخلیق آدمؑ اور نظریہ ارتقاء:۔ اس آیت سے جو یہ معلوم ہوتاہے کہ سیدنا آدمؑ کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کے حکم سے پہلے انسانوں کی ْتخلیق ہوچکی تھی اور شکل و صورت بھی بنادی گئی تھی تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت سیدنا آدمؑ کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کی ارواح پیدا کی گئی تھیں اور ان روحوں کو وہی صورت عطاکی گئی تھی جو اس دنیا میں آنے کے بعد اس روح کے جسم کی ہوگی اور انہیں ارواح ہی سے اللہ تعالیٰ نے عہد"اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ"لیاتھا۔جسم میں روح کی یا روح کے جسم میں موجود ہونے کی مثال یوں دی جاتی ہے جیسے زیتون کے درخت میں روغن زیتون یا کوئلہ میں آگ یا جلنے والی گیس اور بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ سیدنا آدمؑ کو اپنی تمام اولاد کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہاں "کم"کی ضمیر بطور جمع و مذکر مخاطب استعمال ہوئی ہے یعنی اس وقت صرف سیدنا آدمؑ کو بناکر پھر اسے صورت عطاکرکے فرشتوں کو یہ حکم دیا تھا۔ اس مقام پر یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے قائل ہیں اور انسان کو اسی ارتقائی سلسلہ کی آخری کڑی قراردیتے ہیں وہ اسی آیت سے اپنے نظریہ کے حق میں استدلال کرتے ہیں اور ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ آیت مذکورہ میں جمع کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ آدم سے پہلے بنی نوعِ انسان موجود تھی کیونکہ آدم کو ملائکہ کے سجدہ کا ذکر بعد میں ہواہے۔نیز اسی سورہ کی اگلی آیات(11 سے 25 تک)کی طرف توجہ دلاتے ہیں جہاں کہیں تو آدم اور اس کی بیوی کیلئے تثنیہ کا صیغہ آیا ہے لیکن اکثر مقامات پر جمع کا صیغہ استعمال ہواہے۔ ۔۔۔نظریہ ارتقاء کی مزید تفصیلات کیلئے سورۂ حجر کی آیت نمبر 29 کا حاشیہ نمبر 19ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)
۔سورة بقرہ میں حکم سجدہ کا ذکر جن الفاظ میں آیا ہے ان سے شبہ ہوسکتا تھا کہ فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم صرف آدم ؑ کی شخصیت کے لیے دیا گیا تھا۔ مگر یہاں وہ شبہ دور ہوجاتا ہے۔ یہاں جو انداز بیان اختیار کیا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آدم ؑ کو جو سجدہ کرایا گیا تھا وہ آدم ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ نوع انسانی کا نمائندہ فرد ہونے کی حیثیت سے تھا۔(تفہیم القرآن)
۔ یہاں خلق اور تصویر کے دو لفظوں نے تخلیق کی ابتدائی اور انتہائی دونوں حدیں واضح کردیں۔ ہر مخلوق کا مرحلہ ابتدائی تو یہ ہے کہ اس کا خاکہ بنا اور اس کا آخری و تکیلی مرحلہ یہ ہے کہ اس کی صورت گری ہوئی اور اس کے ناک نقشے اور نوک پلک درست ہوئے۔۔۔۔۔دوسرے اہم مسائل پر ہم بقرہ کی تفسیر میں گفتگو کرچکے ہیں۔ وہاں ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ابلیس، اس جن کا لقب ہے جس نے باوا آدم کو دھوکا دیا۔ یہ جنات میں سے تھا اور خدا کی نافرمانی کر کے سرکش بن گیا۔ جنوں اور انسانوں میں سے جو لوگ اس کے پیرو بن جاتے ہیں وہ سب اس کی معنوی ذریت ہیں۔ ایسے ہی جنوں اور انسانوں کے لیے قرآن میں شیطان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ شیطان، جیسا کہ بقرہ کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا، کوئی مستقل بالذات مخلوق نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔جس طرح سورہ بقرہ میں یہود کی روش پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کو آدم و ابلیس کی ابدی دشمنی کا ماجرا سنایا تھا اسی طرح یہاں وہی ماجرا قریش کو سنایا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ تم نے اپنے پروردگار کے بجائے شیطان کی پیروی کی اور اس نے جن جن فتنوں میں تم کو مبتلا کرنا چاہاتم ان سب میں مبتلا ہوگئے ۔حالانکہ اس نے اولاد آدم سے انتقام لینے کا جو عہد کررکھا ہے اس کو اس نے مخفی نہیں رکھا اور وہ تمہارا علانیہ دشمن ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
13۔شیطان کی سرکشی کی بنیاد اس گھمنڈ پرتھی کہ شرف و عزت کا تعلق نسل و نسب سے ہے اور اس اعتبار سے وہ انسان سے اشرف ہے۔اللہ کے ہاں جو چیز سبب عزت و سرخروئی ہے وہ صرف اللہ کے حکم کی اطاعت ہے۔جو کوئی خدا کے حکم سے سرکشی کرکے تکبر میں مبتلا ہوتاہے اس کے لیے خدا کی بہشت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔(ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
16۔ اصل مقابلہ شیطان اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ خدا اور شیطان کے درمیان ہےفَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ، (بوجہ اس کے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا) (تدبرِ قرآن)
17۔ رب العزت کی بارگاہِ قدس میں فرشتوں اور رسولوں کو بھی ہیبت و جلال کی بناء پر مجالِ دم زدنی نہیں تھی، ابلیس کو ایسی جرات کیسے ہوگئی، علماء نے فرمایا کہ یہ قہرِ الہی کا انتہائی سخت مظہر ہے کہ ابلیس کے مردود ہو جانے کے باعث ایک ایسا حجاب حائل ہو گیا، جس نے اس پر حق تعالیٰ کی عظمت و جلال کو مستور کر دیا اور بے حیائی اس پر مسلط کر دی (بیان القرآن ملخصاً و موضحاً) (معارف القرآن)
21۔۔۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جب اللہ نے اس درخت کے قریب جانے سے سیدناآدمؑ وحواکو منع کردیا تھا تو پھر وہ کیسے شیطان کے دام میں پھنس گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مدتوں گزرچکی تھیں کہ آدم و حوا دونوں عیش و آرام سے جنت میں رہ رہے تھے اور انہیں اس درخت کے پاس آنے کا کبھی خیال ہی نہ آیاتھا۔حتیٰ کہ اللہ کا یہ حکم انہیں بھول ہی گیا تھا اس وقت شیطان کو اس نافرمانی پر اکسانے کا موقع مل گیا۔جیساکہ قرآن کریم کی اس آیت سے واضح "فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا"(20: 115)"پھر آدمؑ اللہ کا حکم بھول گئے اور ہم نے اس میں نافرمانی کا کوئی ارادہ نہ پایا۔"(تیسیر القرآن)
- (دل وجان سے، اور جو کچھ بھی کہوں گا ایک مخلص ہی کی حیثیت سے)یعنی قسمیں کھا کھاکر خوب باتیں بنائیں ،اور اپنے اخلاص و خیر خواہی کا خوب یقین دلایا،آدمؑ اور حوا جنتی بندے اپنے اوپر قیاس کرکے یہ خیال ہی نہیں کرسکتے کہ کوئی اللہ کانام جھوٹی قسم کے سلسلہ میں لےسکتاہے یہ قسما قسمی بھی اسی وسوسہ شیطانی کا ایک جزء تھی ۔۔۔(تفسیر ماجدی)
22۔ ان پتوں کے نام ہمارے ہاں کی بھی بعض تفسیری روایتوں میں انجیر اور زیتون اور کیلے کے درختوں کے لئے گئے ہیں ،لیکن حق یہ ہے کہ قرآن مجید اور حدیث صحیح دونوں اس باب میں بالکل خاموش ہیں۔۔۔ دَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ۔ادلاء کے معنی اوپر سے نیچے لانے کے ہیں، یہ اتار اور تنزل مرتبہ و حیثیت کے اعتبار سے بھی ہوسکتاہے،اور مکان مادّی کے اعتبار سے بھی۔۔۔خلاصہ یہ کہ اس فریبیے کے دھوکے میں آکر آدمؑ اپنی رائے عالی سے اس کی رائے سافل کی طرف مائل ہوگئے ،جس سے جنت سے اسفل کی طرف اتاردئیے گئے۔۔۔بغرور نے اسے بالکل صاف کردیا کہ آپؑ سے لغزش جو کچھ بھی ہوئی ایک مکار کے کہے میں آجانے سے ہوئی ،نہ کہ کسی قصد نافرمانی سے ۔(تفسیر ماجدی)
ـــــ اولاد آدم کے ساتھ اس دنیا میں بھی شیطان اسی تکنیک پر عمل کررہاہے۔اس دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے مباح ہے ،صرف گنتی کی چند چیزیں ممنوع ہیں۔شیطان انہی ممنو ع چیزوں کے بارے میں وسوسہ اندازی کرکے لوگوں کو باور کراتاہے کہ تمہاری ساری کامیابی و ترقی کا راز ان ممنوع چیزوں کے اندر مضمر ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستر کا احساس انسان کے اندر بالکل فطری ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں محض عادت کی پیداوار ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ (تدبرِ قرآن)
23۔ قرآن میں کہیں نہیں کہ شیطان نے حضرت حوا کو بہلایا پھسلایااور انہوں نے حضرت آدم کو۔۔۔۔۔ اسرائیلیات اور نصرانیات میں عورتوں کا درجہ کمتر سمجھا گیا ہے۔۔۔۔۔اس آیت سے پہلے حضرت آدم کے تذکرہ میں مسلسل تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔(بیان القرآن)
-توبہ سے حضرت آدم نے ہاری ہوئی بازی جیت لی :"قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا" یہ آدم و حوا کی وہ توبہ ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مذکور ہ بالا تنبیہ کے بعد کی۔اس توبہ کا ذکر سورۂ بقرہ میں بھی گزرچکا ہے۔وہاں ہم نے تفصیل سے اس پر بحث کی ہے ۔اس توبہ سے آدم نے ہاری ہوئی بازی پھر جیت لی۔ ابلیس کے متعلق تو اوپر گزرچکا ہے کہ وہ خدا کی نافرمانی کرکے تنبیہ کے باوجود، اکڑگیا لیکن آدم و حوا نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کیا، خدا سے معافی مانگی اور بقرہ میں تصریح گذرچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور ان پر رحم فرمایا اور اس طرح آدم نے اپنے عمل سے اپنی ذریت کیلئے مثال قائم کی کہ اگر شیطان کے ورغلانے سے انسان کوئی ٹھوکر کھا جائے تو اس کے نتائج سے بچنے کی راہ توبہ ہے۔(تدبرقرآن)
- ابلیس و آدمؑ کے خصائل کا فرق:۔ان آیات سے شیطان اور آدم کی سرشت کا فرق معلوم ہوجاتاہے جو یہ ہے کہ (1)ابلیس نے اللہ کی نافرمانی عمداً کی جبکہ آدمؑ سے بھول کر ہوئی۔(2)ابلیس سے باز پرس ہوئی تو اس نے اعتراف کرنے کی بجائے تکبر کیا اور اکڑ بیٹھا اور آدم سے ہوئی تو انہوں نے اعتراف کیا اور اللہ کے حضورتوبہ کی۔(3)ابلیس نے اپنی نافرمانی اور گمراہی کا الزام اللہ کے ذمے لگادیا جبکہ آدم نے یہ اعتراف کیا کہ واقعی یہ قصور ہماراہی تھا۔ (4)ابلیس انہی جرائم کی وجہ سے بارگاہ الٰہی سے ہمیشہ کیلئے ملعون اور راندہ ہواقرارردیا گیا اور آدم اپنی غلطی کے اعتراف اور توبہ کی وجہ سےمقرب بارگاہ الٰہی بن گئے اور انہیں نبوت عطا ہوئی۔(تیسیر القرآن)
24۔یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر اللہ کی مشیت ہی یہی تھی کہ آدم و حوا اور ان کی اولاد زمین میں آباد ہواور شیطان ان کا دشمن بن کر آدم اور اولاد آدم کو گمراہ کرتارہے اور ان کے درمیان محاذ آرائی کا عمل جاری رہے اور اس طرح اس دنیا کو بنی آدم کیلئے دارالامتحان بنایا جائے تو پھر آخر اس قصہ آدم و ابلیس میں ابلیس کا یا آدم کا قصور ہی کیا تھا ہونا تووہی تھا جو اللہ کی مشیت میں تھا۔پھر آدم و ابلیس اللہ کی نافرمانی کے مورد الزام کیوں ٹھہرائے گئے؟۔۔۔اللہ کی مشیئت اور تقدیر کا مسئلہ:۔ اس طرح کے سوالات قرآن کریم پر اور بھی متعدد مقامات پر پیدا ہوتے ہیں جیسے اسی سورہ میں ایک مقام پر فرمایا کہ"ہم نےجنوں اور انسانوں کی اکثریت کو جہنم کیلئے پیدا کیا ہے"(7: 179)یہاں بھی یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جب جنوں اور انسانوں کی اکثریت کو پیدا ہی جہنم کیلئے کیا گیا ہے تو پھر اس میں جنوں اور انسانوں کا کیا قصور ہے؟ اسی طرح احادیثِ صحیحہ میں بھی یہ مضمون بکثرت وارد ہے مثلاً جب شکم مادر میں روح پھونکی جاتی ہے تو ساتھ ہی فرشتہ یہ بھی لکھ دیتاہے کہ یہ شخص جنتی ہوگا یا جہنمی ۔اور ایسے مقامات کتاب و سنت میں بے شمار ہیں۔ ۔۔۔۔جہاں انسان یہ سوچتا ہے کہ ہم تو قدرت کے ہاتھ میں محض کھلونے ہیں مشیت تو اللہ تعالیٰ کی پوری ہوتی ہے پھر ہمیں سزا کیوں ملے گی؟اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کو کسی چیز کے نتیجہ کے متعلق پیشگی علم ہونا یا اس کا علم غیب کسی انسان کو اس بات پر مجبور یا اس کا پابند نہیں بناتاکہ وہ وہی کچھ کرے جو اللہ کے علم یا اس کی مشیئت یا تقدیر میں لکھا ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ جو کچھ انسان اپنے پورے ارادہ و اختیار سے کرنے والا ہوتاہے اس کا اللہ کو پہلے سے علم ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
- اهْبِطُوْا یعنی جنت سے اترو،خطاب اب محض آدمؑ و حواؑ سے نہیں، ذریت ابلیس سے بھی ہے،اسی لئے اب خطاب میں صیغہ تثنیہ کا نہیں جمع ہے۔یہ ہبوط دنیا میں کہاں ہواتھا؟ قرآن اس باب میں خاموش ہے، اور تفسیروں میں جو روایتیں منقول ہیں، ان میں سے کوئی حدیث صحیح کے درجہ کی نہیں، بلکہ سب کا ماخذ اسرائیلیات ہی ہیں، اس لئے مسلمان کیلئے سکوت ہی اولیٰ ہے۔۔۔بائبل نے آدمؑ کی جنت کو آسمان پر نہیں، اسی روئے زمین پر مانا ہے، اور ہمارے یہاں کے جو مفسرین زمینی جنت کے قائل ہوگئے ہیں ، وہ عجب نہیں ، جو بائیل ہی سے تاثر کا نتیجہ ہو، ورنہ قرآن مجید کے الفاظ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ تو اس باب میں صریح ہیں کہ آدمؑ (مع اپنی آئندہ ذریت کے)زمین پر پہلی باربھیجے جارہے ہیں۔ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ ۔متاع کا لفظ خود ہی عارضیت کی طرف مشیر ہے،اور پھر الیٰ حین کے اضافہ نے اور تاکید پیدا کردی کہ یہ زمینی زندگی ہرگز مستقل نہیں، اور آدمؑ زاد کو اسی کو اپنا قطعی مستقر نہ سمجھ لینا چاہئے۔(تفسیر ماجدی)
25۔ شیطان سیرت اور حق پرست انسانوں کا تقابل:۔ یعنی اس زمین پر ابلیس کی اولاد میں اور آدم کی اولاد میں یہ محاذ آرائی قیامت تک جاری رہے گی جب کہ پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔ اس محاذ آرائی یا حق و باطل کے معرکے میں شیطان کے پیروکاروں کی بالکل وہی صفات ہوں گی جن کی ابلیس نے نمائندگی کی تھی یعنی وہ حق سے انحراف کرینگے اللہ کی نافرمانی کریں گے۔تنبیہ ہونے پر اپنے گناہوں کے اعتراف کی بجائے مزید سرکشی اختیار کریں گے پھر خود ہی سرکشی نہ کریں گے بلکہ اوروں کو مکروفریب اور جھوٹے وعدوں سے گمراہ کرنے کی کوشش کرینگے اور ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہوا تو دوسروں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ اب ان کے مقابلہ میں حق پرستوں کے اوصاف بھی وہی ہوں گے جن کی نمائندگی سیدنا آدمؑ نے کی ۔یعنی اصل کے لحاظ سے وہ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے اگر غلطیاں ان سے ہوں گی تو کسی شیطانی انگیخت کی بناپر نادانستہ ہوں گی انہیں اپنی اس غلطی کا جلد ہی احساس ہوجائے گا تو وہ اس غلطی کو اپنا ہی قصور تسلیم کریں گے اور اللہ کے حضور توبہ کریں گے۔(تیسیر القرآن)
- حضرت عیسیٰؑ یا کسی دوسرے نبی کے بہ طور خرق عادت آسمان پر جانے کے امکان کو اس آیت کی روسے جھٹلانا،اور یہ دعویٰ کربیٹھنا کہ"حضرت عیسیٰؑ کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اس آیت قرآنی کے خلاف ہے"محض سطحیت کا مظاہرہ ہے ۔یہاں بیان محض ایک عام حالت اور عمومی دستور کا ہے اور معمولات ِ عام کے خلاف مستثنیات و عجائبات تو ہرروز مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں ، چہ جائیکہ جو خرقِ عادت بہ طورمعجزہ کے ہو، اور پھرحضرت عیسیٰؑ کی دائمی یا ابدی زندگی کا قائل تو مسلمانوں میں سے کوئی ہے بھی نہیں، جمہور کا عقیدہ صرف اس قدر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے ،یہ عقیدہ نہیں کہ بعد میں بھی کبھی موت ان پر طاری نہیں ہوگی۔(تفسیر ماجدی)
تیسرا رکوع |
| یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ ﴿26﴾ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿27﴾ وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿28﴾ قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ ﴿29﴾ فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ﴿30﴾ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿31ع الأعراف 7﴾ |
| 26. اے بنی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑ یں۔ 27. اے بنی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔ 28. اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ 29. کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے۔ 30. ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں۔ 31. اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ |
تفسیر آیات
26۔ لباس سے ستر پوشی اور زینت دونوں چیزیں مقصود ہیں۔قرآن نےزینت کو مقاصد ِ لباس میں داخل کرکے اس جوگیانہ تصور کی نفی کردی جو لباس کو ایک آلائش اور عریانی یا نیم عریانی کو مذہبی تقدس کا درجہ دیتاہے۔(تدبرقرآن)
- لباس کی پہلی بنیادی غرض یعنی جسم کےقابلِ شرم حصوں کی پردہ پوشی عربوں کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی ۔انہیں اپنے ستر دوسروں کے سامنے کھول دینے میں کوئی باک نہ تھا۔برہنہ منظر عام پر نہا لینا ،راہ چلتے قضائے حاجت کےلئے بیٹھ جانا ،ازار کھل جائے تو ستر کے بے پردہ ہوجانے کی پرواہ نہ کرنا ان کے شب وروز کے معمولات تھے۔بکثرت لوگ حج کے موقع پر کعبہ کے گرد برہنہ طواف کرتے تھے۔ان کی عورتیں ان کے مردوں سے بھی کچھ زیادہ بے حیا تھیں۔یہ سب کچھ مذہبی فعل تھا اور نیک کام سمجھ کرکیا جاتاتھا۔(تفہیم القرآن)
- لباس کے تین پہلو(i) سترپوشی (ii) زینت و جمال(iii) لباسِ تقویٰ۔ظاہری لباس میں بھی اصل مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے۔(معارف القرآن)
- تقویٰ کے لباس کا مفہوم:۔ تقویٰ کے لباس کا مطلب یہ ہے کہ لباس پردہ پوش یا ساتر ہوایسا پتلا یا شفاف نہ ہو کہ پہننے کے باوجود جسم کی سلوٹیں اور مقامات ستر سب کچھ نظر آتارہے ۔دوسرے یہ کہ لباس فاخرانہ اور متکبرانہ نہ ہو نہ دامن دراز ہو اور نہ اپنی حیثیت سے کم تر درجہ ہی کا اور گندہ ہو کیونکہ یہ سب باتیں تقویٰ کیخلاف ہیں تیسرے وہ لباس ایسا بھی نہ ہوکہ مردعورتوں کا لباس پہن کر عورت بننے کی کوشش کرنے لگیں اور عورتیں مردوں کاسا پہن کر مرد بننے کی کوشش کرنے لگیں کیونکہ اس سے ان کی اپنی اپنی جنس کی توہین ہوتی ہے اور چوتھے یہ کہ اپنا لباس ترک کرکے کسی حاکم یا سربرآوردہ قوم کا لباس استعمال نہ کریں کیونکہ سربرآوردہ قوم کی تہذیب و تمدن اور اس کا لباس اختیار کرنے سے جہاں تمہارا قومی تشخص مجروح ہوگا وہاں یہ بات اس قوم کے مقابلہ میں تمہاری ذہنی مرعوبیت کی بھی دلیل ہوگی اور پانچویں یہ کہ مرد ریشمی لباس نہ پہنیں۔(تیسیر القرآن)
27۔ شیطان سے حفاظت کا طریقہ ۔وہ ہمیں دیکھ رہاہے ہم اُسے نہیں دیکھ رہے ۔حفاظت کیلئے اللہ کی پناہ میں آنا ۔عربوں کا طریقۂ پناہ ۔(معارف القرآن)
- يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا، یہ بھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، انہی یاد دہانیوں میں سے ہے جو ابتدا ہی میں اولاد آدم کو کی گئی تھیں۔ اور اس کے اسلوب بیان سے شیطان کی اس چال کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو وہ بنی آدم کے تمدن کو برباد کرنے اور بالآخر ان کو خدا کی نعمت سے محروم کر کے ہلاکت کے گڑھے میں گرانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی وسوسہ اندازیوں سے پہلے لوگوں کو اس لباس تقوی و خشیت سے محروم کرتا ہے جو اللہ نے بنی آدم کے لیے اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک تشریف باطنی کی حیثیت سے اتارا ہے اور جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ جب یہ باطنی جامہ اترجاتا ہے تو وہ حیا ختم ہوجاتی ہے جو اس ظاہری لباس کی اصل محرک ہے۔ پھر یہ ظاہری لباس ایک بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے۔ بےحیائی صنفی اعضا میں، جن کا چھپانا تقاضائے فطرت ہے، عریاں ہونے کے لیے تڑپ پیدا کرتی ہے، پھر فیشن اس کو سہارا دیتا ہے اور وہ لباس کی تراش خراش میں نت نئی اختراعات سے ایسے ایسے اسلوب پیدا کرتا ہے کہ آدم کے بیٹے اور حوا کی بیٹیاں کپڑے پہن کر بھی، لباس کے بنیادی مقصد یعنی ستر پوشی کے اعتبار سے، گویا ننگے ہی رہتے ہیں۔ پھر لباس میں صرف زینت اور آرائش کا پہلو باقی رہ جاتا ہے اور اس میں بھی اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ بےحیائی زیادہ سے زیادہ دلکش زاویہ سے نمایاں ہو۔ پھر آہستہ آہستہ عقل اس طرح ماؤف ہوجاتی ہے کہ عریانی تہذیب کا نام پاتی اور ساتر لباس وحشت و دقیانوسیت کا۔ پھر پڑھے لکھے شیاطین اٹھتے ہیں اور تاریخ کی روشنی میں یہ فلسفہ پیدا کرتے ہیں کہ انسان کی اصل فطرت تو عریانی ہی ہے۔ لباس تو اس نے رسوم و رواج کی پابندیوں کے تحت اختیار کیا ہے۔ یہ مرحلہ ہے جب دیدوں کا پانی مر جاتا ہے اور پورا تمدن شہوانیت کے زہر سے مسموم ہوجاتا ہے۔ پھر یہ بےحیا معاشرہ سزاوار ہوتا ہے کہ قدرت اس کے وجود سے زمین کو پاک کر کے ان کی جگہ دوسروں کو لائے اور دیکھے کہ وہ کیسا عمل کرتے ہیں۔(تدبر قرآن)
-ص 19-20 کا خلاصہ:(i) لباس انسان کےلئے ایک مصنوعی چیز نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایک اہم مطالبہ ہے،(ii) فطری الہام کی روسے انسان کےلئے لباس کی اخلاقی ضرورت مقدم ہے۔(شیطان نے اپنے شاگردوں کو اس غلط فہمی میں ڈال دیا کہ تمہارے لئے لباس کی ضرورت بعینہ وہی ہےجو حیوانات کیلئے ہے)(iii) اس معاملہ میں جس بھلائی تک انسان کو پہنچنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اس کا لباس تقویٰ کا لباس ہو۔
(iv) لباس کا معاملہ بھی اللہ کی چہار سوپھیلی ہوئی بے شمار نشانیوں میں سے ایک ہے۔(تفہیم القرآن)
- انسان پر شیطان کا پہلا حملہ اس کو ننگا کرنے کی صورت میں ہوا آج بھی نئی شیطانی تہذیب انسان کو برہنہ یا نیم برہنہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔(معارف القرآن)
-حضرت ذوالنون مصری نے کیا خوب فرمایا ہے کہ اگر تیرا دشمن ایسا ہے کہ وہ تجھے دیکھتاہے اورتو اس کونہیں دیکھ سکتا تو ایک ایسی ہستی کی پناہ میں آجا جو تیرے دشمن کو دیکھتاہے لیکن وہ اسے نہیں دیکھ سکتا۔(ضیاء القرآن)
- جس طرح شیطان نے اپنے مکرو فریب سے جنت میں ہمیں باعزت لباس سے محروم کروایا تھا بالکل اسی طرح مغرب کی شیطانی تہذیب نے ہمیں باحیا ستر پوشی سے محروم کردیا۔(انوار القرآن)
- مفسر تھانویؒ نے کہاہے کہ انسان کا جنات کو دیکھنا عادت عامہ کے خلاف ہے، لیکن دیکھنے کی قطعاً نفی بھی نہیں ہے چناچہ بعض اوقات انبیاء علیہم السلام یا غیر انبیاء بلکہ عوام سے بھی جو جنات کو دیکھنا مروی ہے وہ اس آیت کے خلاف نہیں۔(تفسیر ماجدی)
28۔اسلام سے پہلے جاہلیت عرب کے زمانہ میں شیطان نے لوگوں کو جن شرمناک اور بیہودہ رسموں میں مبتلا کر رکھا تھا ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قریش کے سوا کوئی شخص بیت اللہ کا طواف اپنے کپڑوں میں نہیں کرسکتا تھا، بلکہ یا وہ کسی قریشی سے اس کا لباس عاریت کے طور پر مانگے یا پھر ننگا طواف کرے۔ (معارف القرآن)
31۔رہبانیت کی وجہ سے لباس و خوراک میں کمی نہیں بلکہ اسراف سے بچنے کےلئے سادگی۔۔۔۔۔ یہ اس جوگ اور رہبانیت کی کلی نفی ہے جو عریانی کو تقرب ِ الٰہی اور وصول الی اللہ کا ذریعہ ٹھہراتی ہے۔۔۔۔۔۔ کھانے پینے اور پہننے میں افراط و تفریط دونوں تقویٰ کے خلاف ہیں ۔نہ تو کھانا پہننا ہی مقصود ِ حیات ہو اور نہ راہبوں اور جوگیوں کی طرح اللہ کی نعمتوں کو تیاگ دے۔(تدبرقرآن)
- حضرت حسنؓ کی عادت تھی کہ نماز کے وقت اپنا سب سے بہتر لباس پہنتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جمال کو پسند فرماتے ہیں۔۔۔۔۔ خلیفہ ہارون الرشید کے نصرانی طبیب نے علی بن حسن بن واقد سے سوال کیا کہ دنیا میں دو علوم ہیں علمِ ادیان و علمِ ابدان ، اسلام میں علمِ ابدان نہیں ۔علی نے یہ آیت كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا اور حضورؐ کی چند احادیث مثلاً معدہ بدن کا حوض ہے اور تمام رگیں ،بھوک رکھ کر کھانا وغیرہ بیان کر دیں۔اس نے کہا کہ تمہاری کتاب اور تمہارے رسولؐ نے جالینوس کےلئے کوئی طب نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔ آٹھ مسائل شرعیہ: خلاصہ یہ ہے کہ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ،کے کلمات سے آٹھ مسائل ِ شرعیہ نکلے اول یہ کہ کھانا پینا بقدر ضرورت فرض ہے،دوسرے یہ کہ جب تک کسی چیز کی حرمت کسی دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ہرچیز حلال ہے ،تیسرے یہ کہ جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ممنوع کردیاان کا استعمال اسراف اور ناجائز ہے،چوتھے یہ کہ جوچیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی اسراف اور سخت گناہ ہے،پانچویں یہ کہ پیٹ بھرجانے کے بعد اور کھانا ناجائز ہے،چھٹے یہ کہ اتناکم کھاناجس سے کمزور ہوکرادائے واجبات کی قدرت نہ رہے، درست نہیں ہے،ساتویں یہ کہ ہر وقت کھانے پینے کی فکر میں رہنا بھی اسراف ہے، آٹھویں یہ بھی اسراف ہے کہ جب کبھی کسی چیز کوجی چاہے تو ضروری ہے اس کو حاصل کرے۔(معارف القرآن)
ـــــ یہ اس جوگ اور رہبانیت کی کلی نفی ہے جو عریانی کو تقرب الٰہی اور اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ٹھہراتی ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
- جس طرح تہ بند اور بنیان پہن کر ہم باہر جانا اچھا خیال نہیں کرتے اسی طرح انہیں پہن کر گھر میں بھی نماز کےلئے کھڑے ہونا مکروہ ہے۔یہی حال میلے کچیلے کپڑوں کا ہے۔(انوار القرآن)
- نماز کے وقت کپڑے پہننا ضروری ہے۔سترڈھانپنے سے مراد یہ ہے کہ نماز اداکرتے ہوئے ایک مردکندھوں پر کپڑا ڈالے اور ناف سے گھٹنوں تک اپنا جسم کپڑوں سے چھپا کررکھے اور ایک عورت اپنے چہرے کے سوا تمام جسم چھپا کررکھے ۔علماء کی اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ نماز کی حالت میں عورت اپنے چہرے کے سواتمام جسم کپڑوں میں چھپاکررکھے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو بھی کپڑے یا دستانوں سے چھپا کررکھے ،البتہ اس کے پاؤں یا تو لمبے لباس سے ڈھکے ہوئے ہونے چاہئیں یا اسے جرابیں پہن لینی چاہئیں۔علماء کی یہ رائے احادیث رسولؐ پر مبنی ہے(سنن ابی داؤد)سیدہ عائشہؓ روایت کرتی ہیں: نبی اکرمؐ فجر کی نماز اداکرتے تھے تو کچھ مسلمان (عورتیں پردے کیلئے)چادریں اوڑھ کر نماز میں شرکت کرتی تھیں ،پھر نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی تھیں بغیر اس کے کہ وہ پہنچانی جائیں۔(صحیح بخاری)(احسن الکلام)
چوتھا رکوع |
| قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ﴿32﴾ قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿33﴾ وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ﴿34﴾ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ﴿35﴾ وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿36﴾ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ ﴿37﴾ قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ ﴿38﴾ وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿39ع الأعراف 7﴾ |
| 32. پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔ 33. کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ 34. اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی۔ 35. اےبنی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ 36. اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔ 37. تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے۔ 38. تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے۔ 39. اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو۔ |
تفسیر آیات
32۔ البتہ آخرت میں (جہاں سارا انتظام خالص حق کی بنیاد پر ہوگا) زندگی کی آرائشیں اور رزق کے طیبات سب کے سب محض نمک حلالوں کےلئے مخصوص ہوں گے۔(تفہیم القرآن)
ــــ امام فخر الدین رازی ؒ نے عمدہ لباس کے علاوہ زیب و زینت کی تمام اشیا کو اس آیت میں داخل کیا ہے ۔خواہ ان کا تعلق لباس کی نفاست ،جسم کی نظامت ، گھر کی صفائی اور آرائش سے ہو یا لذیذ کھانوں اور بہترین سواری سے ہو بشرطیکہ شریعت نے اسے حرام قرار نہ دیا ہواور اس میں فضول خرچ کا ارتکاب نہ ہو۔۔۔۔۔اسی لئے مسلمانوں کا یہ دستور تھا کہ جب کبھی اپنے احباب کی ملاقات کےلئے جاتے تو عمدہ لباس پہن کر جاتے ۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے اپنی ریش مبارک اور بالوں کو سنوارا اور عمامہ مبارک کو درست کیا ۔ میرے استفسار پر فرمایا اِنّ اللہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمالَ ۔(ضیاء القرآن)
- ۔۔۔سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ تین آدمی (عمر وبن عاصؓ،علیؓ اور عثمان بن مظعونؓ)نبی اکرمؐ کی ازواج کے گھروں کے قریب آئے اور ازواج مطہرات سے رسول اللہؐ کی عبادت کا حال پوچھا جب انہیں آپ کی عبادت کی خبردی گئی تو انہوں نے اسے کمتر سمجھا اور کہا "کہاں ہم اور کہاں نبی اکرمؐ ان کی تو اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف ہوچکیں۔"پھران میں سےایک نے کہا "میں ہمیشہ ساری رات قیام کروں گا۔"دوسرے نے کہا"میں ہمیشہ روزے رکھوں گا،افطار نہ کروں گا"تیسرے نے کہا"میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گاکبھی نکاح نہ کروں گا۔"اتنے میں رسول اللہؐ بھی تشریف لے آئے اور آپؐ کو ان کی گفتگو کی خبردی گئی ۔آپؐ نے ان سے کہا تم ہی ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا تھا؟ سنو اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزے رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتاہوں میں رات کو نماز بھی پڑھتاہوں اورسوتابھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتاہوں اب جس شخص نے میری سنت(طریقے)سے بے رغبتی کی اس کا مجھ سے کوئی سروکار نہیں۔(بخاری۔کتاب النکاح۔باب الترغیب فی النکاح)(تیسیر القرآن)
34۔افراد کےلئے سالوں ،مہینوں اور دنوں کا وقت کا پیمانہ مگر امتوں کا حساب ان کے ایمانی و اخلاقی زوال سے ہوتاہے ۔اخلاقی زوال و فساد کی حد کشتی میں پانی بھرنے کی مانند ہےکہ جب وہ پوری طرح بھرجائے تو سفینے ڈوب جاتے ہیں۔(تدبر قرآن)
- اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ حرام چیزوں کا ذکر فرمایا جن کا تعلق کھانے کی چیزوں سے نہیں بلکہ اعمال سے ہے سب سے پہلے بے حیائی کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سیدنا آدم کے قصے سے یہ بیان چلا آرہاہے کہ کس طرح شیطان نے آدم و حواکو بے ستر کیا ۔پھر مشرکین مکہ کا ذکر کیا جو طواف تک برہنہ ہوکر کرتے اور اسے مذہبی تقدس کا درجہ دیتے تھے اور گناہ کا لفظ اگرچہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہ پر استعمال ہوتاہے تاہم غالباً یہ لفظ یہاں ایسے گناہ کیلئے آیا ہے جس کا اثر اس کی ذات تک محدود رہے کسی دوسرے کو اس کا نقصان نہ پہنچ رہاہو اور ناحق زیادتی سے مراد ایسے گناہ ہیں جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں اور شرک تو تمام حرام کاموں میں سرفہرست ہے اور اللہ کے ذمے لگانے کی اس مقام پر وہی مثال کافی ہے جو مشرک کہتے تھےکہ"وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا"(اعراف ۔آیت28)۔۔۔عذاب کے وقت میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے:۔اس آیت میں تقدیم کا لفظ تاخیر ہی کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے اجل جب آگئی تو تقدیم کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے کوئی گاہک دکاندار سے کسی چیز کی کوئی قیمت پوچھنے کے بعد کہتاہے کوئی کمی بیشی؟تو دکاندار کہتاہے قیمت میں نے پہلے ہی ٹھیک بتلائی ہے کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی ۔حالانکہ اس گفتگو میں گاہک اور دکاندار دونوں کا کمی بیشی کے لفظ سے مراد صرف کمی ہوتاہے بیشی نہیں ہوتا اس طرح یہاں بھی یہی مراد ہے کہ جب کسی شخص کی موت یا کسی قوم کے خاتمہ کا وقت آجاتاہے تو پھر اس میں قطعاً تاخیر نہیں ہوسکتی۔۔۔(تیسیر القرآن)
37۔ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ۔یعنی رزق ،عمر،اعمال وغیرہ جوکچھ ان کیلئے مقدر ہوچکے ہیں ۔(تفسیر ماجدی)
پانچواں رکوع |
| اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ ﴿40﴾ لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ﴿41﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿42﴾ وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿43﴾ وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ ﴿44﴾ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِْالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ ﴿45﴾ وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ ﴿46﴾ وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿47ع الأعراف 7﴾ |
| 40. جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ 41. ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ 42. اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 43. اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارےپروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو۔ 44. اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بے انصافوں پر خدا کی لعنت۔ 45. جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے۔ 46. ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ ابھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے۔ 47. اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو۔ |
تفسیر آیات
40۔ کفار کی ارواح کو نہ زندگی میں ان کے اعمال کےلئے آسمانی قبول و رفعت حاصل ہے نہ موت کے بعد ان کی ارواح کو آسمان پر چڑھنے کی اجازت ہے۔صحیح حدیث میں ہے کہ "بعد موت کافر کی روح کو آسمان کی جانب سے سجین کی طرف دھکے دئیے جاتے ہیں اور مومن کی روح ساتویں آسمان تک صعود کرتی ہے"۔(تفسیر عثمانی)
- انجیل میں ہے " اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ میں تم سے سچ کہتاہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتاہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔ قرآن اور انجیل کی تعبیر میں بس یہ فرق ہے کہ سیدنا مسیح نے سبب ِ استکبار یعنی دولت کا حوالہ دیا ہے اور قرآن نے اصل جرم یعنی استکبارکا۔(تدبر قرآن)
42۔ یعنی جنت میں داخلے کی خاطر ہر ایک کیلئے ایک مقررہ مقدار عمل ضروری نہیں بلکہ ہر ایک شخص کا اس کی استعداد اور قوت کار کے مطابق ہی امتحان لیا جاتاہے اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک لکھ پتی آدمی سوروپے صدقہ کرتاہے اسی قت ایک مفلس پانچ روپے صدقہ کرتاہے تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مفلس کے پانچ روپےصدقے کی قدرو قیمت لکھ پتی کے سوروپے کے صدقے کی قدروقیمت سے زیادہ ہو لہذا ہر شخص کے احوال و ظروف کا لحاظ رکھ کر اور اس کے اعمال کی قدرو قیمت کا صحیح اندازہ لگانے کے بعد اسے جنت میں داخل کیا جائے گا۔(تیسیر القرآن)
46۔ رجال عام مفہوم کے علاوہ ،نمایاں اور ممتاز شخصیات کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ابن جریرؒ نے اصحاب الاعراف کے بارے میں چار اقوال نقل کئے ہیں(i)جن کی نیکیاں اور بدیاں تول میں برابر۔(ii)علماء و فقہاء کا گروہ۔(iii) ماں باپ کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانیوالے (iv) ملائکہ۔ صاحب تدبر قرآن کا ان اقوال پر تبصرہ: آخری دونوں اقوال ناقابل ِقبول ہیں۔ ان کی تائید میں کوئی ادنٰی اشارہ بھی قرآن میں موجود نہیں۔ پہلے قول کا اضعاف: (ا) ان کے لئے رجال کا لفظ جبکہ ان کی تو نیکیاں اور بدیاں برابر ہیں(ب) صرف مردہی کیوں (نیکی اور بدی میں تو عورتیں بھی برابر ہوسکتی ہیں)(ج) ایک معلق گروہ کو سیر کیوں؟ اور اعراف کیوں؟(د) جن کا اپنا معاملہ معلق ہو وہ دوسروں کو مبارک اور سرزنش کے الفاظ کیسے کہہ سکتے ہیں ۔اس لئے علما و فقہاء ہی صاحبِ اعراف ہیں۔(تدبر قرآن)
- وہ لوگ کون ہوں گے؟ اس سلسلہ میں مفسرین نے 15 اقوال لکھے ہیں۔(i) جن کی نیکیاں اور برائیاں مساوی(ii) علامہ بیضاوی نے کہا ہے کہ علما کے مطابق اعراف کی بلندیوں پر فائز ہونے والے انبیاء،شہداء، صلحاء اور علماء ہونگے۔ان کی عزت افزائی کےلئے ان کو اس بلند مقام پر ٹھہرا یا جائے گا۔(ضیاء القرآن)
- اہل جنت و اہل دوزخ کی نمایاں علامات کیا ہونگی؟ حضورؐسے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا پنچ کلیان گھوڑے کی طرح ان کے ہاتھ اور پاؤں چمک رہے ہوں گےاور وضو کرنے والے مومنین کے ہاتھ اور پاؤں ان کی پہچان ہوں گے۔ اس سے نماز کی اہمیت اور امت ِمسلمہ کی پہچان ظاہر ہوتی ہے۔(تدبرقرآن)
- جنت میں دیدارِ الٰہی :۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان مکالمہ، اصحاب اعراف کا ان سے مکالمہ اور ان کو بعید مقامات سے دیکھ کر پہچان لینے اور ایک دوسرے کی آوازیں سن کر ان کا جواب دینے کو اور روزمحشر کے احوال کو موجودہ قوتوں اور عقل سے جانچنا درست نہیں اور اس کی تائید رسول اللہؐ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ "اس دن تم اپنے پروردگار کو اس طرح بلاتکلف دیکھ سکوگے جس طرح چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں کوئی روکاوٹ محسوس نہ ہوگی"۔(بخاری۔کتاب التوحید باب وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔۔)حالانکہ اس دنیا میں موجودہ آنکھوں سے دیدار الٰہی ناممکن ہے۔(تیسیر القرآن)
چھٹا رکوع |
| وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ ﴿48﴾ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ﴿49﴾ وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ ﴿50﴾ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ﴿51﴾ وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿52﴾ هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿53ع الأعراف 7﴾ |
| 48. اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)۔ 49. (پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا۔ 50. اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے۔ 51. جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے۔ 52. اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ 53. کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہے کہ ہماری سفارش کرے یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔ |
تفسیر آیات
50۔ حرَّم سے مراد محروم کرنا: حَرَّمَهُمَا میں جس تحریم کا ذکر ہے یہ شرعی حرمت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس معنی میں ہے جس معنی میں فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً۔مائدہ،( پس یہ سرزمین ان پر چالیس سال کیلئے حرام کردی گئی)میں ہے۔ یعنی چالیس سال کیلئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حتمی طورپر اس سرزمین سے محروم کردیا۔ ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو کسی چیز سے حتمی طورپر محروم کردے تو نہ وہ چیز کسی طرح اس کو پہنچ سکتی اور نہ وہ اس کو کسی طرح پاسکتا ہے۔اہل جنت کے جواب سے معلوم ہوتاہے کہ انہیں سوال کے پورے کرنے میں تو کوئی عذر نہیں ہے،ان کے پاس ہرنعمت کی فراوانی ہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں سے اہل دوزخ کو محروم کردیاہے اس وجہ سے نہ یہ ان کو پہنچ سکتی ہیں نہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔(تدبرقرآن)
51۔ ایک برمحل تضمین (ضمنی بات)گویا قریش پر (اور ہم پر بھی) یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ صرف دوسروں کی حکایت ہے۔۔۔۔۔کفار اپنی خواہشات کے پیچھے ایسے اندھے ہوجاتے ہیں کہ وہ خواہشات کے خلاف سنجیدہ سے سنجیدہ حقیقت کو بھی مذاق تصور کرتے ہیں اور مذاق ہی میں اس کو اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ع۔بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔۔۔۔۔ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا۔ منکرین آخرت کا اصل دھوکہ ۔وہ کھاپی رہے ہیں ،عیش کررہے ہیں، دندنارہے ہیں،کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں اگر کسی نے آخرت کے حساب کتاب کی بات کردی اُ سے ملاّ،خبطی کہہ کر مذاق اڑادیا کہ یہ ہماری آزادی میں رکاوٹ ڈال رہاہے۔(تدبرقرآن)
- اس گفتگو سے کسی حدتک اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ عالمِ آخرت میں انسان کی قوتوں (سماعتوں ،بصارتوں وغیرہ) کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوگا۔(تفہیم القرآن)
ساتواں رکوع |
| اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿54﴾ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ ﴿55﴾ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿56﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ﴿57﴾ وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿58ع الأعراف 7﴾ |
| 54. کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔ 55. (لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ 56. اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔ 57. اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ 58. جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ |
تفسیر آیات
54۔ عالمِ خلق و عالم ِ امر ۔ (i) سادہ مفہوم (پیدا کرنا اور حکم کرنا اسی کاکام ہے ۔پیدا کرکے وہ ریٹائر نہیں ہوگیا بلکہ اپنی مخلوق کےلئے لمحہ لمحہ حکم صادر کرتا رہتاہے) (ii) وسیع مفہوم ۔عالمِ خلق سے مراد کچھ مادوں سے تخلیق کرنا مثلاً انسان کی تخلیق ،زمین وآسمان چھ دن میں بنائے (ایک دن، ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر۔یا چھ ادوار )تدریجاً تخلیق۔۔۔۔۔عالم امر سے مراد محض حکم کن سے تخلیق۔ (کن فیکون) حکم دیا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا۔یعنی عدم محض سے پیدا کرنا ۔عالم ِ امر (روح ِ انسانی ،فرشتے ،نظام وحی) اس میں ٹائم فیکٹرنہیں۔۔۔۔۔ یہ قرآن ِ کریم کا اعجاز ہے کہ یہ ایک بدو اور فلسفی کی مختلف فکری سطح کے مطابق بات کرتا ہے۔ (بیان القرآن)
ــــ تفسیر مظہری میں ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان جتنی چیزیں ہیں یہ تو سب مادی ہیں ،ان کی پیدائش کو خلق کہا گیا اور مافوق السمٰوٰت جو مادہ اور مادیت سے بری ہیں ان کی پیدائش کو لفظ امر سے تعبیر کیا گیا۔(معارف القرآن)
ــــ آسمان و زمین دفعۃً بناکر نہیں کھڑے کئے گئے ۔شاید اول ان کا مادہ پیدا فرمایا ہو پھر اس کی استعداد کے موافق بتدریج مختلف اشکال و صور میں منتقل کرتے رہتے ہوں۔یہ حکمت ِ تدریج ہے ،کن فیکون کے منافی نہیں۔۔۔۔ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ۔ انسان سمیع و بصیر ہو تو آلۂ سماعت اور آلۂ بصارت (کان اورآنکھیں ) سمجھ میں آسکتی ہیں لیکن اللہ کے آلاتِ سمع و بصر سمجھ میں نہیں آسکتے ۔اسی طرح اللہ کا عرش پر متمکن ہونا بھی سمجھ میں نہیں آتا لیکن اس سے اس کا اقتدار اور اور اس کی وسعت مراد ہو سکتی ہے ۔(تفسیر عثمانی)
ــــ چھ دنوں میں یا چھ ادوار میں پیدا کرنے کی بجائے اپنے ایک کلمہ کن سے آن کے آن میں پیدا کرسکتاتھا۔یہ بات بعید نہیں تھی کہ ہماری غذا کےلئے براہِ راست آسمان سے روٹی برستی جیسے من و سلویٰ پھر یہ کیوں ضروری ہوا کہ ہوائیں چلیں، بادل اٹھیں، مینہ برسے ،کھیتوں میں ہل چلیں، گندم بوئی جائے، انکھوے نکلیں،ڈنٹھل پیدا ہوں، اس میں برگ و بار نمایاں ہوں، سٹے نمودار ہوں،پھر ان میں دانے بنیں، پھر خشک ہوائیں چلیں ،پھر دانے پکیں ،اور اس طرح کے چھ ماہ کے مرحلوں سے گذر کر گندم کا دانہ کھیت سے دہقان کے گھر پہنچے ،یہ اہتمام گواہ ہے کہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں یا کوئی کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک بامقصد کارخانہ ہے اور ضروری ہے کہ ایک دن وہ مقصد ظہور میں آئے ۔۔۔۔۔ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ۔ تخلیق کائنات میں جو اہتمام ہے اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ اس کو پیداکرنے کے بعد اس کے تمام معاملات کا انتظام چلائے ۔خدا خلق تو کرے لیکن اس کا انتظام نہ کرے خدا پر ایک تہمت ہے۔جیسے ایک بادشاہ فتح کرے اس کا انتظام و انصرام نہ کرے۔(تدبر قرآن)
ـــــ تخلیق آفتاب سے پہلے یا جنت میں دن اور رات حرکت آفتاب کے تابع نہیں ہوگا ۔اس لئے وقت کا ہمارا تصور اور ازلی و ابدی حقیقتیں مختلف ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ چھ دن جن میں پیدائش عالم وجود میں آئی ہے۔ صحیح روایات کے مطابق اتوار سے شروع ہوکر جمعہ پر ختم ہوتے ہیں ،یوم السبت یعنی ہفتہ کے اندر تخلیقِ عالم کا کام نہیں ہوا(ابن کثیر) (ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ شاید ہفتہ کو ہو)۔۔۔۔۔ چھ روزہ تفصیل سورۂ حم سجدہ کی نویں اور دسویں آیات میں اس طرح آئی ہے کہ دو دن میں زمین بنائی گئی ،پھر دو دن میں پہاڑ ،دریا ،کانیں ،درخت ،نباتات اور کھانے پینے کی چیزیں بنائی گئیں اور اگلے دودنوں میں ساتوں آسمان بنائے گئے۔(معارف القرآن)
ــــ اسْتَوٰى ٰ کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھ گیا بلکہ اس کا مدعا یہ ہے کہ کائنات ِ ارضی و سماوی کی باگ ڈور اس نے اپنے دستِ قدرت میں تھام لی اور حکم و حکمرانی کو اپنے لئے مخصوص فرمالیا۔۔۔۔۔۔ توحید ِ الوہیت اور توحید ربوبیت کے روشن دلائل:۔ قیامت کے دن پیش آنے والے عبرت انگیز اور سبق آموز واقعات بیان کرنے کے بعد اب پھر توحید باری کے روشن دلائل پیش فرمائے جارہے ہیں۔ عام طورپر صبح سے لے کر شام تک کے وقت کو یوم(دن)کہاجاتاہے لیکن یہاں اس وقت کا ذکر ہورہاہے جب کہ نہ سورج تھا اور نہ صبح و شام کا وجود تھا۔ اس لیے آیت کریمہ میں یوم سے مراد مطلق وقت ہے ۔اور لفظ یوم کا اطلاق اس معنی میں عموماً ہوتارہتاہے ۔چناچہ علامہ راغب اصفھانی لکھتے ہیں۔الیوم یعبر بہ عن وقت طلوع الشمس الی غروبھا وقد یعبر عن مدۃ من الزمان ای مدۃ کانت(مفردات القرآن)اور حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ آیت میں یوم سے مراد وقت کی وہ مقدار ہے جو ہمارے ہزارسال کے برابر ہے (نیشاپوری)۔ امام ابن جریر ودیگر مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ یہاں دن سے مراد ایک ہزار سال کی مدت ہے یعنی کائنات ارضی وسماوی کی تخلیق چھ ہزار سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ مختلف مدارج حیات طے کرتے ہوئی ۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو چشم زدن میں اس ساری کائنات کو پیدا فرمادیتا ۔لیکن اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کی جو جلوہ گری اس تدریج میں ہے وہ اہل فکر و نظر سے پنہاں نہیں۔اگر کوئی چیز دفعۃ" معرض وجود میں آجائے تو گمان ہوسکتاہے کہ یہ محض اتفاقیہ امر تھا جو ازخود ظہور پذیر ہوگیا۔لیکن اگر کوئی چیز مختلف مدارج طے کرتی ہوئی ضعف سے قوت ،خامی سے پختگی اور نقص سے کمال کی طرف تدریجاً بڑھتی چلی جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی حکیم و علیم ذات ہے جس کی توجہ اور تدبیر سے یہ سب کچھ نمودار ہورہاہے۔(ضیاء القرآن)
55۔ یعنی دعامیں حدِ ادب سے نہ بڑھے مثلاً جو چیزیں عادتاً یا شرعاً محال ہیں وہ مانگنے لگے یا معاصی اور لغو چیزیں طلب کرے یا ایسا سوال کرے جو اس کی شان و حیثیت کے مناسب نہیں ۔یہ سب "مُعْتَدِیْنَ"میں شامل ہوں گے۔(تفسیر عثمانی)
- دعا کے آداب ۔تضرع کے معنی عاجزی ،خوشامد اور لجاجت کے ہیں اس کا اظہار حرکات اور اداؤں سے بھی ہوتاہے اور الفاظ و عبادات سے بھی ۔اس کی بہترین شکل نماز ہے اور اس پر اضافہ ہے خفیہ دعا یعنی ریاسے پاک محض اپنے رب سے مانگنا۔(تدبر قرآن)
- غزوۂ خیبر کے موقع پر صحابہ کرام کی آواز دعامیں بلند ہوگئی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے جو اتنی بلند آواز سے کہتے ہو بلکہ وہ سمیع و قریب ہے تمہارامخاطب ہے ۔اللہ تعالیٰ کو دعاکی یہ کیفیت پسند ہے کہ پست اور آہستہ آواز سے دعامانگی جائے۔
- ہمارے زمانے کےآئمہ مساجد کواللہ تعالیٰ ہدایت فرمادیں کہ قرآن و سنت کی اس تلقین اور بزرگان ِ سلف کی ہدایات کو یکسر چھوڑ بیٹھے ،ہرنماز کے بعد دعاء کی ایک مصنوعی سی کارروائی ہوتی ہے ،بلند آواز سے کچھ کلمات پڑھے جاتے ہیں ،جو آداب دعاء کیخلاف ہونے کے علاوہ ان نمازیوں کی نماز میں بھی خلل انداز ہوتے ہیں جو مسبوق ہونے کی وجہ سے امام کے فارغ ہونے کے بعد اپنی باقی ماندہ نماز پوری کررہے ہیں، غلبۂ رسوم نے اس کی برائی اور مفاسد کو ان کی نظروں سے اوجھل کردیا ہے،کسی خاص موقع پر خاص دعاء پوری جماعت سے کرانا مقصود ہوایسے موقع پر ایک آدمی کسی قدر آواز سے دعاء کے الفاظ کہے اور دوسرے آمین کہیں اس کا مضائقہ نہیں، شرط یہ ہے کہ دوسروں کی نماز و عبادت میں خلل کا موجب نہ بنیں ،اور ایسا کرنے کی عادت نہ ڈالنا کہ عوام یہ سمجھنے لگیں کہ دعاء کرنے کا طریقہ یہی ہے جیساکہ آجکل عام طورسے ہورہاہے۔(معارف القرآن)
56۔ خوف و رجا کے ساتھ خدا کی عبادت میں مشغول رہونہ اس کی رحمت سے مایوس ہو اور نہ اس کے عذاب سے مامون و بے فکر ہوکر گناہوں پر دلیر بنو(ایک گھاٹی۔منہاج العابدین۔امام غزالی)۔(تفسیر عثمانی)
- وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ۔ہمارے بہت سے اجتماعی مصلحین کو یہ اصول سمجھنے میں سخت مغالطہ پیش آیا ہے جس کے سبب سے وہ افراط و تفریط میں مبتلا ہوگئے۔ جو لوگ قومی تعصب میں مبتلا رہے، انہوں نے ہمیشہ غالب قوم کے غلبہ کو اس کی چیرہ دستی اور کیا دی پر محمول کیا، وہ اپنے تعصب کے سبب سے نہ تو اس اخلاقی برتری کو دیکھ سکے جو غالب قوم کے اندر موجود تھی اور نہ اس اخلاقی ضعف پر ان کی نظر پڑی جو ان کے اپنے اندر پایا جاتا تھا۔ اسی طرح جو لوگ مرعوب ذہن کے تھے انہوں نے ہر غالب کے غلبہ کو اس کے برحق ہونے کی دلیل سمجھا اور اس کے ہاتھوں جو فساد و باطل بھی دنیا میں برپا ہوگیا اسی کو نظام حق سمجھ کر اس کے گن گانے لگے۔۔۔۔۔۔ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ۔ معلوم ہوا کہ مقام ِ احسان پر فائز ہونے کےلئے ضروری ہے کہ انسان بیم و رجا دونوں حالتوں میں اپنے رب کی طرف یکسو ہو وگرنہ وہ مقامِ احسان سے دور ہے اور خدا کی رحمت سے بھی دور۔اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہے۔(تدبر قرآن)
- خوف اور طمع سے پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ رکھے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور ڈرنا اس بات سے چاہیے کہ کسی غلطی یا تقصیر کی وجہ سے کہیں اللہ کی بارگاہ میں مردود ہی نہ ہوجاؤں۔دونوں پہلوؤں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔تاہم اللہ سے حسنِ ظن کا پہلو غالب رہنا چاہیے جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : جابر بن عبداللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے فرمایا "تم میں سے ہرشخص کو مرتے وقت اللہ سے حسن ظن رکھنا ضروری ہے۔"(مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھاباب الامر بحسن ظن باللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔ الْمُحْسِنِیْنَ۔عربی کا احسان اردو کے احسان سے بالکل مختلف ہے، محسنین کے مصداق وہ لوگ ہیں جونیکی کر گزرتے اور کرڈالتے ہی نہیں بلکہ اسے پوری حسن کاری کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
57-58- بارش اور اس کی برکتوں سے : یہاں ایک لطیف مضمون ارشاد ہواہے جس پر متنبہ ہوجانا اصل مدعا کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے۔بارش اور اس کی برکتوں کے ذکرسے اس مقام پر خدا کی قدرت کا بیان اور حیات بعد الممات کا اثبات بھی مقصود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمثیل کے پیرایہ میں رسالت اور اس کی برکتوں کا اور اس کے ذریعہ سے خوب وزشت میں فرق اور خبیث و طیب میں امتیازنمایاں ہوجانے کا نقشہ دکھانا بھی پیش نظرہے۔ رسول کی آمد اور خدائی تعلیم و ہدایت کے نزول کو بارانی ہواؤں کے چلنے اور ابر رحمت کے چھاجانے اور امرت بھری بوندوں کے برسنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ پھر بارش کے ذریعہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کے یکایک جی اٹھنے اور اس کے بطن سے زندگی کے خزانے ابل پڑنے کو اس حالت کیلئے بطور مثال پیش کیا گیا ہے جو نبی کی تعلیم و تربیت اور رہنمائی سے مردہ پڑی ہوئی انسانیت کے یکایک جاگ اٹھنے اور اس کے سینے سے بھلائیوں کے خزانے ابل پڑنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔پھر یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح بارش کے نزول سے یہ ساری برکتیں صرف اسی زمین کو حاصل ہوتی ہیں جو حقیقت میں زرخیز ہوتی ہے اور محض پانی نہ ملنے کی وجہ سے جس کی صلاحیتیں دبی رہتی ہیں، اسی طرح رسالت کی ان برکتوں سے بھی صرف وہی انسان فائدہ اٹھاتے ہیں جو حقیقت میں صالح ہوتے ہیں اور جن کی صلاحیتوں کو محض رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے نمایاں ہونے اور برسرِ کار آنے کا موقع نہیں ملتا۔ رہے شرارت پسند اور خبیث انسان تو جس طرح شوریلی زمین بارانِ رحمت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتی بلکہ پانی پڑتے ہی اپنے پیٹ کے چھپے ہوئے زہر کو کانٹوں اور جھاڑیوں کی صورت میں اگل دیتی ہے، اسی طرح رسالت کے ظہور سے انہیں بھی کوئی نفع نہیں پہنچتابلکہ اس کے برعکس ان کے اندر دبی ہوئی تمام خباثتیں ابھر کر پوری طرح برسرکار آجاتی ہیں۔اسی تمثیل کو بعد کے کئی رکوعوں میں مسلسل تاریخی شواہد پیش کرکے واضح کیا گیا ہے کہ ہرزمانے میں نبی کی بعثت کے بعد انسانیت دوحصوں میں تقسیم ہوتی رہی ہے۔ایک طیب حصہ جو فیض رسالت سے پھلا اور پھولا اور بہتر برگ وبار لایا۔دوسرا خبیث حصہ جس نے کسوٹی کے سامنے آتے ہی اپنی ساری کھوٹ نمایاں کرکے رکھ دی اور آخرکار اس کو ٹھیک اسی طرح چھانٹ کر پھینک دیا گیا جس طرح سنار چاندی سونے کے کھوٹ کو چھانٹ پھینکتاہے۔(تفہیم القرآن)
۔بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت میں صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا، پہلے صور پر تمام عالم فنا ہوجائے گا کوئی چیز زندہ باقی نہ رہے گی، اور دوسری مرتبہ صور پر پھر از سر نو نیا عالم پیدا ہوگا، اور سب مردے زندہ ہوجائیں گے، حدیث مذکور میں ہے کہ ان دونوں مرتبہ کے صور کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا، اور ان چالیس سال میں مسلسل بارش ہوتی رہے گی، اسی عرصہ میں ہر مردہ انسان اور جانور کے اجزاء بدن اس کے ساتھ جمع کرکے ہر ایک کا مکمل ڈھانچہ بن جائے گا، اور پھر دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے وقت ان لاشوں کے اندر روح آجائے گی، اور زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے، اس روایت کا اکثر حصہ بخاری و مسلم میں موجود ہے، بعض اجزاء ابن ابی داؤد کی کتاب البعث سے لئے گئے ہیں۔ (معارف القرآن)
58- سیدنانوحؑ کی بعثت سے پہلےشرک کا آغاز کیسے ہواتھا؟ سیدنا آدمؑ کی وفات کے بعد مدتوں ان کی اولاد راہ ہدایت پر قائم رہی پھر آہستہ آہستہ ان میں بگاڑ پیدا ہونے لگا اور یہ پہلے بتلایا جاچکا ہے کہ فساد فی الارض کی بنیاد شرک پر ہی اٹھتی ہے۔ ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق اس شرک کا آغاز اس طرح ہوا کہ اس قوم میں سے وقتاً فوقتاً پانچ بزرگ اور صالح قسم کے لوگ وفات پاگئے جنہیں دیکھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی یاد آنے لگتی تھی ۔جب یہ بزرگ فوت ہوگئے تو عبادت گذار لوگوں نے ان کے خلا کو بری طرح محسوس کیا شیطان نے انہیں پٹی پڑھائی کہ اگر تم ان بزرگوں کے مجسمے بناکر سامنے رکھ لوتو تمہیں مطلوبہ فائدہ ہوسکتاہے تمہارااللہ کی عبادت میں اسی طرح دل لگاکر ےگا جس طرح ان کی موجودگی میں لگاکرتاتھا۔سادہ لوح لوگ شیطان کے اس فریب میں آگئے اور انہوں نے ان پانچ بزرگوں کے مجسمے بناکر مسجدوں میں اپنے سامنے رکھ لیے ۔یہ لوگ تو ان مجسموں کو دیکھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے رہے مگر بعد میں آنے والی نسلوں نے انہی کی پرستش شروع کردی اور جب سیدنا نوحؑ مبعوث ہوئے تو ان کی قوم بری طرح ان پانچ بزرگوں، جن کے نام ود،سواع،یغوث،یعوق اور نسر سورۂ نوح میں مذکور ہیں، کی پرستش میں پھنس چکی تھی۔(بخاری۔کتاب التفسیر ۔تفسیر سورۂ نوح)(تیسیر القرآن)
- قوم عاد پر ٹھنڈی آندھی کا عذاب:۔ جب اس قوم کی سرکشی انتہا کو پہنچ گئی اور حضرت ھودؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا چیلنج دے دیا تو ان پر تیز آندھی کا عذاب آیا جس میں شدید ٹھنڈک تھی۔یہ آندھی ان کے زمین دوزگھروں میں گھس گئی اور مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی اور اس نے اس قوم کے ایک ایک فرد کو ان کے اپنے گھروں ہی کے اندر ہلاک کرڈالا اور وہ تن و توش رکھنے والی اور اپنی قوت و طاقت پر گھمنڈ کرنے والی قوم اپنے گھروں میں یوں گری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔اس طرح اس قوم کا کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹاڈالاگیا رہے وہ چند لوگ جو سیدناہودؑ پر ایمان لائے تھے تو سیدنا ہودؑ کو بذریعہ وحی ایسے عذاب کی آمد سے پہلے ہی مطلع کردیا گیا تھا۔وہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک احاطہ میں محصور ہوگئے تھے اور یہ احاطہ آندھی کی زد سے باہرتھا لہذا یہ لوگ محفوظ و مامون رہے اور قوم ثمود بھی انہی کی نسل سے پیدا ہوئی جسے عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں اور آگے اسی قوم کا ذکر آرہاہے۔(تیسیر القرآن)
- مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت میں دلیل ہے مسئلہ استعداد کی،یعنی اس میں مثال آئی ہے،ایسے شخص کی جس میں وعظ مؤثر ہوتاہے،اور ایسے کی جس میں مؤثر نہیں ہوتا، شخص طیب الاستعداد اور شخص فاسد الاستعداد کی۔(تفسیر ماجدی)
آ ٹھواں رکوع |
| لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ﴿59﴾ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿60﴾ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿61﴾ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿62﴾ اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴿63﴾ فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿64ع الأعراف 7﴾ |
| 59. ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے۔ 60. تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں۔ 61. انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں۔ 62. تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو۔ 63. کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 64. مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے۔ |
تفسیر آیات
59۔اوپر کا انذار کا مضمون اب تاریخی دلائل سے واضح کیا جارہاہے۔ثابت یہ کرنا مقصود ہے کہ خدا جب کسی قوم میں اپنا رسول بھیج دیتاہے تو اس قوم کے لیے دوہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں: یا تو وہ اصلاح قبول کرلے یا ہلاکت ،اس کے سوا کوئی راہ باقی نہیں رہ جاتی ۔اب قریش کا معاملہ بھی اسی عدالت میں ہے جس میں پچھلی قوموں کے مقدمے پیش ہوکر فیصل ہوئے اور وہ اپنے کیفرکردار کو پہنچیں۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ یہ قصہ اس عہد سے تعلق رکھتا ہے جبکہ پوری نسل آدم کسی ایک ہی خطہ زمین میں رہتی تھی اور پھر وہاں سے نکل کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی۔ اسی وجہ سے تمام قومیں اپنی ابتدائی تاریخ میں ایک ہمہ گیر طوفان کی نشان دہی کرتی ہیں، اگرچہ مرور ایام سے اس کی حقیقی تفصیلات انہوں نے فراموش کردیں اور اصل واقعہ پر ہر ایک نے اپنے اپنے تخیل کے مطابق افسانوں کا ایک بھاری خول چڑھادیا۔ (تفہیم القرآن)
۔ سلسلہ انبیاء میں سب سے پہلے ہی اگرچہ آدم ؑ ہیں، لیکن ان کے زمانہ میں کفر و ضلالت کا مقابلہ نہ تھا ان کی شریعت میں زیادہ تر احکام بھی زمین کی آباد کاری اور انسانی ضرورت کے متعلق تھے۔ کفر اور کافر کہیں موجود نہ تھے۔ کفر و شرک کا مقابلہ حضرت نوح ؑ سے شروع ہوا۔ اور رسالت و شریعت کی حیثیت سے دنیا میں وہ سب سے پہلے رسول ہیں، اس کے علاوہ طوفان میں پوری دنیا غرق ہوجانے کے بعد جو لوگ باقی رہے وہ حضرت نوح ؑ اور ان کے رفقاء سفینہ تھے انہی سے نئی دنیا آباد ہوئی اسی لئے ان کو آدم اصغر کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قصص انبیاء کا آغاز بھی انہی سے کیا گیا ہے جس میں ساڑھے نو سو برس کی طویل عمر میں ان کی پیغمبرانہ جدوجہد اور اس پر اکثر امت کی کجروی اور اس کے نتیجہ میں بجز تھوڑے سے مؤمنین کے باقی سب کا غرق ہونا بیان ہوا ہے، تفصیل اس کی یہ ہے۔۔۔۔۔پہلی آیت میں رشاد ہے لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ۔۔
نوح ؑ آدم ؑ کی آٹھویں پشت میں ہیں۔ مستدرک حاکم میں بروایت ابن عباس ؓ منقول ہے کہ آدم ؑ اور نوح ؑ کے درمیان دس قرن گزرے ہیں، اور یہی مضمون طبرانی نے بروایت ابی ذر ؓ آنحضرتﷺ سے نقل کیا ہے (تفسیر مظہری) قرن عام طور پر ایک سو سال کو کہا جاتا ہے اس لئے ان دونوں کے درمیان اس روایت کے مطابق ایک ہزار سال کا عرصہ ہوگیا، ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ نوح ؑ کی ولادت حضرت آدم ؑ کی وفات سے آٹھ سو چھبیس سال بعد ہوئی ہے اور بتصریح قرآن ان کی عمر نو سو پچاس سال ہوئی، اور آدم ؑ کی عمر کے متعلق ایک حدیث میں ہے کہ چالیس کم ایک ہزار سال ہے اس طرح آدم ؑ کی پیدائش سے نوح ؑ کی وفات تک کل دو ہزار آٹھ سو چھپن سال ہوجاتے ہیں (مظہری) نوح ؑ کا اصلی نام شاکر اور بعض روایات میں سَکَن اور بعض میں عبدالغفار آیا ہے۔ ۔اس میں اختلاف ہے کہ ان کا زمانہ حضرت ادریس ؑ سے پہلے ہے یا بعد میں اکثر صحابہ کا قول یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ حضرت ادریس ؑ سے پہلے ہیں (بحر محیط ) ۔۔۔۔۔مستدرک حاکم میں بروایت ابن عباس ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نوح ؑ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ اور طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔ (معارف القرآن)
63۔ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا۔ل دونوں میں تعلیلیہ ہے اور پورے فقرے میں سببیت کی ایک خاص ترتیب پائی جاتی ہے یعنی پیمبر کا آنا تو انذار کیلئے ہوتاہے،اور یہی انذار سبب ہوجاتاہے تقویٰ کا اور تقویٰ سبب بن جاتاہے جلبِ رحمت کا۔ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۔سارے سلسلۂ ہدایت کی غایت یہی ہوتی ہے کہ انسان میں مغفوریت و مرحومیت کی صلاحیت ِ کامل پیداہوجائے۔(تفسیر ماجدی)
۔وہی شبہات ہزاروں سال پہلے سردارانِ قومِ نوحؑ نے حضرت نوحؑ کی رسالت میں ظاہر کیے تھے۔پھر ان کے جواب مین جو باتیں حضرت نوحؑ کہتے تھے بعینٖہ وہی باتیں محمدؐ بھی کہتے تھے۔ (تفہیم القرآن)
نواں رکوع |
| وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ﴿65﴾ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ﴿66﴾ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿67﴾ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ ﴿68﴾ اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ﴿69﴾ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿70﴾ قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ﴿71﴾ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿72ع الأعراف 7﴾ |
| 65. اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟ 66. تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ 67. انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔ 68. میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں۔ 69. کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ۔اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو۔ 70. وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ۔ 71. ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ 72. پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔ |
تفسیر آیات
69۔ عرب کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد صحتِ جسمانی کے اعتبار سے بھی نمایاں تھی اور اپنے عقلی کارناموں کے اعتبار سے بھی اس کی بڑی دھاک تھی۔۔۔۔فَاذْكُرُوْٓا اٰلَاۗءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ الاء، جمع ہے اِلیٰ ، اَلَی، اَلی کی۔ اس کے معنی عام طور پر اہل لغت نے نعمت کے لیے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے جو نوح ؑ کی پانچویں نسل اور ان کے بیٹے سام کی اولاد میں ہے۔ پھر اس شخص کی اولاد اور پوری قوم عاد کے نام سے مشہور ہوگئی۔ قرآن کریم میں عاد کی ساتھ کہیں لفظ عاد اولیٰ اور کہیں ارم ذات العماد بھی آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد کو ارم بھی کہا جاتا ہے۔ اور عاد اولیٰ کے مقابلہ میں کوئی عاد ثانیہ بھی ہے، اس کی تحقیق میں مفسرین اور مؤ رخین کے اقوال مختلف ہیں۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ عاد کے دادا کا نام اِرَم ہے اس کے ایک بیٹے یعنی عوص کی اولاد میں عاد ہے یہ عاد اولیٰ کہلاتا ہے اور دوسرے بیٹے جثو کا بیٹا ثمود ہے یہ عادثانی کہلاتا ہے۔ اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ عاد اور ثمود دونوں ارم کی دو شاخیں ہیں۔ ایک شاخ کو عاد اولیٰ اور دوسری کو ثمود یا عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے اور لفظ اِرَم عاد وثمود دونوں کے لئے مشترک ہے۔ ۔۔۔۔اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ قوم عاد پر جس وقت عذاب آیا تو ان کا ایک وفد مکہ معظمہ گیا ہوا تھا وہ عذاب سے محفوظ رہا اس کو عاد اخری کہتے ہیں (بیان القرآن) (معارف القرآن)
71۔ 'ناپاکی 'سے مراد کفر و شرک اور اعمال و عقائد کی گندگی و ناپاکی ہے۔اس سے خدا کا غضب بھڑکتااور اس کا قہر نازل ہوتاہے۔مطلب یہ ہے کہ ناپاکی کا اتنا انبار جمع کرلینے کے بعد تم خدا کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہو،اب صرف اس کا انتظار باقی رہ گیا ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
دسواں رکوع |
| وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿73﴾ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ﴿74﴾ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ ﴿75﴾ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ﴿76﴾ فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ﴿77﴾ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ ﴿78﴾ فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ ﴿79﴾ وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ﴿80﴾ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ﴿81﴾ وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ ﴿82﴾ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ﴿83﴾ وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿84ع الأعراف 7﴾ |
| 73. اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا۔ 74. اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ 75. تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں۔ 76. تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے۔ 77. آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ۔ 78. تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ 79. پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے۔ 80. اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا۔ 81. یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو۔ 82. تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں۔ 83. تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی۔ 84. اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا۔ |
تفسیر آیات
73۔ سیدنا صالح علیہ السلام کامرکز تبلیغ اور قوم ثمود:۔قوم ثمود کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع تھا انہیں قرآن کریم نے اصحاب الحجر بھی کہا ہے حجر ان کے ایک بارونق شہر کا نام تھا جو مدینہ سے تبوک کے راستے پر واقع ہے چناچہ جب آپؐ غزوۂ تبوک سے واپس آئے تو مقام حجر پر اترے ۔کچھ صحابہ نے جلدی سے وہاں کے کسی کنوئیں سے پانی لے کر آٹا گوندھ لیا تھا آپؐ نے اس گوندھے ہوئے آٹے کو پھینک دینے یا اونٹوں کو کھلادینے کا حکم دیا اور جو پانی مشکوں میں بھرا گیا تھا اسے بہادینے کا حکم دیا۔ پھر آپ نے صحابہؓ کو وہ کنواں دکھلایا جہاں سے صالحؑ کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔آپؐ نے فرمایا اگر پانی لینا ہے تو اس کنوئیں سے لے کر استعمال کروپھر آپ نے جلد از جلد وہاں سے کوچ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گنہگاروں کی بستیوں میں نہ جایا کرو مگر روتے ہوئے، اللہ سے ڈرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے جاؤکہیں ایسا نہ ہوکہ جو عذاب ان پر آیا تھا تم پربھی آن پڑے یہ کہہ کر آپ نے کجاوے ہی پر اپنا منہ چادر سے ڈھانک لیا۔(بخاری۔ کتاب الانبیاء۔باب قول اللہ والیٰ ثمود اخاھم صالحا)۔(تیسیر القرآن)
- قوم کے مورثِ اعلیٰ کا نام ثمود تھا اور مشہور نسب نامہ یہ ہے۔ثمود بن حشیر بن رزم بن سام بن نوح ،عاد جس طرح عرب جنوبی و مشرقی کے مالک تھے،ثمود اس کے مقابل عرب مغربی و شمالی پر قابض تھے،ان کے دار الحکومت کا نام حجر تھا،یہ شہر حجاز سے شام کو جانے والے قدیم راستہ پر واقع تھا،اب عموماًاس شہر کو مدائن صالح کہتے ہیں، یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی ،فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا، پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرنا ، اس قوم کا خاص پیشہ تھا،جس سے ثابت ہوتاہے کہ ریاضیات ،ہندسہ اور انجینئر ی کے فنون میں اس قوم کو کمال حاصل تھا ،یہ یادگاریں کھنڈروں کی صورت میں اب تک باقی ہیں ،ان پر ارامی اور ثمودی خط میں کتبے منقوش ہیں۔(ارض القرآن)۔۔۔۔۔ اَخَاهُمْ۔یعنی قوم ثمود کے ہم وطن یا ہم قوم ۔صالح۔توریت میں ان سے ملتا جلتا ایک نام سلح آتاہے،اگر انہی کوحضرت صالحؑ فرض کیا جائے توشجرۂ نسب یہ ٹھہرتاہے،صالح بن ارفخشدبن سام بن نوح ،ایک نسب نامہ یوں بھی منقول ہے صالح بن عبید بن آصف بن شیخ بن عبید بن جدربن ثمود(خطبات احمدیہ از سرسید احمد خان)۔۔۔۔۔آپ کا مزارمبارک جزیرۂ نمائے سیناکے مشرقی کنارہ پر آج بھی زیارت گاہ خلائق ہے،ملاحظہ ہوانگریزی تفسیر القرآن ۔۔۔۔۔وہی پیام ِ توحید جو سارے انبیاء کی دعوتوں کا خلاصہ اور سب میں مشترک رہاہے۔حضرت ہودؑ کی تبلیغ کے سلسلہ میں یہ فقرہ ابھی اوپر گزرچکاہے۔انگریز مترجم قرآن سیل نے فرنگی سیاحوں کے مشاہدات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جس پہاڑ سے وہ اونٹنی بہ طور خارق عادت برآمد ہوئی تھی ،اس میں اب تک ایک شگاف 60 فٹ کا موجود ہے،اور جزیرہ نمائے سینا میں جبل موسیٰ کے قریب"ناقۃ النبی "کا نقشِ قدم آج بھی زیارت گاہ خلائق ہے،ملاحظہ ہوانگریزی تفسیر القرآن۔(تفسیر ماجدی)
77۔اللہ کی اونٹنی کا انجام اور اسے مارنے والا :۔ اس قوم نے جس معجزہ کا مطالبہ کیا تھا وہ ان کیلئے وبال جان بن گیا کیونکہ جتنا پانی ان کے تمام جانور پیتے تھے اتنا وہ اکیلی ہی پی جاتی تھی اور ان کے ہاں پانی کی قلت بھی تھی اسی لیے پانی کی باری مقرر کی گئی تھی اور جتنا سب جانور کھاتے تھے اتنا وہ اکیلی کھاجاتی تھی۔مگر وہ اس اونٹنی کو برے ارادے سے ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے کیونکہ وہ دل سے یقین کرچکے تھے کہ صالحؑ سچا پیغمبر ہے اور اگر ہم نے اس اونٹنی سے کوئی براسلوک کیا تو پھر ہماری خیر نہیں لیکن دل سے ہر کافر یہ چاہتاتھا کہ کسی نہ کسی طرح اس اونٹنی کا وجود ختم ہوجائے تو بہتر ہے ۔آخر باہمی مشورے اور اتفاق رائے سے ان میں سے ایک تنو مند اور سب سے زیادہ بدبخت انسان نے اس بات کا ذمہ لیا کہ اس اونٹنی کو میں ٹھکانے لگاتاہوں چنانچہ ایک دفعہ رسول اللہؐ نے اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ یہ شخص اپنی قوم کا ایک زور آور ،شریر مضبوط شخص تھا جو اونٹنی کو زخمی کرنے کی مہم پر اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا نام قدار تھا اور وہ اپنی قوم میں ایسے ہی تھا جیسے تم میں ابوزمعہ(جو سیدنا زبیر بن عوام کا چچاتھا)(بخاری۔کتاب التفسیر ۔سورۂ الشمس)۔(تیسیر القرآن)
۔ ۔۔ہر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے، یا جس کے ارتکاب کو قوم کی رضا اور پسندیدگی حاصل ہو، ایک قومی گناہ ہے، خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا ایک فرد واحد ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ قرآن کہتا ہے کہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الاعلان کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔ (تفہیم القرآن)
78۔ قوم ثمود کے کھنڈرات:۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالحؑ کو بھی ان کے منصوبہ کی اطلاع دیدی اور ہجرت کا حکم بھی آگیا تیسرے دن ان لوگوں کو پہاڑوں کی طرف سے ایک سیاہ بادل ان کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو بڑے خوش ہوئے کہ اب بارش ہونے والی ہے مگریہ بارش برسانے والا بادل نہ تھا بلکہ ان کی جانوں پر مسلط ہوجانے والا اللہ کا عذاب تھا جس میں سیاہ غلیظ گندھک کے بخارات ملاہوادھواں تھا۔ ساتھ ہی کسی پہاڑ سے کوئی لاوا پھٹا جس سے شدید زلزلہ آگیا اور اس سےہولناک چیخوں کی آواز بھی آتی رہی جس سے دل دہل جاتے اور کان پھٹے جاتے تھے اور غلیظ دھوئیں نے ان کے جسم کے اندر داخل ہوکر ان کے دلوں اور کلیجوں کو ماؤف کردیا اور انہیں سانس تک لینا بھی محال ہوگیا جس سے یہ ساری کی ساری قوم چیخ چیخ کر اور تڑپ تڑپ کر وہیں ڈھیر ہوگئی اور اس شدید زلزلے نے ان کے محلات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات سوائے چند ایک سب چکنا چور ہوگئے ۔جب غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی اکرمؐ تھوڑی دیر کیلئے حجرکے مقام پر اترے تو آپؐ نے صحابہ کرام کو وہ کنواں بھی دکھلایا جہاں سے اونٹنی پانی پیتی تھی اس درہ کو فج الناقۃ کہتے ہیں۔ پھر کچھ صحابہؓ ان کھنڈرات کو بطور سیر و تفریح دیکھنے چلے گئے تو اس پر آپؐ نے فرمایا کہ ایسے مقامات جہاں پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہومقام عبرت ہوتے ہیں۔وہاں داخل ہو تو اللہ سے ڈرتے ہوئے اور روتے ہوئے داخل ہو اور وہاں سے جلد نکل جایا کرو مباداایسا عذاب تم پر بھی نہ آجائے جو ان پر آیاتھا۔(بخاری۔ کتاب الانبیاء ۔باب قول اللہ والیٰ ثمود اخاھم صالحا)(تیسیر القرآن)
- مرشد تھانویؒ نےفرمایا کہ اس خطاب سے سماع موتیٰ ثابت ہوتاہے تاوقتیکہ کوئی دلیل قوی اس کے رد میں نہ ہو۔(تفسیر ماجدی)
80۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوپر جن رسولوں کی دعوت کا ذکر ہوا ہے ان میں سے ہر ایک کی دعوت کا آغاز توحید سے ہوا ہے لیکن حضرت لوط نے توحید کی دعوت سے آغاز کرنے کی بجائے سب سے پہلے قوم کی اس بےحیائی کو موضوع بحث بنایا۔۔۔دوسری تمام برائیاں بھی، جو شرک و کفر کے لوازم میں سے ہیں، موجود تھیں لیکن جن کی فطرت اتنی اوندھی ہوگئی ہو کہ مرد مردوں ہی کو شہوت رانی کا محل بنائے ہوئے ہوں ان کو تو سب سے پہلے اس غلاظت کی دلدل سے نکالنے کی ضرورت تھی، ان سے کوئی دوسری بات کرنے کا مرحلہ تو بہرحال اس کے بعد ہی آسکتا تھا۔۔۔۔س سے اندازہ کیجیے کہ قرآن کی نگاہ میں عمل قوم لوط کی سنگینی کا کیا حال ہے اور پھر ذرا یاد کیجیے اس واقعہ کو کہ برطانوی پارلیمنٹ نے پچھلے دنوں اپنے ایک قانون کے ذریعہ سے اپنی قوم کے لیے اس ملعون فعل کو بالکل مباح کردیا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ اب صرف بحیرہ مردار ہی اس کی ایک یادگار باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحرِ لوط کہا جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
81۔یہ قابل نفرت فعل جس کی بدولت اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی ہے، اس کے ارتکاب سے تو بدکردار انسان کبھی باز نہیں آئے، لیکن یہ فخر صرف یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفہ نے اس گھناؤنے جرم کو اخلاقی خوبی کے مرتبے تک اٹھانے کی کوشش کی اور اس کے بعد جو کسر باقی رہ گئی تھی اسے جدید مغربی تہذیب نے پورا کیا کہ علانیہ اس کے حق میں زبردست پروپیگنڈا کیا گیا، یہاں تک کہ بعض ملکوں کی مجالس قانون ساز نے اسے باقاعدہ جائز ٹھیرا دیا۔ (تفہیم القرآن)
84۔یہاں بارش سے مراد پانی کی بارش نہیں ہے بلکہ کنکروں اور پتھروں کی بارش ہے جو صحراؤں سے اٹھتی ہے اور قافلے کے قافلے اور بستیوں کی بستیاں جس کی اٹھائی ہوئی ریت اور جس کے برسائے ہوئے کنکروں اور پتھروں کے نیچے دب کر تباہ ہوجاتی ہیں۔ عربی میں اس کو حاصب یعنی کنکر پتھر برسانے والی آندھی کہتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
۔اور یہ منظر صرف نزول قرآن کے زمانہ میں نہیں آج بھی موجود ہے بیت المقدس اور نہر اردن کے درمیان آج بھی یہ قطعہ زمین بحر لوط یا بحر میت کے نام سے موسوم ہے۔ اس کی زمین سطح سمندر سے بہت زیادہ گہرائی میں ہے اور اس کے ایک خاص حصہ پر ایک دریا کی صورت میں ایک عجیب قسم کا پانی موجود ہے جس میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی لئے اس کو بحر میت بولتے ہیں۔ یہی مقام سدوم کا بتلایا جاتا ہے۔ نعوذ باللّہ من عذابہ و غضبہ۔ (معارف القرآن)
گیارہواں رکوع |
| وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ ﴿85﴾ وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ ﴿86﴾ وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ ﴿87﴾ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ ﴿88﴾ قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ ﴿89﴾ وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ﴿90﴾ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚ ۖۛ ﴿91﴾ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ ﴿92﴾ فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿93ع الأعراف 7﴾ |
| 85. اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے۔ 86. اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ 87. اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ 88. (تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)۔ 89. اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ 90. اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے۔ 91. تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ 92. (یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔ 93. تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں۔ |
تفسیر آیات
85۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد چھ سات سو برس تک مشرک اور بداخلاق قوموں کے درمیان رہتے رہتے یہ لوگ شرک بھی سیکھ گئے تھے اور بداخلاقیوں میں بھی مبتلا ہوگئے تھے، مگر اس کے باوجود ایمان کا دعویٰ اور اس پر فخر برقرار تھا۔۔۔۔۔اس فقرے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود مدعی ایمان تھے۔ جیسا کہ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں، یہ دراصل بگڑے ہوئے مسلمان تھے اور اعتقادی و اخلاقی فساد میں مبتلا ہونے کے باوجود ان کے اندر نہ صرف ایمان کا دعویٰ باقی تھا بلکہ اس پر انہیں فخر بھی تھا۔ (تفہیم القرآن)
۔ حضرت شعیب ؑ محمد بن اسحاق کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ کے صاحبزادہ مدین کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت لوط ؑ سے بھی رشتہ قرابت رکھتے ہیں۔ مدین حضرت خلیل اللہ ؑ کے صاحبزادے ہیں ان کی نسل و اولاد بھی مدین کے نام سے معروف ہوگئی اور جس بستی میں ان کا قیام تھا اس کو بھی مدین کہتے ہیں۔ گویا مدین ایک قوم کا بھی نام ہے اور ایک شہر کا بھی۔۔۔۔حضرت شعیب ؑ کو ان کے حسن بیان کی وجہ سے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا (ابن کثیر، بحر محیط)۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قوم کا نام ہے اور عذاب کی جو تین قسمیں ابھی ذکر کی گئی ہیں۔ تینوں اس قوم پر جمع ہوگئیں۔ پہلے بادل سے آگ برسی پھر اس کے ساتھ سخت آواز چنگھاڑ کی شکل میں آئی پھر زمین میں زلزلہ آیا، ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(معارف القرآن)
ـــــ مدین کے لوگ بحر احمر کے ساحل پر ایک اہم تجارتی گزرگاہ پر آباد تھے، اس وجہ سے انہوں نے تجارت میں بہت ترقی کی۔پھر ان کے اندر عقائد ی خرابیوں کے ساتھ ساتھ وہ برائیاں بھی پیدا ہوگئیں جو تجارت پیشہ قوموں میں پیدا ہوجایا کرتی ہیں۔حضرت شعیبؑ نے انہی برائیوں سے منع کیا اور واضح کیا کہ ناپ تو ل کی کمی عدل و قسط کے انکار پر مبنی اور قوم کے پورے نظام معاشرت و معیشت کو درہم برہم کردینے کے ہم معنی ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
87۔قوم کو یہ مہلت ان صالحین کی برکت سے ملتی ہے جو اس کے اندر سے رسول کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
88۔ اس پر فقیہانہ اشکال پیش کیا گیا ہے کہ حضرت شعیبؑ بحیثیت نبی ہونے کے ہمیشہ ہی سے مومن تھے، پھر ان سے ملت کفر کی طرف واپس آنے کی فرمائش کے کیا معنی؟لیکن یہ دقیق اشکال نہیں ۔پیمبر، یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ بعثت سے قبل اپنے ہاں کے موروثی مذہب کی مخالفت نہیں کرتا اور اس لئے وہ قدرتاًاسی میں سمجھا جاتاہے ،یہ تو جوں جوں اس کا شعور بیدار ہوتاجاتاہے،وہ گردوپیش کی خرابیوں پر توجہ کرتاجاتاہے،یہاں تک کہ منصب نبوت پر آجانے کے بعد علانیہ مخالفت اپنے آبائی مذہب کی کرنے لگتاہے۔(تفسیر ماجدی)
89۔ گویا اس فقرے میں اپنے عزم کا اظہار بھی ہے اور معاملہ اللہ کے سپرد کرنے کا بھی ۔یہی عزم اور سپردگی توحید کی حقیقت ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
90۔اس چھو ٹے سے فقرے پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے۔ یہ ٹھہر کر بہت سوچنے کا مقام ہے۔ مَدیَنَ کے سردار اور لیڈر دراصل یہ کہہ رہے تھے اور اسی بات کا اپنی قوم کو بھی یقین دلا رہے تھے کہ شعیب جس ایمان داری اور راست بازی کی دعوت دے رہا ہے اور اخلاق و دیانت کے جن مستقل اصولوں کی پابندی کرانا چاہتا ہے، اگر ان کو مان لیا جائے تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔ ہماری تجارت کیسے چل سکتی ہے اگر ہم بالکل ہی سچائی کے پابند ہوجائیں اور کھرے کھرے سودے کرنے لگیں۔۔۔۔ یہ بات صرف قوم شعیب کے سرداروں ہی تک محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے میں بگڑے ہوئے لوگوں نے حق اور راستی اور دیانت کی روش میں ایسے ہی خطرات محسوس کیے ہیں۔ ہر دور کے مفسدین کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت اور سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بےایمانی اور بد اخلاقی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ (تفہیم القرآن)
۔دوسرے فرمایا کہ جب اللہ نے اپنے فضل و رحمت سے اس لعنت سے ہمیں نجات دی تو ہمارے لیے اس میں دوبارہ مبتلا ہونے کا کیا سوال ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ جواب حضرت شعیب اپنے ان ساتھیوں کی طرف سے بھی دے رہے ہیں جو حضرت شعیب پر ایمان لانے سے پہلے قوم کی عام گمراہی میں مبتلا رہ چکے تھے اس وجہ سے انہوں نے "بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی" کے الفاظ فرمائے ورنہ جہاں تک حضرات انبیاء کا تعلق ہے وہ بعثت سے پہلے بھی ہدایت فطرت پر ہوتے ہیں۔ ان کا دامن شرک سے کبھی آلودہ نہیں ہوتا۔ (تدبرِ قرآن)
91۔ یہ عذاب دور سے دیکھنے میں غبار یا دھوئیں کے ایک ستون یا پہاڑ کی شکل میں نظر آیا۔ یہ قرینہ، جیسا کہ ہم قوم لوط کی سرگزشت میں بیان کرچکے ہیں، حاصب کے عذاب کا ہے۔ حاصب کے عذاب میں رجفہ، صیحہ اور ظلہ، سب جمع ہوجاتے ہیں۔ اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ قرآن کے ایک اور مقام سے بھی یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان پر قوم لوط ہی والا عذاب نازل ہوا تھا۔ سورة ہود میں حضرت شعیب کی زبان سے قوم کو مخاطب کر کے یہ دھمکی نقل ہوئی ہے۔۔ اے میرے ہم قومو، میری مخالفت تمہارے لیے کہیں اس بات کا باعث نہ بن جائے کہ تم پر بھی اسی طرح کا عذاب آدھمکے جس طرح کا عذاب قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر آیا اور قوم لوط تم سے کچھ دور بھی نہیں، اس آیت کے آخری فقرے پر غور کیجیے تو اس سے اشارہ نکلتا ہے کہ یہ بھی اسی حاصب کی زد میں آئے جس کی زد میں ان کی پیشرو پڑوسی قوم لوط کے لوگ آئے تھے۔ (تدبرِ قرآن)
93۔یہ جتنے قصے یہاں بیان کیے گئے ہیں ان سب میں ”سرِّ دلبراں در حدیث دیگراں“ کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ ہر قصہ اس معاملہ پر پورا پورا چسپاں ہوتا ہے جو اس وقت محمد ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان پیش آ رہا تھا۔ (تفہیم القرآن)
بارہواں رکوع |
| وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ ﴿94﴾ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿95﴾ وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿96﴾ اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ ﴿97﴾ اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ ﴿98﴾ اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿99ع الأعراف 7﴾ |
| 94. اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔ 95. پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے۔ 96. اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔ 97. کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں۔ 98. اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں۔ 99. کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں۔ |
تفسیر آیات
۔ رکوع :12 مکمل ، اور رکوع 13 کی آیات 100 سے 102 تک عمومی گفتگو متعلقہ سنت اللہ ہے
94۔ قریش مکہ پر قحط کا عذاب: ایسا ہی ایک ہلکا عذاب قریش مکہ پر بھی بطور تنبیہ آیا تھا جس کا ذکر سورۂ دخان میں موجود ہے۔ ہوایہ تھا کہ جب قریش مکہ کی معاندانہ سرگرمیاں حد سے بڑھ گئیں تو آپؐ نے ان کے حق میں بددعا فرمائی کہ یا اللہ ان پر سیدنا یوسفؑ کے زمانہ جیساقحط نازل فرما۔چناچہ آپؐ کی دعا قبول ہوئی اور مکہ میں ایسا قحط پڑا جس میں یہ معززین قریش مردار،ہڈیاں اور چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوگئےباہر سے بھی کہیں سے غلہ نہیں پہنچ رہاتھا اور ان لوگوں کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے دھواں ہی دھواں نظرآتا۔قحط سے تنگ آکر ان لوگوں نے ابوسفیاں کو آپؐ کے پاس بھیجا اوراس نے آکر آپؐ سے درخواست کی کہ آپؐ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں جبکہ آپ کی قوم خشک سالی سے تباہ ہورہی ہے ہم آپ کو رحم اور قرابت کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ اس قحط کے دورہونے کی دعا کیجئےاور اگر یہ مصیبت دور ہو گئی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔چنانچہ آپؐ کی دعا سے بارش ہوگئی اتفاق سے باہر سے غلہ آنا بھی شروع ہوگیا پھر جب حالات میں تبدیلی آگئی تو ان متعصب لوگوں کے دل پھر برگشتہ ہونے لگے پھر سرداران قوم نے یہ کہنا شروع کردیا کہ زمانے میں ایسے اتارچڑھاؤ پہلے بھی آتے رہتے ہیں اگر اس مرتبہ قحط پڑ گیا تو یہ کون سی نئی بات ہے لہذا ایسی چیزوں سے متاثر ہوکر اپنے دین کو ہر گز نہیں چھوڑنا۔یہ واقعہ بخاری میں بھی عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت سے کئی مقامات پر مذکور ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ ایک ایک نبی اور ایک ایک قوم کا معاملہ الگ الگ بیان کرنے کے بعد اب وہ جامع ضابطہ بیان کیا جا رہا ہے جو ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء ؑ کی بعثت کے وقت اختیار فرمایا ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ باساء اور ضراء کا مفہوم : باساء اور ضراء کی تحقیق انعام :42 کے تحت بیان ہوچکی ہے۔ یہ دونوں لفظ جب ایک دوسرے کے بالمقابل استعمال ہوتے ہیں تو پہلے سے مالی آفتیں مراد ہوتی ہیں۔ مثلا قحط، گرانی، کساد بازاری وغیرہ اور دوسرے سے جسمانی آفتیں مثلاً بیماریاں اور وبائیں وغیرہ۔ لیکن جب ضراء کا لفظ سراء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو یہ دونوں الفاظ ہر قسم کی بد حالی و خوش حالی کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
96۔برکت کے لفظی معنی زیادہ ہونے کے ہیں ۔آسمان اور زمین کی برکتوں سے مراد یہ ہے کہ ہر طرح کی بھلائی ہر طرف سے ان کےلئے کھول دیتے ،آسمان سے پانی ضرورت کے مطابق وقت پر برستا ، زمین سے ہر چیز خواہش کے مطابق پیدا ہوتی ، پھر ان چیزوں سے نفع اٹھانے اور راحت حاصل کرنے کےسامان جمع کردئیے جاتے کہ کوئی پریشانی اور فکر لاحق نہ ہوتی جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی نعمت مکدّر ہوجائے ،ہر چیز میں برکت یعنی زیادتی ہوتی ۔برکت دوطرح ہے۔کبھی تواصل چیز بڑھ جاتی ہے جیسے حضورؐ کے اعجاز سے کھانا ،پانی اور دودھ ۔بعض اوقات چیز تو وہی رہی لیکن اس کے ذریعے کام دوگناچوگنا ہوگئے ۔یہ برکت انسان کے مال ،جان، کام ، وقت میں بھی۔(معارف القرآن)
- اللہ کے فرمانبردار معاشرے پر برکتوں کا نزول: ۔۔۔۔۔رسول اللہؐ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے کسی ایک حد کے قائم کرنے سے اتنی برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتاہے جتنا چالیس دن کی بارش سے ہوتاہے۔(نسائی ۔کتاب قطع السارق ۔باب الترغیب فی اقامۃ الحد)۔(تیسیر القرآن)
- اَهْلَ الْقُرٰۤى۔ مراد رسول اللہؐ کے معاصرین ،منکریں اہل مکہ ہیں۔۔۔الْخٰسِرُوْنَ۔خسرون کو کافر وں کے معنی میں لیا گیاہے، آیت سے حنفیہ نے یہ استنباط کیاہےکہ عذاب الٰہی کی طرف سے قطعاً بے خوف ہوجانا کفر ہے اور شافعیہ کہتے ہیں کہ گناہ کبیرہ ہے۔(تفسیر ماجدی)
تیرہواں رکوع |
| اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ﴿100﴾ تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ ﴿101﴾ وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ ﴿102﴾ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ ﴿103﴾ وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ ﴿104﴾ حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ ﴿105﴾ قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿106﴾ فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ ﴿107﴾ وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿108ع الأعراف 7﴾ |
| 100. کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔ 101. یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ 102. اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا۔ 103. پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔ 104. اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔ 105. مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے۔ 106. فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لاؤ (دکھاؤ)۔ 107. موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا (ہوگیا)۔ 108. اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)۔ |
تفسیر آیات
100۔ الْاَرْضَ۔مراد ساری زمین نہیں، ارض کے معنی"ملک"کے بھی بلاتکلف آتے ہیں،اور وہی یہاں مراد ہیں۔(تفسیر ماجدی)
101۔ پچھلی آیت میں جو ارشاد ہوا تھا کہ ' ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر وہ کچھ نہیں سنتے' اس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرما دی ہے۔ (تفہیم القرآن)
103 تا 171:ان پر طوفان ،ٹڈی دل،سرسریوں،مینڈکوں اور خون کا عذاب مسلط کیا گیا۔(آیت:133)۔۔۔بنی اسرائیل کو قصۂ موسیٰؑ و بنی اسرائیل سے عبرت حاصل کرنے،اورنبی امی محمدؐ کی پیروی کا حکم دیا گیا۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
104۔ لقب فرعون کی حقیقت اور فرعون کی سلطنت کی وسعت ۔۔۔ ۔۔ایک وہ فرعون جس نے سیدناموسیٰؑ کی پرورش کی تھی اور اس کا نام رعمسیس تھا۔(تیسیر القرآن)
105۔ بنی اسرائیل حضرت موسیٰؑ کی قوم ،اصلاً ایک موحد قوم تھی،اور اس وقت ایک مشرک تاجدار کے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنی ہوئی تھی ،اس لئے موسیٰؑ کا پہلا مطالبہ قدرۃً یہی ہے کہ میں ان موحدوں کو اس مشرکانہ و جاہلی فضا سے دور اور الگ لے جاکر ایک الگ خطۂ زمین میں آباد کروں گا۔گویا اس شرک کی دنیا سے کٹ کر، ایک الگ اور صحیح معنیٰ میں "پاکستان" بنانے کا ارادہ و مطالبہ !۔(تفسیر ماجدی)
۔ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے اپنی پوری اسکیم واضح نہیں فرمائی تھی۔ صرف اتنا ظاہر کیا کہ وہ تین دن کی راہ بیابان میں جا کر خدا کی عبادت اور قربانی کرنا چاہتے ہیں اور قربانی بھی خاص طور پر گائے کی کرنا چاہتے ہیں جس سے قبطیوں نے بنی اسرائیل کو اسی طرح محروم کر رکھا تھا جس طرح بھارت میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو محروم کر رکھا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے چاہا کہ مصر کے غلامانہ ماحول سے الگ لے کر بنی اسرائیل کو منظم اور ان کے اندر ان تمام دینی روایات کو از سر نو زندہ کریں جو مصر کی محکومانہ زندگی میں بالکل مردہ ہوچکی تھیں۔ ہمارا قیاس ہے کہ اس مقصد کے لیے وہ سینا کے اسی علاقے میں جانا چاہتے ہوں گے جہاں انہوں نے مدین سے واپسی کے موقع پر خدا کی تجلی دیکھی تھی اور پھر جہاں ان کو اس ہجرت کے سفر میں احکام عشرہ کی الواح عطا ہوئیں۔ (تدبرِ قرآن)
107۔ یہ خیال رہے کہ مصر قدیم میں سانپ ایک مقدس جانور سمجھا جاتاتھا ،جیسے ہندستان میں گائے،بلکہ سانپ تو خود ہندوستان میں بھی مقدس سمجھا جاتاہے،اور ہندؤں میں سانپ کی پوجا کا دن،ناگ پنچمی ،ہربرسات میں دھوم سے منایا جاتاہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ بعض تاریخی روایات میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اس اژدھا نے فرعون کی طرف منہ پھیلایا تو گھبرا کر تخت شاہی سے کود کر حضرت موسیٰ ؑ کی پناہ لی اور دربار کے ہزاروں آدمی اس کی دہشت سے مرگئے (تفسیر کبیر) (معارف القرآن)
چودھواں رکوع |
| قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ ﴿109﴾ یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ ﴿110﴾ قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ ﴿111﴾ یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ﴿112﴾ وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ ﴿113﴾ قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ﴿114﴾ قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ ﴿115﴾ قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ﴿116﴾ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ ﴿117﴾ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ ﴿118﴾ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ ﴿119﴾ وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ ﴿120﴾ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ ﴿121﴾ رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ ﴿122﴾ قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ﴿123﴾ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ ﴿124﴾ قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ ﴿125﴾ وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿126ع الأعراف 7﴾ |
| 109. تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے۔ 110. اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟ 111. انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے۔ 112. کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں۔ 113. (چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے۔ 114. (فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے۔ 115. (جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں۔ 116. (موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔ 117. (اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی۔ 118. (پھر) تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے، باطل ہوگیا۔ 119. اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے۔ 120. (یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ 121. اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے۔ 122. یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔ 123. فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے۔ 124. میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔ 125. وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ 126. اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو۔ |
تفسیر آیات
110۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک غلام قوم کا ایک بےسرو سامان آدمی یکایک اٹھ کر فرعون جیسے بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے جو شام سے لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک کے عظیم الشان ملک کا نہ صرف مطلق العنان بادشاہ بلکہ معبود بنا ہوا تھا، تو محض اس کے اس فعل سے کہ اس نے ایک لاٹھی کو اژدہا بنادیا اتنی بڑی سلطنت کو یہ خطرہ کیسے لاحق ہوجاتا ہے کہ یہ اکیلا انسان سلطنت مصر کا تختہ الٹ دے گا اور شاہی خاندان کو حکمراں طبقے سمیت ملک کے اقتدار سے بےدخل کر دے گا ؟ پھر یہ سیاسی انقلاب کا خطرہ آخر پیدا بھی کیوں ہوا جبکہ اس شخص نے صرف نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ ہی پیش کیا تھا اور کسی قسم کی سیاسی گفتگو سرے سے چھیڑی ہی نہ تھی؟۔۔ا س سوال کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کا دعوائے نبوت اپنے اندر خود ہی یہ معنی رکھتا تھا کہ وہ دراصل پورے نظام زندگی کو بحیثیت مجموعی تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں لا محالہ ملک کا سیاسی نظام بھی شامل ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
116۔ اور موسیٰؑ نے جو جواب دیا وہ ازراہ تکریم نہیں تھا نہ ہی اس لئے کہ ان کی نگاہ میں جادوگرکوئی قابل تعظیم چیز تھے بلکہ اس لیے کہ حق کی وضاحت ہوہی اس صورت میں سکتی ہے کہ پہلے باطل اپنا پورا زور دکھالے پھر اس کے بعد اگر حق غالب آئے تو سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔مثلاً اگر موسیٰؑ پہلے اپنا عصاڈالدیتے تو ممکن تھا کہ مقابلے کی نوبت ہی نہ آتی اور جادوگر پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتے تو لوگوں میں کئی طرح کے شکوک پیدا ہوسکتے تھے یا دوبا رہ مقابلے کیلئے جادوگر وقت طلب کرسکتے تھے۔(تیسیر القرآن)
- مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ الناس کے تحت میں موسیٰؑ بھی داخل ہیں، چنانچہ انہیں بھی دھوکا لگا،جیساکہ سورۂ طٰہٰ میں ہے یُخَیَّلُ اِلَیْهِ تو اس سے امورذیل مستنبط ہوئے:۔ (1) سحر کی ایک قسم خیال بندی بھی ہے، (اور اسی کی جدید قسمیں مسمریز م ،ہپناٹزم وغیر ہ ہیں) (2) ایسے نظاروں سے متاثر ہوجاناکمال باطنی کے منافی نہیں،چنانچہ موسیٰؑ بھی خائف ہوئے (3) اہل حق کا ایسے امور پر یا ان کے ابطال پر قادر ہونا ضروری نہیں۔(تفسیر ماجدی)
117۔ مقابلے میں فرعون کی شکست:۔ اس کے دومطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدہا بن کر ان رسیوں اور لاٹھیوں کے مصنوعی سانپوں کو نگلنے لگا اور چونکہ یہ مصنوعی سانپ حقیقتاً سانپ نہیں تھے بلکہ حقیقتاً وہ رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں محض لوگوں کی نظربندی ہوئی تھی۔اس لیے جو کچھ موسیٰؑ کے اژدہا نے نگلاوہ فی الحقیقت رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مطلب واضح ہوتاہے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں سیدنا موسیٰؑ کا اژدہا پہنچتا تھا تو مصنوعی سانپ لوگوں کو پھر رسیاں اور لاٹھیاں ہی نظر آنے لگتے تھے اور وہ اژدہا صرف ان کی شعبدہ کاری کا خاتمہ کررہاتھا جو جادوگر نظربندی کے ذریعے لوگوں کو دکھلا رہے تھے۔(تیسیر القرآن)
126۔ فرعون نے پانسہ پلٹتے دیکھ کر آخری چال یہ چلی تھی کہ اس سارے معاملے کو موسیٰ اور جادوگروں کی سازش قرار دیدے اور پھر جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دیکر ان سے اپنے اس الزام کا اقبال کرالے ۔لیکن یہ چال بھی الٹی پڑی ۔اس مقام پر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ چند لمحوں کے اندر ایمان نے ان جادوگروں کی سیرت میں کتنا بڑا انقلاب پیدا کردیا۔(تفہیم القرآن)
ـــــ ایمان باللہ کا کرشمہ اور انقلاب ِ عظیم: ایک طرف انعام کی خواہش اور دوسری طرف بعد از ایمان فرعون کی دھمکی کی پرواہ نہیں ۔اس انقلاب کے سبب پر غور کیجئے تو یہ حقیقت صاف نظر آئے گی کہ اگر انسان ایمان سے خالی ہے تو اس سے زیادہ حقیر کوئی شے نہیں اور اگر وہ ایمان سے بہرہ مند ہے تو اس سے بلند کوئی شے نہیں ۔(تدبرقرآن)
- یورپ کی پچھلی جنگ ِ عظیم کےاسباب و نتائج پر غور کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ مسلمان جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں ،یہی وہ قوم ہے جو میدان ِ جنگ میں سب سے زیادہ آگے ہیں۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت جرمن اقوام میں فنونِ حرب کے ماہرین اس کی تاکید کرتے تھے کہ فوج میں دینداری اور خوف آخرت پیدا کرنے کی سعی کی جائے کیونکہ اس سے جو قوت حاصل ہوتی ہے وہ کسی دوسری چیز سے حاصل نہیں ہوسکتی (پاکستانی فوج بمقابلہ انڈین)۔۔۔۔۔افسوس ہے کہ آج مسلمان اور مسلم حکومتیں اپنے آپ کو قوی بنانے کیلئے ساری ہی تدبریں اختیار کررہے ہیں مگر اس گُر کو بھول بیٹھے ہیں جو قوت اور وحدت کی روح ہے۔۔۔۔ فرعون پر حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی ہیبت کا اثر: فرعون کے غصہ کا سارا زور جادوگروں پر ختم ہوگیا۔ موسیٰ ؑ جو اصل مخالف تھے ان کے بارے میں فرعون کی زبان سے کچھ نہ نکلا، اس پر ان کو کہنا پڑا۔ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ، یعنی کیا آپ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دیں گے کہ وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ کر ہمارے ملک میں فساد کرتے پھریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علماء مفسرین نے فرمایا کہ قوم کے اس طرح جھنجوڑنے پر بھی فرعون نے یہ تو کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کردیں گے، لیکن حضرت موسیٰ و ہارون علہیما السلام کے بارے میں اس وقت بھی اس کی زبان پر کوئی بات نہ آئی۔ وجہ یہ ہے کہ اس معجزہ اور واقعہ نے فرعون کے قلب و دماغ پر حضرت موسیٰ ؑ کی سخت ہیبت بٹھلادی تھی۔ (معارف القرآن)
پندرہواں رکوع |
| وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ﴿127﴾ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ ﴿128﴾ قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿129ع الأعراف 7﴾ |
| 127. اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں۔ 128. موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے۔ 129. وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ |
تفسیر آیات
تفسیر آیات:
127۔ (1) فرعون اپنے کو "رب ِ اعلیٰ" یعنی بڑا پروردگار کہتاتھا ۔ غالباً اسی"اعلیٰ" کوبنانے کےلئے کچھ ادنیٰ پروردگار بھی تجویز کئے ہونگے ان کو یہاں آلھتک کہا بعض نے کہا کہ وہ گائے وغیرہ کی مجسم تصویر یں تھیں ۔بعض نےسورج اور ستاروں کا خیال ظاہر کیاہے بعض کے نزدیک خود فرعون نے اپنی تصویر کے مجسمے پرستش کےلئے تقسیم کردئیے تھے کچھ سہی بہرحال بڑا معبود اپنے ہی کو کہلواتاتھا۔اور خدا کا انکار کرتاتھا۔(تفسیر عثمانی)
(ii) جو خود ربِ اعلیٰ ہونے کا مدعی ہو وہ کسی دوسرے دیوی و دیوتا کو ماننے والا یا ان کی پرستش کرنے والا کیسے ہوسکتاہے ۔۔۔۔خود کو سورج دیوتا کا اوتار ۔۔۔۔یہاں الھتک کے لفظ سے اس کے اپنی اسٹیچوؤں اور بتوں کی طرف اشارہ ہے(مصر کے قدیم مندروں کے آثار سےاس کی تصدیق ہوتی ہے)۔(تدبرقرآن)
(iii) لڑکوں کو قتل کرنے کا پہلا دور ۔ایک نجومی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تمہاری حکومت ختم کردے گا۔دوسرادور ۔جادوگروں کی شکست اور ایمان کے بعد۔(بیان القرآن)
(iv) بنی اسرائیل اس سفاکانہ تجویز کو سن کر طبعی طورپر پریشان اور دہشت زدہ ہوئے ہوں گے ۔اس کا علاج حضرت موسیٰ نے اگلی آیت میں بتلایا۔(تفسیر عثمانی)
(v)فرعون کے درباریوں کی بوکھلاہٹ اور فرعون کا ان کو اطمینان دلانا۔(تدبرقرآن)
(Vi) فرعون پر حضرت موسیٰ کی ہیبت کا اثر ۔موسی اور حضرت ہارون جو اصل مخالف تھے ان کے بارے میں فرعون کی زبان سے کچھ نہ نکلا ،اس پر درباریوں کو کہنا پڑا ،" اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَہٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِہَتَكَ ۰ۭ"۔(معارف القرآن)
128۔ اقامتِ دین کی جدوجہد میں وسیلۂ ظفر نماز اور صبر۔ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہ۔یہ تردید ہے فرعون کے اس غرور کی جو" وَاِنَّا فَوْقَہُمْ قٰہِرُوْنَ"کے الفاظ سے ظاہر ہورہاہے ،تردید ہے، مطلب یہ ہے کہ اپنے منہ سے اپنے متعلق جو چاہے قاہر و مقتدر ہونے کا دعویٰ کرتارہے لیکن زمین کا اصل مالک اللہ ہی ہے۔فرعون اور اس کے ساتھیوں کے غرق ہونے پر وہ ارسٹو کریسی (حکمران ٹولہ) بالکل تباہ ہوگئی جو مصر پر قابض تھی اور ان کی جگہ دوسرے لوگ قابض ہوگئے جنکی سابق حکمرانوں سے سیاسی رقابتیں بھی تھیں اور فرعونیوں کو اندیشہ تھا کہ یہ بنی اسرائیل کے ساتھ ساز باز کرکے کہیں ملک کے حکمران نہ بن بیٹھیں۔(تدبر قرآن)
129۔(i) بنی اسرائیل کی بداعتمادی۔وہ بولے کہ ہمارے دن تو سخت سے سخت ہی ہوتے جارہے ہیں۔تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی ۔نسل کشی کی مہم تیز تر اور بیگار سخت سے سخت تر ۔بنی اسرائیل نے یہ سب کچھ حضرت موسیٰ کے کھاتے میں ڈال دیا کہ یہ سب تمہاری "برکتیں "ہیں ۔(تدبرقرآن)
(ii)- درحقیقت حکومت و سلطنت اللہ کا حق ہے ۔انسان کو بحیثیت خلیفہ کے وہ ہی حکومت دیتاہے اور جب چاہے چھین لیتاہے"توتی الملک من تشاء و تنزع الملک من تشاء۔(معارف القرآن)
(iii) تفسیر بحر محیط میں اس جگہ نقل کیا ہے کہ بنی عباس کے دوسرے خلیفہ منصور کے پاس خلافت ملنے سے پہلے ایک روز عمرو بن عبید آپہنچے تو یہ آیت پڑھی عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ ، جس میں ان کے لئے خلافت ملنے کی بشارت تھی، اتفاقاً اس کے بعد منصور خلیفہ بن گئے اور پھر عمرو بن عبید ان کے ہاں پہنچے تو منصور نے ان کی پشین گوئی جو آیت مذکورہ کے تحت اس سے پہلے فرمائی تھی یاد دلائی تو عمرو بن عبید نے خوب جواب دیا کہ ہاں خلیفہ ہونے کی پیشین گوئی تو پوری ہوگئی مگر ایک چیز باقی ہے یعنی فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ، مطلب یہ تھا کہ ملک کا خلیفہ و امیر بن جانا کوئی فخر ومسرت کی چیز نہیں کیونکہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خلافت و حکومت میں اس کا رویہ کیا اور کیسا رہا، اب اس کے دیکھنے کا وقت ہے۔(معارف القرآن)
(iv)نبی کا مشن ۔غلامی سے نجات :۔ہرنبی کا یہ مشن رہاہے کہ وہ انسان کو انسان کی غلامی سے آزاد کراتے ہیں اور اسے صرف اللہ کی غلامی میں دے دیتے ہیں اور یہ نبوت کا معیار اور کسوٹی ہے۔اگر کوئی نبوت کا دعویدار استعمار کا پشتیبان ہو تو سمجھ لیجئے کہ اُسے اللہ نے نہیں بلکہ کسی اور نے بھیجا ہے۔علمائے انجیل اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کو سزائے موت سنانے میں سب سے بڑا کارفرما عامل یہ تھا کہ وہ غلامی کے خلاف جہاد کررہے تھے۔اس دور میں سلطنتِ روما میں عام آبادی میں نوّے فیصد غلام اور دس فیصد آزاد انسان بستے تھے۔ یہی دس فیصد آزاد ان 90 فیصد غلاموں کے مالک بھی تھے ۔حضرت عیسیٰؑ ان غلاموں کو آزادی پر اکسارہے تھے جس کی وجہ سے سلطنت روما کا پورا معاشرتی نظام بہت بڑے انقلاب آزادی کی زد میں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کی حکومت نے مذہبی پروہتوں کی مدد سے یہ فیصلہ کرلیا کہ حضرت عیسیٰؑ سے نجات حاصل کرلی جائے۔حضورِ اکرمؐ کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے غلامی کی صورتِ حال اور بھی خراب ہوچکی تھی۔ اس زمانے کا اصل سرمایہ جاگیریں اور کارخانے نہیں بلکہ غلاموں کی تعداد تھی۔حضوراکرمؐ (ہمارے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں)کایہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ آپؐ نے 30 ، 35 سال کی مدت ِ قلیل میں غلامی جو نوّے فیصد سے زیادہ تھی ،کا بالکل قلع قمع فرمادیا۔ حضرت عمرؓ کے دور تک پہنچتے پہنچتے مسلمان معاشرہ میں ایک غلام بھی موجود نہ تھا۔ غلامی کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جاچکاتھا۔(انوارالقرآن)
سولہواں رکوع |
| وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ ﴿130﴾ فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿131﴾ وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ ﴿132﴾ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ﴿133﴾ وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ ﴿134﴾ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ ﴿135﴾ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ ﴿136﴾ وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ﴿137﴾ وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ ﴿138﴾ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿139﴾ قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ ﴿140﴾ وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿141ع الأعراف 7﴾ |
| 130. اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں۔ 131. تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے۔ 132. اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ 133. تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار۔ 134. اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے۔ 135. پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے۔ 136. تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔ 137. اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔ 138. اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔ 139. یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں۔ 140. (اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے۔ 141. (اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی۔ |
تفسیر آیات
133۔ (i) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو نومعجزات دیئے۔ 1۔یدبیضا، 2 عصا،3۔قحط(سات سال رہا)اور نقص ثمرات (شہروالوں کےلئے)اور آیت میں دئیے گئے پانچ عذاب،4۔کثرتِ بارش کا طوفان(جس میں اولے اور آگ) ،5۔ٹڈیاں ،6۔گھن کا کیڑا(یا چچڑی)،7۔مینڈک،8۔پانی خون ہوجانااور 9۔ طاعون۔(معارف القرآن)
-(ii) لفظ قمل کے کئی معنی ہیں۔ جوں، چھوٹی مکھی ،چھوٹی ٹڈی، مچھر ،سرسری۔بیک وقت جوؤں اور مچھروں نے آدمیوں پر اور سرسریوں (گھن کے کیڑوں )نے غلہ کے ذخیروں پر حملہ کیا ہوگا۔(تفہیم القرآن)
-(iii)ابن منذر نے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے نقل کیا ہے کہ ہر عذاب قومِ فرعون پر سات روزتک مسلط رہتا، ہفتہ کے دن سے شروع ہوکر دوسرے ہفتہ کو رفع ہو جاتا، اورپھر تین ہفتے کی مہلت ان کو دی جاتی تھی ۔(معارف القرآن)
-(iv)سب سے پہلا عذاب اشیاء کی کمیابی اور گرانی کا تھا جو قوم فرعون پر مسلط ہوا۔تفسیری روایات میں ہے کہ قحط ان پر سات سال مسلسل رہا، اور آیت میں جو اس قحط کے بیان میں دو لفظ آئے ہیں، ایک سِنین،دوسرے نقصِ ثمرات۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور قتادہؓ وغیرہ نے فرمایا کہ قحط اور خشک سالی کا عذاب تو گاؤں والوں کے لئے تھا اور پھلوں کی کمی شہروالوں کے لئے۔۔۔۔۔ (جب ایسی سرکشی اختیار کی تو)پھر ہم نے (ان دو بلاؤں کے علاوہ یہ بلائیں مسلط کیں کہ(3))ان پر (کثرت بارش کا)طوفان بھیجا (جس سے مال و جان تلف ہونے کا اندیشہ ہوگیا)اور (اس سے گھبرائے تو موسیٰؑ سے عہد و پیمان کیا کہ ہم سے یہ بلا دُور کرائیے تو ہم ایمان لائیں اور جو آپ کہیں اطاعت کریں پھر جب وہ بلا دور ہوئی اور دل خواہ غلہ وغیرہ نکلا پھر بے فکر ہوگئے کہ اب تو جان بھی بچ گئی مال بھی خوب ہو گیا اور بدستور اپنے کفر و طغیان پر اڑے رہے تو ہم نے ان کے کھیتوں پر(4))ٹڈیاں (مسلط کیں)اور (جب پھر کھیتوں کو تباہ ہوتے دیکھا تو گھبراکر پھر ویسے ہی عہد و پیمان کئے اور پھر جب آپ کی دعا سے وہ بلا دورہوئی اور غلہ وغیرہ تیار کرکے اپنے گھر لے آئے پھر بے فکر ہوگئے کہ اب تو غلہ قابومیں آگیا اور بدستور اپنے کفر و مخالفت پر جمے رہے تو ہم نے اس غلّہ میں(5))گھن کا کیڑا (پیدا کردیا )اور (جب گھبراکر پھر اسی طرح عہد و پیمان کرکے دعاکرائی اور وہ بلا بھی دور ہوئی اور اس سے مطمئن ہوگئے کہ اب پیس کوٹ کر کھائیں پئیں گے،پھر وہی کفر اور وہی مخالفت ،تو اس وقت ہم نے ان کے کھانے کو یوں بے لطف کردیا کہ ان پر(6))مینڈک(ہجوم کرکے ان کے کھانے کے برتنوں میں اور ہانڈیوں میں گرنا شروع ہوئے جس سے سب کھانا غارت ہوا اور ویسے بھی گھر میں بیٹھنا مشکل کردیا، اور )اور (پینایوں بے لطف کردیا کہ(7)ان کا پانی)خون (ہوجاتا،منہ میں لیا اور خون بنا،غرض ان پر یہ بلائیں مسلط ہوئیں)کہ یہ سب (موسیٰؑ کے)کھلے کھلے معجزے تھے (کہ ان کی تکذیب و مخالفت پر ان کا ظہور ہوا اور یہ ساتوں عصا او یدِ بیضا ملا کر آیات تسعہ کہلاتے ہیں۔) (بیان مولانا تھانوی)(معارف القرآن)
-(v) ان سب عذابوں میں حضرت موسیٰ ؑ کا یہ معجزہ مسلسل تھا کہ ہر عذاب سے اسرئیلی حضرات بالکل مامون و محفوظ تھے، خون کے عذاب کے وقت قوم فرعون کے لوگوں نے بنی اسرائیل کے گھروں سے پانی مانگا جب وہ ان کے ہاتھ میں گیا تو خون ہوگیا، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر قبطی اور اسرائیلی کھانا کھاتے تو جو لقمہ اسرائیلی اٹھاتا وہ اپنی حالت پر کھانا ہوتا اور جو لقمہ یا پانی کا گھونٹ قبطی کے منہ میں جاتا خون بن جاتا، یہ عذاب بھی بدستور سابق سات روز رہا۔ بالآخر پھر یہ بدکار بدعہد قوم چلا اٹھی اور حضرت موسیٰ ؑ سے فریاد کی۔(معارف القرآن)
134۔ ۔۔۔اور بعض مفسرین نے یہاں لفظ رجز کے معنی عذاب کے بجائے طاعون کےمراد لیے ہیں اور ایک حدیث سے اس معنی کی تائید بھی ہوجاتی ہے اس لحاظ سے یہ فرعونیوں پر چھٹا عذاب تھا۔کہا جاتا ہے کہ جب فرعونیوں پر طاعون کا عذاب نازل ہوا تو ان کے بے شمار آدمی مرنے لگے اور ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ اسی دوران سیدنا موسیٰؑ کو ہجرت کا حکم دیا گیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے کرشام کی طرف نکل جائیں چونکہ فرعونی اپنی پریشانی میں مبتلا تھے لہذا وہ فوری طورپر ان کا تعاقب نہ کرسکے اور جب فرعون اپنا لاؤلشکر لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہوا تو اس وقت وہ بحیرہ قلزم کے قریب پہنچ چکے تھے۔(تیسیر القرآن)
- یہ مضمون توریت کی متعدد آیتوں میں ملتاہے۔مثلاً:۔ "تب فرعون نے موسیٰؑ اور ہارون ؑ کو بلایا اور کہاکہ خداوند سے شفاعت کروکہ مینڈکوں کو مجھ سے اور میری رعیت سے دفع کرے ،اور میں ان لوگوں کو جانے دوں گا۔تاکہ وہ خداوند کیلئے قربانی کریں"۔(خروج8:8)"تب فرعون نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو بلوایا اور انہیں کہا کہ اس دفعہ میں نے گناہ کیا ہے خداوند عادل ہے، میں اور میری قوم گنہگارہیں،خداوند سے شفاعت کرو(کہ بس)آگے کو اس طرح سے نہ گرجے اور اُولے نہ گریں،تب میں تمہیں جانے دوں گا، اور تم اس سے آگے یہاں نہیں رہنے کے"۔(خروج9: 27، 28)"تب فرعون نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو جلد بُلایا اور کہا کہ میں خداوند تمہارے خدا کا اور تمہاراگنہگارہوں،سواب میں تمہاری منت کرتاہوں، فقط اس مرتبہ میراگناہ بخشو اور خداوند اپنے خدا سے شفاعت کرو کہ فقط اس موت کو مجھ سے دور کرے۔"(خروج10: 16 و 17)فرعونی گورنمنٹ جب اپنے کو کسی آفتِ ارضی و سماوی سے دوچار پاتی،تو چٹ آزادی کا وعدہ ،بنی اسرائیل سے کرلیتی ،اور یہ شیوہ دنیا کی ظالم حکومتوں میں عام ہے۔صیغے جمع غائب اور جمع متکلم کے اس لئے آرہے ہیں کہ یہ کہنے والے فرعون کے ساتھ اس کے ارکان حکومت بھی تھے۔(تفسیر ماجدی)
135۔ اس مدت سے مراد یاتو موت اور غر ق ہونے تک کی مدت ہے یا ممکن ہے کہ ایک بلا کے بعد دوسری بلاکے آنے تک کا وقت مراد ہو۔(تفہیم القرآن)
137۔یہاں کمزور لوگوں سے مراد یہی بنی اسرائیل ہیں جو فرعونیوں کی غلامی کی چکی میں پس رہے تھے اور وہ اپنے کئی وعدوں کے باوجود انہیں آزاد کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارے کے سارے بنی اسرائیل سیدنا موسیٰؑ کے ساتھ نہیں گئے تھے بلکہ کچھ مصرہی میں رہ گئے تھے اور فرعون اور اس کے لاؤلشکر کی ہلاکت کے بعد یہ اس سرزمین پر بھی قابض ہوگئے تھے جیساکہ اسی سورت کی آیت نمبر129 سے اور بعض دوسری آیات سے بھی اس کی تائید ہوجاتی ہے واللہ اعلم بالصواب ۔پھر بعد میں سیدنا داؤدؑ اور سیدنا سلیمانؑ نے اس علاقے میں مستحکم حکومت قائم کی۔۔۔برکت والا علاقہ:۔ اس سرزمین سے مرادملک شام ہے اس کی ظاہری برکات تو یہ ہیں کہ یہ علاقہ نہایت سرسبزہ شاداب ،خوش منظر اور زرخیز ہے اور باطنی برکات یہ ہیں کہ یہ ملک بہت سے انبیاء کا مسکن و مدفن ہے دریائے قلزم کو پارکرنے کے بعد بنی اسرائیل چالیس برس تک تو صحرائے تیہ میں سرگرداں پھرتے رہے جس کی پوری تفصیل سورۂ بقرہ میں گزرچکی ہے اسی میدان میں سیدنا موسیٰ کی وفات ہوئی اس کے بعد بنی اسرائیل نے سیدنا یوشع بن نون کے ساتھ مل کر عمالقہ سے جہاد کیا اس میں انہیں فتح ہوئی اور اللہ نے اپناوعدہ پورا کیا اور بنی اسرائیل اپنے آبائی وطن ملک شام کے وارث بن گئے۔(تیسیر القرآن)
۔ اس ٹکڑے سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ قوم فرعون پر غرق کے علاوہ بھی تباہی آئی جس سے ان کے شہر اور باغ سب اجڑ گئے ان کے باغ تو، جیسا کہ اوپر گزرا، پہلے ہی اولوں اور ٹڈیوں سے تباہ ہوچکے تھے، معلوم ہوتا ہے کوئی زلزلہ بھی اسی دوران میں آیا جس سے ان کی عمارتیں بھی منہدم ہوگئیں اور جو کچھ پچھلی آفتوں سے بچ رہا تھا وہ بھی برباد ہوگیا۔ (تدبرِ قرآن)
138۔۔۔چنانچہ ایک دفعہ آپؐ کسی لڑائی میں تشریف لے گئے وہاں مسلمانوں نے ایک بیری کا درخت دیکھا تو رسول اللہؐ سے یہ خواہش ظاہرکی کہ جس طرح کافروں نے ایک درخت مقرر کررکھا ہے جس پر وہ اپنے کپڑے اور ہتھیار لٹکاتےاور اس کے گرد جمے رہتے ہیں اور اسے ذات انواط کہتے ہیں اسی طرح آپ ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرمادیجئے ۔آپؐ نے فرمایا یہ تو وہی مثال ہوئی جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہمیں بھی ایک بت بنادیجئے جس طرح ان لوگوں کے بت ہیں۔(ترمذی۔ابواب الفتن ۔باب لترکبن سنن من کا ن قبلکم)(تیسیر القرآن)
سترھواں رکوع |
| وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ ﴿142﴾ وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿143﴾ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ ﴿144﴾ وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ﴿145﴾ سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ ﴿146﴾ وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿147ع الأعراف 7﴾ |
| 142. اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس میں دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا۔ 143. اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں۔ 144. (خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ۔ 145. اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا۔ 146. جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔ 147. اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔ |
تفسیر آیات
تفسیر آیات:
142ـ حضرت موسیٰؑ سے تیس دن کا وعدہ ان کو شریعت دینے کے لیے تھا۔وہ فرط اشتیاق میں وقت مقررہ سے پہلے کوہ طورپر پہنچ گئے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عجلت پر گرفت فرمائی اور مدت چالیس دن تک بڑھادی۔ انبیاء حق کی میزان ہوتے ہیں۔وہ خواہش سے مغلوب ہوکر تو کوئی غلطی کرتے ہی نہیں، اگر اتباع رضائے الٰہی کے جوش میں بھی ان کا کوئی قدم حدودسے متجاوز ہوجاتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بھی اصلاح فرماتاہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
143۔ تفسیر طبری میں روایت ہے کہ نبی ؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور کہا کہ پہاڑ پر اللہ تعالیٰ نے انسان کی چھنگلی (چھوٹی انگلی کے پور) کے برابر اپنا ظہور فرمایا(الطبری و مسند احمد)(احسن الکلام)
-جن جوگیوں اور صوفیوں نے مشاہدہ ذات الٰہی کو معرفت کا درجۂ کمال قرار دیاہے اور اس کو اپنا نصب العین بنایا ہے انہوں نے اپنا گول اپنی رسائی کی حدود سے بہت آگے بڑھ کر باندھا ہے۔اس کا حاصل خیرگی اور تحیر کے سوا کچھ نہیں یہ ایساہی ہے کہ مگس شہباز کے شکار کےلئے نکلے ۔حضرت ِ جبرائیل کی رسائی بھی ایک خاص حدتک ۔
؎ اگر یک سرِموئے برتر پرم فروغِ تجلی بسوزدپرم (تدبر قرآن)
- یہ نہیں فرمایا لن اُریٰ (میں دیکھانہیں جاسکتا)بلکہ فرمایا لَنْ تَرٰىنِیْ( آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے ) مجھے دیکھنے کی تاب اس نگاہ میں ہے جو مازاغ کے سرمے سے سرمگیں ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دیدارِ الٰہی ناممکن نہیں۔(ضیاء القرآن)
- ۔۔۔لیکن جب یہ فانی دنیا ہی تبدیل کردی جائے گی اور انسانی قویٰ بالخصوص اس کی آنکھوں میں ایسی تبدیلی لائی جائے گی کہ وہ دیدار الٰہی کے متحمل ہوسکیں تو ایک مرتبہ لوگوں پر ایسا ہی غشی کا عالم طاری ہوگا جیسے موسیٰؑ پر اس دنیا میں طاری ہواتھا جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے۔سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک یہودی آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا " محمدؐ ! تمہارے ایک انصاری صحابی نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔"آپؐ نےاسے بلا کر پوچھا کہ "تم نے اس کے منہ پر کیوںطمانچہ ماراتھا؟"وہ صحابی کہنے لگا:یارسول اللہ!میرا یہود پر گزر ہواتو اس شخص نے کہا کہ "اس اللہ کی قسم ! جس نے موسیٰؑ پیغمبر کو سارے لوگوں میں سے چن لیا ۔میں نے کہا "کیا وہ محمدؐ سے بڑھ کر ہیں؟ مجھے غصہ آیا تو میں نے ایک طمانچہ لگادیا"یہ سن کر آپؐ نے فرمایا "دیکھو! مجھے دوسرے پیغمبروں پر فضیلت نہ دو قیامت کے دن سب لوگ بے ہوش ہوجائیں گے میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گاتو دیکھوں گا کہ موسیٰؑ(مجھ سے پہلے)عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں۔ میں یہ نہیں جانتا کہ انہیں مجھ سے پہلے ہوش آجائے یا وہ بے ہوش ہی نہ ہوں گے کیونکہ وہ تو (دنیا میں)کوہ طورپر بے ہوش ہوچکے ہیں"۔(بخاری کتاب التفسیر)۔۔۔اور اخروی زندگی میں مومنوں کو اللہ کا دیدار نصیب ہونا بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہے۔(تیسیر القرآن)
145۔تورات کی تختیاں:۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ تورات انہی تختیوں پر لکھی گئی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ ان تختیوں میں صرف چند جامع اور بنیادی احکام لکھے گئے تھے اور تورات بعد میں آپ پر نازل ہوئی ۔ان تختیوں پر کتاب کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ۔یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان تختیوں کی تعداد کتنی تھی؟ان تختیوں میں وہی احکام مذکور ہیں جو سورہ انعام کی آیت نمبر151 اور 152 میں مذکور ہیں اور یہ سبت کی تعظیم کے حکم سمیت دس احکام بنتے ہیں۔احسن کے معانی:۔ قرآن کے لفظ بِاَحْسَنِهَا کے دومطلب ہوسکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ میں ذکر کردیا گیاہے یعنی ان پر عمل بے دلی سے اور بے کار سمجھ کر نہ کریں بلکہ نہایت خوش دلی، نشاط اور اللہ کی رضاجوئی کیلئے بہتر طریقہ سے ان احکام پر عمل پیرا ہوں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان تختیوں پر لکھی ہوئی عبارت کا جو مفہوم ایک سلیم الطبع انسان کی عقل میں فوری طورپر آجاتاہے اسی پر عمل کریں ان احکام کی عبارت کو فلسفیانہ موشگافیوں کی سان پر نہ چڑھائیں اور الٹی سیدھی تاویلات میں مشغول نہ ہوجائیں۔اس جملہ کے بھی دومطلب ہیں ایک یہ کہ تم لوگ اب شام کی طرف جارہے ہوراستہ میں تم کئی تباہ شدہ قوموں کے آثار قدیمہ کے پاس سے گزروگے جس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی نافرمان قوموں کا کیا انجام ہوتاہےاور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دارالفاسقین سے مراد ملک شام میں عمالقہ کے گھر ہیں جن سے ان بنی اسرائیل کو جہاد کیلئے کہا جارہاتھا اس معنی کی روسے یہ جملہ ان کیلئے فتح کی خوشخبری کی حیثیت رکھتاہے۔(تیسیر القرآن)
۔عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ الواح میں صرف مشہور احکام عشرہ ہی درج ہوئے لیکن یہ بات کچھ صحیح نہیں معلوم ہوتی۔۔۔۔قرآن نے تورات کی طرح صرف دو ہی تختیوں کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ الواح کا لفظ استعمال کیا ہے جو جمع کے لیے آتا ہے اور عربی میں جمع کا اطلاق دو سے زیادہ پر ہوتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
- خُذْهَا بِقُوَّةٍ۔یعنی اے موسیٰؑ کوشش و اہتمام کے ساتھ ان پر عمل کرو۔پیمبر جو قانون الٰہی لے کر آتاہے خود اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہوتا، سب سے پہلے خود ہی اُسے اُس قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتاہے،اور پھرا سے ساری امت پر اس قانون کا اجرا کرانا ہوتاہے۔۔۔(اے قوم بنی اسرائیل)خطاب ابھی صیغۂ واحد میں حضرت موسیٰؑ سے تھا، اس صیغۂ جمع میں اُمت موسوی سے ہورہاہے۔الفاسقین سے مراد وہ سرکش و بے دین عمالقہ ہیں جو اس وقت تک ارض کنعان پر قابض تھے۔آیت کو بشارت کے معنی میں بھی لیا جاسکتا ہے کہ عنقریب تمہیں تمہارے دشمنوں کے ملک پر قابض و مالک کردیا جائے گا۔۔۔اور عبرت کا پہلو بھی نکل سکتاہے کہ تم اپنے دشمنوں کے ملک میں داخل ہوگے اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کروگے،چنانچہ قتادہ تابعی سے بھی یہی معنی مروی ہیں۔(تفسیر ماجدی)
146۔ تکبر کی تعریف اور علامات:۔ تکبر کی جامع تعریف درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا :"وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رتی برابر بھی تکبر ہو۔"ایک شخص نے کہا :ہر انسان اس بات کو پسند کرتاہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہواس کی جوتی اچھی ہو، کیا یہ تکبر ہے؟"آپ نے فرمایا"اللہ خوب صورت ہے ،خوبصورتی کو پسند کرتاہے ، تکبر تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرادے اور لوگوں کو حقیر سمجھے"(مسلم، کتاب الایمان۔باب تحریم الکبر و بیانہ)۔(تیسیر القرآن)
اٹھارواں رکوع |
| وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ﴿148﴾ وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿149﴾ وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴿150﴾ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿151ع الأعراف 7﴾ |
| 148. اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا۔ 149. اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہو جائیں گے۔ 150. اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا۔ (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے۔ 151. تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ |
تفسیر آیات
148۔ اس نئے معبود زریں کی کیفیت یہ تھی کہ وہ محض ایک جسد تھا بے جان، ایک قالب تھابے روح، ایک جسم تھا حیات سے معریٰ ، بس اس سے ایک آواز نکلتی تھی، جیسے گوسالہ بھیں بھیں کرتاہے۔۔اور ایسی آوازیں تو مٹی کے کھلونوں تک میں معمولی آجاتی ہیں، گراموفون وغیرہ اعلیٰ آلات صناعی کا ذکر ہی نہیں، یہ بچھڑ اواقعی جاندار نہیں بن گیا تھا ،بس ایک مورتی چاندی سونے ہی کی رہی تھی ،جیساکہ بعض محققین سلف نے بھی تصریح کردی ہے۔۔۔۔یہ زیور تو اصلاً قبطیوں یا فرعونیوں کے تھے،اور قرآن مجید یہاں ان کی نسبت اسرائیلیوں کی جانب کررہاہے ،اس سے بعض فقہاء مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ کافر حربی کا مال جب مسلم کے قبضہ میں آجائے ،تو اس سے کافر کا حقِ ملکیت زائل ہوجاتاہے۔۔۔ وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى ۔قوم موسیٰؑ کی یہ تصریح موجود ہ توریت میں محرف کی تردید میں ہے ،جس نے گو سالہ سازی کی ساری ذمہ داری حضرت ہارونؑ کے سرڈال دی ہے۔(خروج، باب32)۔۔۔۔ اَلَمْ یَرَوْا۔۔۔ سَبِیْلًا۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ حجت ِ شرعی کے سامنے خوارق سے دھوکا کھانا سفاہت ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہ اس مصریّت زدگی کا دوسرا ظہور تھا جسے لیے ہوئے بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے۔ مصر میں گائے کی پرستش اور تقدیس کا جو رواج تھا اس سے یہ قوم اتنی شدّت کے ساتھ متاثر ہوچکی تھی کہ قرآن کہتا ہے وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ العِجْلَ۔ یعنی ان کے دلوں میں بچھڑا بس کر رہ گیا تھا۔ سب سے زیادہ حیرت کا مقام یہ ہے کہ ابھی مصر سے نکلے ہوئے ان کو صرف تین مہینے ہی گزرے تھے۔ سمندر کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، ان لوگوں کا بخیریت اس بند غلامی سے نکل آنا جس کے ٹوٹنے کی کوئی امید نہ تھی، اور اس سلسلے کے دوسرے واقعات ابھی بالکل تازہ تھے، اور انہیں خوب معلوم تھا کہ یہ جو کچھ ہوا محض اللہ کی قدرت سے ہوا ہے، کسی دوسرے کی طاقت و تصرف کا اس میں کچھ دخل نہ تھا۔ مگر اس پر بھی انہوں نے پہلے تو پیغمبر سے ایک مصنوعی خدا طلب کیا، اور پھر پیغمبر کے پیٹھ موڑتے ہی خود ایک مصنوعی خدا بنا ڈالا۔ یہی وہ حرکت ہے جس پر بعض انبیاء بنی اسرائیل نے اپنی قوم کو اس بدکار عورت سے تشبیہ دی ہے جو اپنے شوہر کے سوا ہر دوسرے مرد سے دل لگاتی ہو اور جو شب اوّل میں بھی بےوفائی سے نہ چوکی ہو۔۔۔یہاں قرآن مجید نے ایک بہت بڑے الزام سے حضرت ہارون کی براءت ثابت کی ہے جو یہودیوں نے زبردستی ان پر چسپاں کر رکھا تھا ۔ (تفہیم القرآن)
149۔ وہ لوگ کب شرمسار ہوئے اور اللہ نے ان کی توبہ کس شرط پر قبول کی، اس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 54 میں گزرچکی ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہ احساس ندامت ان لوگوں کو ہواجن کے اندر کچھ سوجھ بوجھ تھی۔ عوامی جوش کے بحران میں تو وہ صحیح صورت حال کا اندازہ نہ کرسکے لیکن جب نتیجہ سامنے آیا تو ان کی آنکھیں کھلیں۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ یہ ندامت و استغفار کا واقعہ حضرت موسیٰؑ کی واپسی کے بعد کا ہے ،جس کا ذکر ابھی آگے آتاہے۔آیت،148کے بعد متصل سلسلۂ بیان کے لحاظ سے آیت 150 کو پڑھاجائے،یہ آیت 149 بہ طورجملہ معترضہ کے ہے، اور قرآن مجید کا عام اسلوب بلاغت ہی یہ ہے کہ واقعات کی تاریخی ترتیب تقدیم و تاخیر کا اعتبار کئے بغیر وہ نتائج اور عبرتوں کو درمیان کلام میں لے آتاہے۔(تفسیر ماجدی)
150۔ پیمبر غم و غضب کے جذبات سے بلند ترنہیں ہوتا۔۔۔اسے غصہ بھی آتاہے ،اور رنج بھی ہوتاہے،طبعی جذبات سب ہی اپنے موقع پر طاری ہونے اس کیلئے جائز ہوتے ہیں، اور پھر یہ موقع حرارت دینی و اشتعال کا تو جائز ہی نہیں،واجب بھی تھا،اسلامی پیمبرنرے "مہاتما"نہیں ہوتے۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰؑ نے یہ معاملہ حضرت ہارونؑ سے اپنے اس اجتہاد کی بناپر کیا کہ حضرت ہارونؑ سے کوتاہی واقع ہوئی تھی،حالانکہ کوتاہی واقع نہیں ہوئی تھی ،تو جب پیمبر برحق کے اجتہاد کا مطابق واقعہ ہونا ضروری نہیں، تو شیوخ غیر معصومین سے غلطی کا صدور کیوں ممکن نہیں۔(تفسیر ماجدی)
۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بصراحت اس غلط بیانی کی تردید کی گئی ہے اور حقیقت واقعہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس جرم عظیم کا مرتکب خدا کا نبی ہارون نہیں بلکہ خدا کا باغی سامری تھا۔ (تفہیم القرآن)
۔ قرآن میں ان کا یہ قول نقل ہوا ہے اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ (میں ڈرا کہ تم کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا لحاظ نہ کیا۔ )تدبرِ قرآن)
انیسواں رکوع |
| اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ ﴿152﴾ وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿153﴾ وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ ﴿154﴾ وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ ﴿155﴾ وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ ﴿156﴾ اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿157ع الأعراف 7﴾ |
| 152. (خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 153. اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔ 154. اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی۔ 155. اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔ 156. اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ 157. وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں۔ |
تفسیر آیات
154۔ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ۔لفظ قرآنی الواح ہے،یعنی نفس تختیاں ،نہ کہ ان کے ٹوٹے ٹکڑے،اس سے ضمناً یہ بھی نکل آیاکہ تختیاں سالم تھیں،
ٹوٹ نہیں گئی تھیں۔(تفسیر ماجدی)
۔یہ دوسرے لفظوں میں وہی بات ہے جو قرآن سے متعلق هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ کے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ ہدایت و رحمت سے متعلق ہم دوسرے مقام میں عرض کرچکے ہیں کہ جب یہ دونوں لفظ ساتھ ساتھ آئیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ آغاز کے لحاظ سے ہدایت اور انجام کے لحاظ سے رحمت ۔دنیا کی زندگی میں یہ رہنما ہوگی اور آخرت میں خدا کی رحمت کا وسیلہ۔ (تدبرِ قرآن)
155۔ ۔۔۔چنانچہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔اوپر سے صاعقہ (جیساکہ سورۂ بقرہ میں مذکورہے)اور نیچے سے زلزلہ (جیسے یہاں مذکور ہے)کا عذاب آیا اور یہ ستر کے ستر آدمی اسی جگہ پر ہلاک ہوگئے۔۔۔اور انہیں دوبارہ زندگی بخشی گئی جیساکہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 56 میں مذکور ہے۔(تیسیر القرآن)
۔یہ طلبی اس غرض کے لیے ہوئی تھی کہ قوم کے 70 نمائندے کوہ سینا پر پیشی خداوندی میں حاضر ہو کر قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جرم کی معافی مانگیں اور از سرِنو اطاعت کا عہد استوار کریں۔ بائیبل اور تلمود میں اس بات کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ ذکر ہے کہ جو تختیاں حضرت موسیٰ ؑ نے پھینک کر توڑ دی تھیں ان کے بدلے دوسری تختیاں عطا کرنے کے لیے آپ کو سینا پر بلایا گیا تھا (خروج۔ باب( 34 (تفہیم القرآن)
- یعنی وقت معین پر اپنے اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے جانے کیلئے:یہ حاضری دوبارہ تھی ،یا یہ اسی پہلی حاضری کی مزید تشریحات ہیں؟ توریت میں ذکر کسی دوسری میقات کانہیں، اور ہمارے ہاں کے عام مفسرین کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ کوئی دوسرا واقعہ نہیں، بلکہ نزول توریت کے وقت کی اسی حاضری کا ذکر ہے،لیکن قرآن ہی میں ایک دوسری آیت فَأَخَذَتْهُمُ الصّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ (سورۂ النساء)نیز خود اسی رکوع کی ترتیب مضامین ظاہراً اس خیال کی منافی ہے۔۔۔(اور وہ ستر کے ستر مردہ یا نیم مردہ ہوکر رہ گئے)حاشیہ پ1 سورۂ بقرہ رکوع 6 میں گذرچکا۔قول جمہور یہ ہے کہ یہ لوگ واقعۃً مرگئے تھے،پھر دوبارہ زندہ کئے گئے۔۔۔لیکن ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ صرف بیہوش ہوگئے تھے،پھر ہوش میں لائے گئے۔(تفسیر ماجدی)
157۔ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا کا جواب اوپر کے فقرے پر ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اب موقع کی مناسبت سے فورًا بنی اسرائیل کو محمد ﷺ کے اتباع کی دعوت دی گئی ہے۔۔۔۔۔"اُمی" کا لفظ بہت معنی خیز استعمال ہواہے ۔بنی اسرائیل اپنے علاوہ دوسری قوموں کو "اُمی" (Gentiles) کہتے تھے اور ان کا قومی فخرو غرور کسی"اُمی" کی پیشوائی تسلیم کرنا تو درکنار اس پر بھی تیار نہ تھا کہ امیوں کےلئے اپنے برابر انسانی حقوق ہی تسلیم کرلیں۔(تفہیم القرآن)
- جب قرآن نے اعلان کیا کہ خاتم الانبیاء کی صفات و علامات تورات و انجیل میں لکھی ہوئی ہیں ،اگر یہ بات خلاف ِ واقعہ ہوتی تو یہود و نصاریٰ شور مچادیتے ۔۔۔۔۔ بیہقی نے دلائل النبوة میں نقل کیا ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا وہ اتفاقا" بیمار ہوگیا تو آپ اس کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے تو دیکھا کہ اس کا باپ اس کے سرہانے کھڑا ہوا تورات پڑھ رہا ہے، آنحضرت ﷺ نے اس سے کہا کہ اے یہودی میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ ؑ پر تورات نازل فرمائی ہے کہ کیا تو تورات میں میرے حالات اور صفات اور میرے ظہور کا بیان پاتا ہے ؟ اس نے انکار کیا تو بیٹا بولا یا رسول اللہ یہ غلط کہتا ہے، تورات میں ہم آپ کا ذکر اور آپ کی صفات پاتے ہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اب یہ مسلمان ہے انتقال کے بعد اس کی تجہیز وتکفین مسلمان کریں، باپ کے حوالہ نہ کریں (مظہری) ۔۔۔۔۔ یہاں فلاح پانے کےلئے چار شرطیں ذکر کی گئی ہیں: 1۔ آپؐ پر ایمان، 2۔آپؐ کی تعظیم و تکریم،3۔آپؐ کی امداد،4۔قرآن کا اتباع(کتاب و سنت کا اتباع)۔۔۔۔۔۔حضرت سہل بن عبداللہ نے اس آیت کے معنی یہ بتلائے ہیں کہ آپ سے پہلے نہ بولیں اور جب آپ کلام کریں تو سب خوش ہوکرسنیں۔ایک آیت قرآن میں اس کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آنحضرتؐ کو پکارنے کے وقت ادب کا لحاظ رکھیں اس طرح نہ پکاریں جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکاراکرتے ہیں لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا، آخر آیت میں اس پر متنبہ کیا گیا ہے کہ اس کے خلاف کوئی کام بے ادبی کا کیا گیا تو سارے اعمال حبط اور برباد ہوجائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ باوجود یہ کہ ہروقت ، ہرحال میں آنحضرتؐ کے شریک کار رہتے تھے اور ایسی حالت میں احترام و تعظیم کے آداب ملحوظ رکھنا بہت مشکل ہوتاہے لیکن ان کا یہ حال تھا کہ آیت مذکورہ کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ جب آنحضرتؐ کی خدمت میں کچھ عرض کرتے تو اس طرح بولتے تھے جیسے کوئی پوشیدہ بات کو آہستہ کہا کرتا ہے،یہی حال سیدنا فاروق اعظمؓ کا تھا(شفاء)حضرت عمروبن عاصؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ سے زیادہ کوئی مجھے(دنیا میں)محبوب نہ تھا اور میرا یہ حال تھا کہ میں آپ کی طرف نظر بھر کردیکھ بھی نہ سکتاتھا،اور اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ دریافت کرے تو میں بیان کرنے پر اس لئے قادر نہیں کہ میں نے کبھی آپ کو نظر بھر کر دیکھا ہی نہیں۔ترمذی نے حضرت انسؓ سے نقل کیا ہے کہ مجلسِ صحابہؓ میں آنحضرتؐ تشریف لاتے تھے تو سب نیچی نظریں کرکے بیٹھتے تھے ،صرف صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ آپ کی طرف نظر کرتے اور آپ ان کی طرف نظر فرماکر تبسم فرماتے تھے ۔عروہ بن مسعود کو اہل مکہ نے جاسوس بناکر مسلمانوں کا حال معلوم کرنے کیلئے مدینہ بھیجا اس نے صحابہ کرام کو پروانہ وار آنحضرتؐ پر گرتا اور فدا ہوتاہوا دیکھ کر واپسی میں رپورٹ دی کہ میں نے کسریٰ و قیصر کے دربار بھی دیکھے ہیں اور ملک نجاشی سے بھی ملا ہوں مگر جو حال میں نے اصحاب محمدؐ کا دیکھا وہ کہیں نہیں دیکھا ،میرا خیال یہ ہے کہ تم لوگ ان کے مقابلہ میں ہر گز کامیاب نہ ہوگے۔(معارف القرآن)
-نور سے مراد وحی ہے متلو ہویا غیر متلو یعنی قرآن و سنت ۔(تفسیر عثمانی)
- حضورؐ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں: یسعیاہ نبی کی پیشنگوئی ان الفاظ میں مذکور ہے"دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالتا،بڑا برگزیدہ جس سے میراجی راضی ہے۔میں نے اپنی روح اس پر رکھی ،وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرے گا،اس کا زوال نہ ہوگا اور نہ مسلا جائے گا جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے گا"(یسعیاہ ب42۔1-4)سیدنا مسیحؑ کی پیشنگوئی ملاحظہ ہو۔یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے ردکیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتاہوں کہ خداکی بادشاہت تم سے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا"(متی باب21ص42-44) "اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابدتک تمہارےساتھ رہے"(یوحناباب14ص 17)۔"اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتاہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں"(یوحناباب 14 ص31)۔ان پیشنگوئیوں پر غورکیجئے ۔حضرت عیسیٰؑ بنی اسرائیل میں آخری نبی ہیں ۔ان کے بعد کوئی نبی بنی اسرائیل میں نہیں آیا۔پھر ان پیشنگوئیوں کا مصداق آنحضرتؐ کے سوا اور کون ہوسکتاہے؟ آخر وہ پتھر کون ہوسکتاہے جس کو معماروں نے توردکردیا تھا لیکن بلآخر وہی کونے کے سرے کا پتھر بن گیا؟ یہ کس کی شان ہے جو اس پر گرےگا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور جس پر وہ گرے گا اس کو پیس ڈالے گا ؟ یہ کس کا مرتبہ بیان ہواہے کہ وہ دنیا کا سردار ہے جو ابدتک لوگوں کے ساتھ رہے گا اور وہ باتیں بتائے گا جو حضرت مسیحؑ بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ ضد اور مکابرت کی بات اور ہے لیکن جو شخص بھی ان پیشین گوئیوں پر انصاف اور غیر جانبدار ی کے ساتھ غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ یہ اگر کسی پر راست آسکتی ہیں تو صرف نبی امی اور رسول خاتم محمدؐ پر ہی راست آسکتی ہیں۔نبی امی کے سوا اور کوئی ان کا مصداق نہیں ہوسکتا۔(تدبر قرآن)
- بنی اسرائیل پر احکام میں سختی:۔ اس میں وہ قیود اور بندشیں بھی شامل ہیں جن کا انہیں شرعاً حکم تھا جیسے انہیں قتل کے بدلے صرف قصاص کا حکم دیا گیا تھا دیت یا خون بہا کی رعایت یا رخصت نہیں دی گئی تھی یا اگر ان کے جسم کے کسی حصہ پر پیشاب کے چھینٹے پڑجاتے ،تووہ جسم کا اتناحصہ قینچی سے کاٹ دیتا(نسائی،کتاب الطہارۃ باب البول ای السترۃ یستربھا)جبکہ ہماری شریعت میں ایسا حصہ صرف دھونے سے پاک ہوجاتاہے اور ایسی بندشیں بھی جو ان کے علماء نے از خود عائد کرلی تھیں جیسے اگر ان کی کوئی عورت حائضہ ہوجاتی تو اس کے ہاتھ کا پکا ہواکھاناکھاتے نہ اس کے ساتھ کھاتے بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی نہ رہنے دیتے اور ایسی عورتوں کا کسی الگ جگہ رہائش کا بندوبست کیا کرتے تھے(مسلم،کتاب الحیض ۔باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا)جبکہ ہماری شریعت میں ماسوائے صحبت کے اور کوئی پابندی نہیں۔ پھر ان میں وہ پابندیاں بھی شامل تھیں جو ان کے فقیہوں نے فقہی موشگافیوں سے اور ان کے زاہدوں نے اپنی پرہیز گاری میں غلو کی وجہ سے اور جاہل عوام نے اپنے توہمات سے عائد کررکھی تھیں۔اس نبی امی کا کام یہ ہے کہ ایسی تمام جکڑبندیوں کے بوجھ سے لوگوں کو نجات دے۔(تیسیر القرآن)
بیسواں رکوع |
| قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ﴿158﴾ وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ ﴿159﴾ وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ﴿160﴾ وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿161﴾ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿162ع الأعراف 7﴾ |
| 158. (اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔ 159. اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ 160. اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا۔ 161. اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔ 162. مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے۔ |
تفسیر آیات
158۔ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ۔ اس نے ایک بار اور صراحت کردی کہ محمدؐ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں،ایک قاصد و سفیر ہیں اور بس، نہ کہ اس کے مظہر یا اوتار ،یا اس کے فرزند و رشتہ دار ۔۔۔رسول اور نبی کے درمیان فرق بھی متعدد بتائے گئے ہیں، اور ان میں سے ایک فرق یہ ہے کہ نبی کا منصب بشر کیلئے مخصوص ہے اور رسول ملائکہ کیلئے بھی عام ہے،یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ذاتی تقدس و تقرب کی پوری شان تو نبی میں موجود ہے اور تبلیغ اور پیام رسانی کی پوری امتیازی شان لقب رسولؐ میں ہے۔(تفسیر ماجدی)
159۔ اصل سلسلہ کلام بنی اسرائیل سے متعلق چل رہا تھا۔ بیچ میں موقع کی مناسبت سے رسالت محمدی پر ایمان لانے کی دعوت بطور جملہ معترضہ آگئی۔ اب پھر تقریر کا رخ اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جو پچھلے کئی رکوعوں سے بیان ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ بیشتر مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا ہے جو حق کے مطابق ہدایت اور انصاف کرتا ہے، یعنی ان کے نزدیک اس آیت میں بنی اسرائیل کی وہ اخلاقی و ذہنی حالت بیان کی گئی ہے جو نزول قرآن کے وقت تھی۔ لیکن سیاق وسباق پر نظر کرتے ہوئے ہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اس آیت میں بنی اسرائیل کا وہ حال بیان ہوا ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں تھا، اور اس سے مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ جب اس قوم میں گوسالہ پرستی کے جرم کا ارتکاب کیا گیا اور حضرت حق کی طرف سے اس پر گرفت ہوئی تو اس وقت ساری قوم بگڑی ہوئی نہ تھی بلکہ اس میں ایک اچھا خاصا صالح عنصر موجود تھا۔ (تفہیم القرآن)
160۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے اور نقیبوں کی ذمہ داری:۔ ۔۔۔۔اس سردار کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے قبیلہ کے دینی ،تمدنی اور معاشی مسائل کی نگرانی کرے اور ان لوگوں کو راہ راست پر رکھنے کا حتی المقدور انتظام کرے۔ پھر ان سب پر لاوی کے سردار کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ اپنے قبیلہ کے مسائل کی نگرانی کے علاوہ دوسرے سب قبائل کے حالات کی بھی نگرانی کرے گا اور یہ وہی قبیلہ تھا جس سے سیدنا موسیٰؑ اور سیدنا ہارون ؑ خود بھی تعلق رکھتے تھے۔۔۔صحرائے سینا میں بنی اسرائیل پر انعامات ،بادل،من و سلویٰ کا نزول اور بارہ چشمے پھوٹنا:۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بنی اسرائیل پر تین احسانات کا ذکر فرمایا ہے اور یہ اس دور کے واقعات ہیں جب بنی اسرائیل کو چالیس سال کے طویل عرصہ کیلئے صحرائے سینا میں روک دیا گیا تھا کیونکہ ان لوگوں نے جہاد سے انکار کرکے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کیا تھا۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
161۔ا ب تاریخ بنی اسرائیل کے ان واقعات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ بالا احسانات کا جواب یہ لوگ کیسی کیسی مجرمانہ بےباکیوں کے ساتھ دیتے رہے اور پھر کس طرح مسلسل تباہی کے گڑھے میں گرتے چلے گئے۔ (تفہیم القرآن)
162 فوج کا تکبر اور عذاب:۔۔ فتحیاب لیکن ان بدبختوں نے ہمارے حکم کی پوری پوری خلاف ورزی کی۔ فتح کے بعد ان میں عجز و انکساری کے بجائے فخر و گھمنڈ پیدا ہوگیا اور اترانے لگے پھر اموال غنیمت میں بھی جی بھر کر خیانت کی۔ مفتوحہ علاقہ میں ظلم و تشدد کو روارکھا جو دنیا دار قسم کے لوگ فتح کے موقعہ پر کیا کرتے ہیں ان کے یہ لچھن دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا یہ عذاب کیا تھا اس کے متعلق مفسرین کے دواقوال ہیں ایک یہ کہ ان میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تھی اور دوسرا یہ کہ دشمن قوم نے بنی اسرائیل کو پھر سے شکست دے کر بنی اسرائیل کو بے دریغ قتل کیا۔(تیسیر القرآن)
اکیسواں رکوع |
| وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ﴿163﴾ وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ ﴿164﴾ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ﴿165﴾ فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ ﴿166﴾ وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿167﴾ وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿168﴾ فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴿169﴾ وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ ﴿170﴾ وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿171ع الأعراف 7﴾ |
| 163. اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جولب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔ 164. اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔ 165. جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔ 166. غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔ 167. (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔ 168. اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔ 169. پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں۔ 170. اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ 171. اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ۔ |
تفسیر آیات
163۔ ۔۔اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے چہروں میں اس قسم کا ورم پیدا ہوا جس سے ان کے چہرے بالکل بندروں جیسے معلوم ہوتے تھے۔آخر اسی حالت میں تین روز بعد مرگئے اور یہ واقعہ سیدنا داؤدؑ کے زمانہ میں پیش آیا تھا۔(تیسیر القرآن)
۔محققین کا غالب میلان اس طرف ہے کہ یہ مقام ایلہ یا ایلات یا ایلوت تھا جہاں اب اسرائیل کی یہودی ریاست نے اسی نام کی ایک بندرگاہ بنائی ہے اور جس کے قریب ہی اردن کی مشہور بندرگاہ عَقَبہ واقع ہے۔ اس کی جائے وقوع بحر قلزم کی اس شاخ کے انتہائی سرے پرہے جو جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی اور عرب کے مغربی ساحل کے درمیان ایک لمبی خلیج کی صورت میں نظر آتی ہے۔ بنی اسرائیل کے زمانہ عروج میں یہ بڑا اہم تجارتی مرکز تھا۔ حضرت سلیمان نے اپنے بحر قلزم کے جنگی و تجارتی بیڑے کا صدر مقام اسی شہر کو بنایا تھا۔ جس واقعہ کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے اس کے متعلق یہودیوں کی کتب مقدسہ میں کوئی ذکر ہمیں نہیں ملتا اور ان کی تاریخیں بھی اس باب میں خاموش ہیں، مگر قرآن مجید میں جس انداز سے اس واقعہ کو یہاں اور سورة بقرہ میں بیان کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے دور میں بنی اسرائیل بالعموم اس واقعہ سے خوب واقف تھے، اور یہ حقیقت ہے کہ مدینہ کے یہودیوں نے، جو نبی ﷺ کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے، قرآن کے اس بیان پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔۔۔۔ ”سبت“ ہفتہ کے دن کو کہتے ہیں۔ یہ دن بنی اسرائیل کے لیے مقدس قرار دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اور اولاد اسرائیل کے درمیان پشت در پشت تک دائمی عہد کا نشان قرار دیتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اس روز کوئی دنیوی کام نہ کیا جائے، گھروں میں آگ تک نہ جلائی جائے، جانوروں اور لونڈی غلاموں تک سے کوئی خدمت نہ لی جائے اور یہ کہ جو شخص اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرے اسے قتل کردیا جائے۔ لیکن بنی اسرائیل نے آگے چل کر اس قانون کی علانیہ خلاف ورزی شروع کردی۔ یرمیاہ نبی کے زمانہ میں (جو 628 اور 586 ء قبل مسیح کے درمیان گزرے ہیں) خاص یروشلم کے پھاٹکوں سے لوگ سبت کے دن مال اسباب لے لے کر گزرتے تھے۔ اس پر نبی موصوف نے خدا کی طرف سے یہودیوں کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ شریعت کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی سے باز نہ آئے تو یردشلم نذر آتش کردیا جائے گا (یرمیاہ 17: 21۔27) ۔ اسی کی شکایت حزقی ایل نبی بھی کرتے ہیں جن کا دور 595 ء اور 536 قبل مسیح کے درمیان گزرا ہے، چنانچہ ان کی کتاب میں سبت کی بےحرمتی کو یہودیوں کے قومی جرائم میں سے ایک بڑا جرم قرار دیا گیا ہے (حزقی ایل20: 12۔24) ان حوالوں سے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید یہاں جس واقعہ کا ذکر کر رہا ہے وہ بھی غالباً اسی دور کا واقعہ ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
164۔ یہ وہ لوگ تھے جو خود تو مچھلیاں پکڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں تھے مگر پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے ۔جب اللہ کا عذاب آیا تو صرف وہ لوگ بچائے گئے جو خود بھی مچھلیاں نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتے رہے اور اس درمیانی گروہ کو محض اس لیے سزا ملی کہ وہ اس گناہ کے کام سے منع کیوں نہ کرتے تھے ۔گویا جیسے برائی کرنا جرم ہے ویسے ہی برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔جیساکہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتاہے۔نہی عن المنکر کے متعلق احادیث نبویؐ :۔ 1۔نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا"اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھ کر خاموش رہنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ان لوگوں کی جنہوں نے کسی جہاز میں بیٹھنے کیلئے قرعہ اندازی کی ۔کچھ لوگوں کے حصے نچلی منزل آئی اور دوسروں کے حصہ میں اوپر کی منزل۔اب نچلی منزل والے جب پانی لیکر بالائی منزل والوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں اس سے تکلیف پہنچتی۔یہ دیکھ کر نچلی منزل والوں میں سے ایک نے کلہاڑی لی اور جہاز کے پیندے میں سوراخ کرنے لگا بالائی منزل والے اس کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے تمہیں یہ کیا ہوگیاہے۔اس نے جواب دیا کہ تمہیں ہماری وجہ سے تکلیف پہنچی اور ہماراپانی کے بغیر گزارہ نہیں۔اب اگر اوپر والوں نے اس کا ہاتھ پکڑلیا تو اسے بھی بچالیا اور خود بھی بچ گئے اور اگر اسے چھوڑدیا تو اسے بھی ہلاک کیا اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا۔"(بخاری)۔(تیسیر القرآن)
166۔ کسی قوم پر اللہ کی لعنت اس عذاب سے بھی سخت تر چیز ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اس لیے کہ لعنت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قوم بظاہر زندہ رہتی ہے لیکن اس کی زندگی صرف ذلت و خواری کی ایک داستانِ عبرت ہوتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
167۔ یہود کی ذلت و مسکنت کی تاریخی داستان:۔ تاذن کا عربی میں وہی مفہوم ہے جو ہمارے ہاں نوٹس دینے کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود کو خبر دار کردیا تھا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو تم پر تاقیامت ایسے حکمران مسلط کردے گاجو تمہیں طرح طرح کے دکھ پہنچاتے رہیں گے۔ ان دکھوں سے مراد ا ن کی محکومانہ زندگی ہے چناچہ یہود کبھی یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے محکوم بنے رہے کبھی بخت نصر کے شدائد کا نشانہ بنے جس نے بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور ان یہود کی کثیر تعداد کو غلام بناکر اپنے ساتھ بابل لے گیا ۔پھر یہ لوگ دورنبویؐ سے پہلے مجوسیوں کے باج گزار رہے۔پھر اللہ نے مسلمان حکمرانوں کو ان پر مسلط فرمادیا۔ غرض مالدارقوم ہونے کے باوجود انہیں کہیں بھی عزت کی زندگی نصیب نہ ہوسکی اور ہمیشہ محکوم بن کر ذلت کی زندگی گزارتے رہے اور اس بیسویں صدی کے اوائل میں ہٹلر کے ہاتھوں بری طرح پٹے اور اس نے لاکھوں یہودیوں کو بے دریغ قتل کردیا ۔اس بیسویں صدی ہی کے وسط میں چند حکومتوں کے سہارے تھوڑے سے علاقہ پر اپنی حکومت بنائی ہے۔مگر امن پھر بھی نصیب نہیں اور قیامت کے قریب جب دجال کا ظہور ہوگا تو یہ اس کے مددگار ہوں گے پھر سیدنا عیسیٰؑ اور ان کے مسلمان رفقاء کے ہاتھوں سب کے سب تہہ تیغ کردیے جائیں گے۔جیساکہ بے شمار احادیثِ صحیحہ سے واضح ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
169۔ مفسر آلوسی بغدادیؒ نے اس موقع پر جو کچھ لکھا ہے، وہ اس قابل ہے کہ اس کو عبرت کیلئے آج کے اہل ہندو پاکستان کے سامنے بجنسٖہ پیش کردیا جائے:۔" یہی حال ہمارے زمانہ کے بہ کثرت صوفیہ کا ہے، شہوات و لذات ِ دنیوی پر پروانوں کی طرح گرتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ یہ ہم کو مضر نہیں اس لئے کہ ہم واصل ہیں، اور کسی کسی کی بابت تو یہ بھی سنا گیاہے کہ وہ خالص حرام کھاتاتھااور کہتا تھا کہ ذکر نفی و اثبات اس کے ضرر کو رفع کردیتاہے! یہ کھلی ہوئی گمراہی ہے،اللہ اس سے محفوظ رکھے!۔"(تفسیر ماجدی)
بائیسواں رکوع |
| وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ ﴿172﴾ اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ﴿173﴾ وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿174﴾ وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ﴿175﴾ وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ ﴿176﴾ سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ﴿177﴾ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴿178﴾ وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ﴿179﴾ وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿180﴾ وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿181ع الأعراف 7﴾ |
| 172. اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔ 173. یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے۔ 174. اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔ 175. اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔ 176. اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں۔ 177. جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔ 178. جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ 179. اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ 180. اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔ 181. اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ |
تفسیر آیات
آخری تین رکوع: (22تا 24) ۔عمومی /اختتامی۔فلسفۂ قرآن۔
آیات172تا 206:۔(ا)آیات 172 تا 198 پر مشتمل آیات میں عہد الست کا تذکرہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی روحوں کو پیدا کرکے ان سے پوچھا :"اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ"کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا:"بلیٰ "ہاں ہاں!کیوں نہیں۔یہ عہد روز ِ قیامت کیلئے اتمام حجت ہے۔توحید کی دلیل فراہم کی گئی اور شرک کا ابطال کیا گیا۔توحید ،انسانی فطرت میں داخل ہے اور اس کے عین مطابق ہے۔ایک دنیا دار مادہ پرست آدمی کا قصہ ایک خوبصورت تمثیل سے بیان کیا گیا(آیات:173تا 175)اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور اپنے احکام سے نوازا تھا، لیکن اس نے شیطان کی پیروی اختیارکی۔یہ آیاتِ الٰہی کی پیروی کرکے رفعت اور بلندی حاصل کرسکتاتھا ،لیکن زمین سے چمٹ بیٹھا"وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ"خواہشات نفس کی پیروی کرنے لگا"وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ"اور کتے کی سی زندگی گزارنے لگا"فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ"۔(جو ہڈیوں اورکتیا کی تلاش میں ہروقت زبان لٹکائے رہتاہے،رال ٹپکتی رہتی ہے)(آیت:176)دنیادار مادہ پرستوں کو مقصدِ حیات پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ۔بہت سے بے مقصد انسان اور جن، مویشیوں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر۔جہنم کی کھیتی ہیں۔(آیت:179)(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
172۔ (بہ قدر ضرورت انہیں سمجھ عطاکرکے)واقعہ عالمِ ارواح کا بیان ہورہاہے۔ اوپر ذکربنی اسرائیل کے میثاقِ توحید کا تھا،اور اس سے پہلے بھی بنی اسرائیل کو باربار ان کا میثاق ِ توحید یاددلایا جاچکاہے،اس پر سوال ہوسکتاتھاکہ اسرائیلی میثاق،دنیاکی غیر اسرائیلی آبادی کیلئے کیونکر حجت بن سکتاہے؟اب بیان اس کا ہورہاہے کہ توحید کا عہد تو ساری نسلِ انسانی سے لیا جاچکاہے،اور توحید شناسی ،توحید پرستی،انسان کی فطرت میں راسخ کی جاچکی ہےاور بشر کی سرشت میں داخل کی جاچکی ہے، فطرت اگر مسخ نہیں ہوچکی ہے تو ایک خالق و مربی کا اعتراف ہر فطرت ِ سلیم بشری کا جزوہے۔۔۔اور روح المعانی میں گفتگواور زیادہ شرح وبسط ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لفظی سوال و جواب مقصود نہیں،بلکہ جس حقیقت کو مکالمہ کی صورت دی گئی ہے،وہ صرف یہ ہے کہ توحید و اقرار ِ عبودیت کے دلائل آفاقی و انفسی فطرتِ بشری میں جمادیے گئے ہیں، اس تمثیلی طرز مکالمہ کی مثالیں خود قرآن مجید میں بھی موجود ہیں اور فصحاء ِ عرب کے کلام میں بھی۔(تفسیر ماجدی)
۔وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ ، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اذ کے ذریعہ سے کسی ایسے امر واقعی کی یاددہانی بھی کی جاتی ہے جو متکلم کے نزدیک ایک حقیقت ہو، قطع نظر اس سے کہ مخاطب اس کو فراموش کیے ہوئے ہوں یا اس سے منحرف ہوں۔ اسی طرح واحد کے خطاب کے متعلق بھی واضح کرچکے ہیں کہ قرینہ دلیل تو یہ جمع کے مفہوم میں بھی ہوتا ہے اور اس صورت میں گویا مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فردا ًمخاطب ہوتا ہے۔۔۔۔۔اہل عرب کو اللہ کے اللہ ہونے سے انکار نہیں تھا لیکن رب انہوں نے اللہ کے سوا اور بھی بنا لیے تھے حالانکہ عہد فطرت میں اقرار صرف اللہ ہی کی ربوبیت کا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
173۔ یہاں قرآن نے گویا تصریح کردی کہ نسلِ انسانی کا اصل اور ابتدائی دین توحید ہے،اور شرک بہت بعد کی پیداوار ہے"دانایانِ فرنگ ابھی چند سال اوپر کی بات ہے کہ زوردے دے کر اس کے برعکس کہہ رہے تھے کہ نسل انسانی کا ابتدائی دین شرک ہے،اور توحید تک تو انسان بہت بعد کو رفتہ رفتہ پہونچاہے لیکن اب ان کے ماہرین علم الاقوام کا (ETHLOGIST)کی آنکھیں کھلی ہیں،اور اب علانیہ اقرار ہونے لگا ہے کہ انسان کا ابتدائی دین توحید ہی تھا۔(تفسیر ماجدی)
174۔ یہ ایک بالکل واضح حقیقت ہے لیکن اس زمانے کے نئے تعلیم یافتہ لوگوں پر مارکس اور فرائڈ کا جادو چلا ہوا ہے۔ ان ظالموں کی خاکبازیوں نے لوگوں کو اس طرح اندھا بنا دیا ہے کہ اب لوگوں کو انسان کے اندر بطن اور فرج کے سوا اور کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان کے نزدیک انسان کا سارا فکر و فلسفہ بس انہی دو محوروں پر گھوم رہا ہے۔ اس روائتی چوہے کی طرح جسے ہلدی کی ایک گرہ مل گئی تو اس نے پنساری کی ایک دکان کھول لی ۔ْ مارکس اور فرائڈ نے بطن و فرج پر سارے فکر و فلسفہ اور تمام مذہب و اخلاق کو ڈھال دیا اور اس طرح ان لوگوں کو جو پہلے ہی بطن و فرج کے غلام تھے دو ایسے مرشد بھی مل گئے جن کا وہ فخر کے ساتھ حوالہ دیتے ہیں کہ وہ بےپیرے نہیں بلکہ انہیں بھی شرف نسبت و ارادت حاصل ہے۔ (تدبرِ قرآن)
176۔ ۔۔بعض مفسرین نے تورات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس آیت کا روئے سخن بلعم بن باعوراء کی طرف ہے۔(تیسیر القرآن)
۔اب یہ اپنی خواہشوں کے غلام اور اپنی حرص کے بندے ہیں اور حرص و دناءت ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ ان کی شکلیں آدمیوں کی ہیں لیکن ان کی فطرت کتوں کی جبلت کے سانچے میں ڈھل چکی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
179۔ جس طرح چوپائے جانوروں کے تمام ادراکات صرف کھانے پینے اور بہیمی جذبات کے دائرے میں محدود ہوتے ہیں یہ حال ان کا ہےکہ دل و دماغ ،ہاتھ پاؤں،کان آنکھ غرض خدا کی دی ہوئی سب قوتیں محض دنیوی لذائذ اور مادی خواہشات کی تحصیل و تکمیل کےلئے وقف ہیں۔
ع۔ ہاتھ ہے مومن کا اللہ کا ہاتھ (تفسیر عثمانی)
- روحانی سفر مائل بہ بلندی بمقابلہ حیوانی خواہش مائل بہ زمین:۔ ع۔ بات جو دل سے نکلتی ہے اثررکھتی ہے (ڈاکٹر اسرار)
- دراصل یہ ایسا جملہ ہے جو دکھ کے عالم میں کہا جارہاہے،جیسے ایک ماں ڈوبنے والے بچے کے ماتم پر کہے کہ میں نے تو تجھے ڈوب مرنے کےلئے ہی پیدا کیا تھا ۔اصل غایت : وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔(انوار القرآن)
- اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ جب اللہ نے جنوں اور انسانوں کی اکثریت یا کثیر تعداد کو پیدا ہی اس لیے کیا تھا کہ انہیں جہنم داخل کیا جائے گا اس میں جنوں اور انسانوں کا کیا قصور ہے؟ اس شبہ کے ازالہ کیلئے اسی سورت کی آیت نمبر 24کے تحت حاشیہ نمبر 21 ملاحظہ کیا جائے۔(تیسیر القرآن)
180۔ الحاد اور اس کی قسمیں :۔ اللہ تعالیٰ کاذاتی نام صرف اللہ ہے باقی اس کے جتنے بھی نام ہیں سب صفاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں جو شخص انہیں یاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔(بخاری، کتاب التوحید، باب ان للہ مائۃ اسم الا واحدۃ)۔۔۔اور دوسرے یہ کہ انہی ناموں سے استدلال کرکے باطل چیزوں کے امکان پر بحث کرنا جیسے مثلاً یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتاہے کیا وہ جادو کا علم بھی جانتاہے یا یہ بحث کہ اللہ توہر چیز پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے۔تیسرے یہ کہ ان صفات میں فلسفیانہ موشگافیاں پیدا کرنا جیسے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات حادث ہیں یا قدیم ۔مثلاً کلام کرنا اللہ کی صفت ہے اور قرآن اللہ کا کلام ہے تو قرآن حادث اور مخلوق ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ اللہ جو ہرجگہ موجود ہے اور ہرشخص کی شہ رگ سے بھی قریب ہے تو وہ عرش پر کیسے ہوا؟ ۔(تیسیر القرآن)
181۔ایک فرقہ ہمیشہ حق پر رہتاہے:۔ بلکہ ہرامت میں ایک گروہ ایسا رہاہے جو حق پر قائم رہتا ہے خواہ اس کی تعداد کتنی ہی کم ہو اور یہ اس لیے کہ ہروقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر اتمام حجت ہوتی رہےچناچہ امت محمدیہ کے متعلق بھی رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میری امت (73)تہترفرقوں میں بٹ جائے گی تاہم ان میں ایک فرقہ ایسا ہوگا جو ہمیشہ حق پر قائم رہے گا تاآنکہ قیامت قائم ہو۔(بخاری۔کتاب الاعتصام۔باب لاتزال طائفۃ من امتی۔۔۔)اور سید نا ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:تم بھی پہلے لوگوں کی راہوں پر جاپڑوگے اگروہ بالشت بھر بڑھے تو تم ہاتھ بھر بڑھوگے۔حتیٰ کہ اگروہ کسی گوہ کے سوراخ میں گھسے تھے تو تم بھی ضرور گھسوگے۔ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ!پہلے لوگوں سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں؟فرمایا اور کون ہیں؟(مسلم، کتاب العلم،باب النھی عن اتباع متشابہ القرآن)(تیسیر القرآن)
تئیسواں رکوع |
| وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚ ۖ ﴿182﴾ وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ ﴿183﴾ اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿184﴾ اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ ﴿185﴾ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ﴿186﴾ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿187﴾ قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿188ع الأعراف 7﴾ |
| 182. اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔ 183. اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔ 184. کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔ 185. کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے۔ 186. جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔ 187. (یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔ 188. کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔ |
تفسیر آیات
تفسیر آیات:
183۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی حسین و جمیل صفات پر مشتمل ناموں سے پکارنے اور خود ساختہ ناموں سے اجتناب کا حکم دیا گیا۔محمدؐ اور قرآن مجید کو جھٹلانے والوں کیلئے،تباہی کی وعید سنائی گئی۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
184۔ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ۔یعنی شائبہ جنون ہونا تو کجا، وہ توایسے ایسے کارناموں اور کمالات کے مالک ہیں کہ ایک دنیا ان پر دنگ رہ جائے گی، کیسے غضب کی بات ہے کہ ایسے کامل العقل انسان میں کوئی شائبہ بھی جنون کا سمجھا جائے۔(تفسیر ماجدی)
185۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم جُنون ان باتوں پر نہ تھا جو آپ نبی ہونے سے پہلے کرتے تھے بلکہ صرف انہی باتوں پر لگایا جارہا تھا جن کی آپ نے نبی ہونے کے بعد تبلیغ شروع کی۔ (تفہیم القرآن)
188۔ ۔۔۔اس سلسلہ میں آپؐ نے فرمایا "جو شخص غیب کی خبریں بتلانے والے کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔"(مسلم ۔کتاب السلام،باب تحریم الکھانۃ واتیان الکُھان بحوالہ کتاب التوحید باب26 ماجاء فی الکُھان ونحوھم)نیز آپؐ نے فرمایا "جوکوئی کسی کاہن کے پاس جاکر دریافت کرے پھر اسے سچا سمجھے تو اس نے اس سے اظہار برأت کیا جو محمدؐ پر نازل ہواہے۔"(ابوداؤد۔کتاب الطب باب فی الکاھن)۔(تیسیر القرآن)
چوبیسواں رکوع |
| هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ ﴿189﴾ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿190﴾ اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ ﴿191﴾ وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ ﴿192﴾ وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ﴿193﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿194﴾ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ﴿195﴾ اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ ﴿196﴾ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ ﴿197﴾ وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ ﴿198﴾ خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ ﴿199﴾ وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿200﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ ﴿201﴾ وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ ﴿202﴾ وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿203﴾ وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴿204﴾ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ ﴿205﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ ۞ ۧ ۧ ﴿206ع الأعراف 7﴾ |
| 189. وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے۔ 190. جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔ 191. کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ 192. اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔ 193. اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو۔ 194. (مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔ 195. بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)۔ 196. میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے۔ 197. اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ 198. اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔ 199. (اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔ 200. اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔ 201. جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔ 202. اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے۔ 203. اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ 204. اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 205. اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا۔ 206. جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں۔ |
تفسیر آیات
199۔ داعی حق کیلئے ہدایات۔1۔عفوودرگزر۔2۔اچھی باتوں کا حکم،3۔بحث میں پرہیز۔4۔جوابی کارروائی سے اجتناب:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت مختصر الفاظ میں تین نصیحتیں بیان فرمائی ہیں جو ہر داعی حق کیلئے نہایت اہم ہیں گویا داعی حق کو درپیش مسائل کا حل چند الفاظ میں بیان کرکے دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیاہے ۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
201۔ مکاید شیطانی کی تفصیل اگر کسی کو دیکھنا ہو تو غزالیؒ کی احیاء علوم الدین اور ابن جوزی کی تلبیس ابلیس اور ابن قیم کی اغاثۃ اللہفان قابل مطالعہ ہیں۔مرشد تھانویؒ نے فرمایاکہ آیت میں کاملوں کو وسوسہ آنے کے امکان کی مع اس کے علاج یعنی استعاذہ اور تذکرامرو نہی کی تصریح ہے۔لیکن اب شیطان نے آرٹ ،تہذیب ،تمدن اور کلچر کی آڑ میں ہرشیطانی تحریک میں جو تزئین اور خوشنمائی پیدا کردی ہے،اس نے اب استعاذہ اور تذکرکے مواقع ہی کہاں باقی رہنے دیے ہیں سوا اس کےکہ خود اس تہذیب سے تعلق بالکل واجبی سارکھاجائے۔(تفسیر ماجدی)
202۔ان آیات میں نبی ﷺ کو دعوت تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں۔۔۔۔۔ 1۔داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔۔۔2۔دعوت حق کی کامیابی کا گُر یہ ہے کہ آدمی فلسفہ طرازی اور دقیقہ سنجی کے بجائے لوگوں کو معروف یعنی ان سیدھی اور صاف بھلائیوں کی تلقین کرے جنہیں بالعموم سارے ہی انسان بھلا جانتے ہیں یا جن کی بھلائی کو سمجھنے کے لیے وہ عقل عام (Common sense) کافی ہوتی ہے جو ہر انسان کو حاصل ہے۔۔۔۔۔۔۔3۔۔یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ جاہلوں سے نہ الجھا جائے۔۔۔۔ 4۔ ۔اپنی طبیعت میں اشتعال محسوس کرے تو اسے فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نزغ شیطانی (یعنی شیطان کی اکساہٹ) ہے اور اسی وقت خدا سے پناہ مانگنی چاہیے۔(تفہیم القرآن)
204۔ قرآن جب پڑھا جارہاہو تو خاموش رہو۔فاتحہ خلف الامام :امام مالک، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کی آرا۔(ڈاکٹر اسرار)
- قرآن سننے کے آداب: ۔جب قرآن ایسی دولت بے بہا اور علم و ہدایت کی کان ہے تو اس کی قرأت کا حق سامعین پر یہ ہے کہ پوری فکروتوجہ سے ادھر کان لگائیں،اس کی ہدایات کو سمع قبول سے سنیں اور ہرقسم کی بات چیت، شور وشغب اور ذکروفکر چھوڑ کر ادب کے ساتھ خاموش رہیں تاکہ خدا کی رحمت اور مہربانی کے مستحق ہوں۔ اگر کافر اس طرح قرآن سنے توکیا بعید ہے کہ خداکی رحمت سے مشرف بایمان ہوجائے۔اور پہلے سے مسلمان ہے تو ولی بن جائے۔ یاکم از کم اس فعل کے اجروثواب سے نوازا جائے۔اس آیت سے بہت سے علماء نےیہ مسئلہ بھی نکالاہے کہ نماز میں جب امام قرأ ت کرے تو مقتدی کوسننا اور خاموش رہنا چاہئیے جیساکہ ابوموسیٰ ؓاور ابوہریرۃؓ کی حدیث میں حضورؐ نے فرمایا"جب نماز میں امام قرأت کرے تو چپ رہو"یہاں اس مسئلہ کی تفصیل کا موقع نہیں ۔صحیح مسلم کی شرح میں ہم نے نہایت شرح و بسط سے اس کے مالہ وماعلیہ پر بحث کی ہے۔(تفسیر عثمانی)
- قرآن سننے کے مسائل :۔اس کے بالمقابل یہ خود ظاہرہے کہ اگر کسی نے ا س کی خلاف ورزی کرکے قرآن کی بے حرمتی کی تو وہ رحمت کے بجائے قہروغضب کا مستحق ہوگا۔نماز کے اندر قرآن کی طرف کان لگانا اور خاموش رہنا تو عام طورپر مسلمانوں کو معلوم ہے گوعمل میں کوتاہی کرتے ہیں کہ بعض لوگوں کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ امام نے کونسی سورت پڑھی ہے،ان پر لازم ہے کہ قرآن کی عظمت کو پہچانیں اور سننے کی طرف دھیان رکھیں ،خطبہ جمعہ وغیرہ کا بھی شرعاً یہی حکم ہے، علاوہ اس آیت کے رسول کریمؐ کا ارشاد خاص طور سے خطبہ کے متعلق یہ آیا ہے کہ یعنی جب امام خطبہ کیلئے نکل آئے تو نہ نماز ہے نہ کلام۔اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت کوئی شخص دوسرے کو نصیحت کیلئے زبان سے یہ بھی نہ کہے کہ خاموش رہو(کرنا ہی ہو تو ہاتھ سے اشارہ کردے)غرض دورانِ خطبہ میں کسی طرح کا کلام، تسبیح، درود یا نماز وغیرہ جائز نہیں۔فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو حکم خطبہ جمعہ کاہے وہی عیدین کے خطبہ اور نکاح وغیرہ کے خطبے کا بھی ہےکہ اس وقت کان لگانا اور خاموش رہنا واجب ہے۔البتہ نماز اور خطبہ کے علاوہ عام حالات میں کوئی شخص بطور خود تلاوت کررہاہے تو دوسروں کو خاموش رہ کر اس پر کان لگانا واجب ہے یا نہیں ،اس میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں ،بعض حضرات نے اس صورت میں بھی کان لگانے اور خاموش رہنے کو واجب اور اس کے خلاف کرنے کو گناہ قرار دیاہے،اور اسی لئے ایسی جگہ جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں یا آرام کرتے ہوں کسی کیلئے بآواز بلند قرآن پڑھنے کو جائز نہیں رکھا اور جو شخص ایسے مواقع میں قرآن بآواز بلند پڑھتاہے اس کو گنہگار فرمایا ہے،خلاصۃ الفتاویٰ وغیرہ میں ایسا ہی لکھاہے۔لیکن بعض دوسرے فقہاء نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ کان لگانا اور سننا صرف ان جگہوں میں واجب ہے جہاں قرآن کو سنانے ہی کیلئے پڑھا جارہاہو،جیسے نماز وخطبہ وغیرہ میں اور اگر کوئی شخص بطور خود تلاوت کررہاہے یا چند آدمی کسی ایک مکان میں اپنی اپنی تلاوت کررہے ہیں تو دوسرے کی آواز پر کان لگانا اور خاموش رہنا واجب نہیں ،کیونکہ احادیث ِ صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ رسول کریمؐ رات کی نماز میں جہراً قرأت فرماتے تھے اور ازواج مطہرات اس وقت نیند میں ہوتی تھیں، بعض اوقات حجرہ سے باہر بھی آنحضرتؐ کی آواز سنی جاتی تھی۔۔۔اس سے ان حضرات کی غلطی معلوم ہوگئی جو تلاوت قرآن ریڈیوایسے مجامع میں کھول دیتے ہیں جہاں لوگ اس کے سننے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ،اسی طرح رات کو لاؤڈ سپیکر لگاکر مسجدوں میں تلاوتِ قرآن اس طرح کرنا کہ اس کی آواز سے باہر کے سونے والوں کی نیند یا کام کرنے والوں کے کام میں خلل آئے درست نہیں۔علامہ ابن ہمامؒ نے لکھا ہے کہ جس وقت امام نماز میں یا خطیب خطبہ میں کوئی مضمون جنت و دوزخ کے متعلق پڑھ رہاہوتو اس وقت جنت کی دعاء یا دوزخ سے پناہ مانگنا بھی جائز نہیں کیونکہ اس آیت کی روسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وعدہ اس شخص کیلئے ہے جو تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہے اور جو خاموش نہ رہے اس سے وعدہ نہیں ،البتہ نفل نمازوں میں ایسی آیات کی تلاوت کے بعد آہستہ دعامانگنا سنت سے ثابت ہے اور موجبِ ثواب ہے(مظہری)(معارف القرآن)
205۔ جس طرح جسم کی زندگی کےلئے سانس کی آمد و شد ضروری ہے اسی طرح روح کی زندگی کےلئے ذکرِ الٰہی ضروری ہے۔(تدبرقرآن)
- ذکراللہ کے آداب:۔بڑا ذکر توقرآن کریم ہے ،اس کا ادب بیان ہوچکا۔اب عام "ذکراللہ"کے کچھ آدا ب بیان فرماتے ہیں یعنی "ذکراللہ" کی اصلی روح یہ ہے کہ جو زبان سے کہے دل سے اس کی طرف دھیان رکھے تاکہ ذکرکا پورا نفع ظاہر ہواور زبان و دل دونوں عضو خدا کی یاد میں مشغول ہوں۔ذکر کرتے وقت دل میں رقت ہونی چاہئیے۔سچی رغبت و ربیت سے خدا کو پکارے۔جیسے کوئی خوشامد کرنے والا ڈرا ہواآدمی کسی کوپکارتا ہے۔ ذاکر کے لہجہ میں ،آواز میں اور ہئیت تضرع و خوف کا رنگ محسوس ہوناچاہیے ۔ذکر و مذکور کی عظمت وجلال سے آواز کا پست ہونا قدرتی چیز ہے وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا۔ اسی لئے زیادہ چلانے کی ممانعت آئی ہے ۔دھیمی آواز سے سراً یا جہراً خدا کا ذکر کرے تو خدا اس کا ذکر کرے گا۔پھر اس سے زیادہ عاشق کی خوش بختی اور کیا ہوسکتی ہے۔(تفسیر عثمانی)
- آداب ذکر:آنحضرت نے یہ فیصلہ فرمایا کہ صدیق اکبرؓ کو یہ ہدایت کی کہ ذرا کچھ آواز بلند کیا کریں اور فاروق اعظمؓ کو یہ کہ کچھ پست کیاکریں۔(ابوداؤد)۔۔۔اور اس کا فیصلہ کہ سراًیا جہراً میں سے افضل کیا ہے، اشخاص اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہے، بعض لوگوں کیلئے جہر بہتر ہوتاہے بعض کیلئے آہستہ ،نیز بعض اوقات جہر بہتر ہوتاہے بعض وقت سر(تفسیر مظہری و تفسیر روح البیان وغیرہ)دوسرا ادب تلاوت اور ذکر کا یہ ہے کہ عاجزی اور تضرع کے ساتھ ذکر کیا جاوے جو نتیجہ اس کا ہوتاہے کہ انسان کو حق تعالیٰ کی عظمت و جلال مستحضر ہو اور جو ذکر کررہاہے اس کے معنیٰ و مفہوم پر نظر ہو۔تیسرا ادب اسی آیت میں لفظ خیفہ سے یہ بتلایا گیا کہ ذکر و تلاوت کے وقت انسان پر ہیبت اور خوف کی کیفیت ہونا چاہئیے،خوف اس کا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور عظمت کا حق ہم سے کوئی بے ادبی ہوجائے،نیز اپنے گناہوں کے استحضار سے عذابِ الٰہی کا خوف نیز انجام اور خاتمہ کا خوف کہ معلوم نہیں ہمارا خاتمہ کس حال پر ہونا ہے،بہرحال ذکر و تلاوت اس طرح کیا جائے جیسے کوئی ہیبت زدہ ڈرنے والا کیا کرتاہے۔(معارف القرآن)
206۔ سجدہ ہائے تلاوت:۔ قرآن کریم میں 14 مقامات ہیں جہاں آیات سجدہ آئی ہیں۔لیکن سجدہ تلاوت کے وجوب میں اختلاف ہے۔ بعض علماء اسے واجب سمجھتے ہیں اور بعض سنت یا مستحب ۔علاوہ ازیں بعض علماء کے نزدیک سجدہ تلاوت کیلئے نہ وضو ضروری ہے اور نہ قبلہ رخ ہونا اور نہ سلام پھیرنا، نیز یہ سواری پر بھی سرجھکانے سے اداہوجاتاہے تاہم مستحب یہی ہے کہ سجدہ تلاوت بھی انہی آداب کے ساتھ بجالایاجائے جیساکہ نماز میں سجدہ کیا جاتاہے یعنی باوضو اور قبلہ رخ ہوکر اداکیا جائے۔(تیسیر القرآن)