58 - سورة المجادلة (مدنیہ)

رکوع - 3 آیات - 22

مضمون: دینی احکام کے خلاف خفیہ پروپیگنڈا کرنا اللہ اور رسول کے خلاف محاذ جنگ کھولنا ہے۔ایسے لوگ ذلیل ہو کے رہیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: بیویوں سے ظہار کے معاملہ میں حدود اللہ کی پاسداری کا حکم ،منافقین کا خفیہ پروپیگنڈہ(نجویٰ)اسلامی معاشرے کو کھوکھلا کردیتا ہے اور آخرمیں حزب اللہ کی کامیابی اور حزب الشیطان کی ناکامی کا تذکرہ۔

نام: اس کے دونام ہیں ۔المجادَلہ بمعنی بحث و تکرار اور المجادِلہ(اسم فاعل مؤنث)بمعنی بحث و تکرار کرنے والی۔

شانِ نزول: یہ سورت ،سورۂ الاحزاب کے بعد غالباً ذوالحجہ سنہ5 ہجری میں نازل ہوئی ۔اس کی شانِ نزول یہ ہے کہ ایک انصاری صحابیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہؓ کے خاوند حضرت اوس بن صامتؓ نے ان سے یہ کہہ دیا کہ تو میرے لئے ایسی ہے،جیسے میری ماں کی پیٹھ (یعنی ظہار کردیا) اس سورۃ میں ظہار کا قانون اور کفار ہ بیان ہوا ہے،علاوہ دیگر مضامین کے ۔

نظمِ کلام:سورۂ ق

ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1(ظہار کا شرعی حکم)  (ii) ر۔2(سرگوشیوں یعنی نجویٰ کا حکم) (iii)ر۔3(حزب الشیطان اور حزب اللہ)

سورہ مجادلہ میں ناسخ و منسوخ: اس سورت میں ،آیت:13 ناسخ ہے اور آیت 12 منسوخ ہے۔صحابہؓ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ رسول اللہؐ سے تخلیہ میں "نجویٰ"کرنا چاہیں تو صدقہ دیں،لیکن کچھ دیر بعد یہ حکم منسوخ ہوگیا۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)


پہلا رکوع

پارہ:28 پہلا رکوع: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ ﴿1﴾ اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ ﴿2﴾ وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ﴿3﴾ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿4﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ ﴿5﴾ یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ ﴿6ع المجادلة 58﴾
1. (اے پیغمبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث جدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی۔ خدا نے اس کی التجا سن لی اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے۔ 2. جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے۔ بےشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور خدا بڑا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے۔ 3. اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے۔ (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔ 4. جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہوا (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیئے) ۔ یہ (حکم) اس لئے (ہے) کہ تم خدا اور اسکے رسول کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔ 5. جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (اسی طرح) ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں۔ جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ 6. جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے ان کو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ ان کو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

تفسیر آیات

(ظہار کا شرعی حکم)332-337۔)معارف القرآن(

1۔ عام طور پر مترجمین نے اس مقام پر مجادلہ کر رہی تھی، فریاد کر رہی تھی، اور اللہ سن رہا تھا ترجمہ کیا ہے جس سے پڑھنے والے کا ذہن یہ مفہوم اخذ کرتا ہے کہ وہ خاتون اپنی شکایت سنا کر چلی گئی ہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس واقعہ کے متعلق جو روایات احادیث میں آئی ہیں ان میں سے اکثر میں یہ بتایا گیا ہے کہ۔۔۔۔ عین اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور یہ آیات نازل ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خاتون جن کے معاملہ میں آیات نازل ہوئی ہیں قبیلہ خزرج کی خولہ بنت ثعلبہ تھیں، اور ان کے شوہر اَوْس بن صامت انصاری، قبیلہ اوس کے سردار حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔۔۔۔۔۔۔ ایک مرتبہ حضرت عمر کچھ اصحاب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک عورت ملی اور اس نے ان کو روکا۔ آپ فوراً رک گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھیوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا امیر المومنین، آپ نے قریش کے سرداروں کو اس بڑھیا کے لیے اتنی دیر روکے رکھا۔ فرمایا جانتے بھی ہو یہ کون ہے ؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سلام کا جواب دینے کے بعد کہنے لگیں " اوہو، اے عمر ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازار عکاظ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہلاتے تھے۔ لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چراتے پھرتے تھے۔ پھر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ تم عمر کہلانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا تم امیر المومنین کہے جانے لگے۔ ذرا  رعیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ (تفہیم القرآن)

۔مجادلۃ قرآن میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ برے معنی اس کے کٹ حجتی کرنے اور جھگڑنے کے ہیں اور اچھے معنی اس کے کسی سے اپنی بات محبت، اعتماد، حسن گزارش، تزلل اور اصرار کے ساتھ منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اس میں جھگڑنا تو بظاہرہوتا ہے لیکن یہ جھگڑنا محبت اور اعتماد کے ساتھ ہوتا ہے جس طرح چھوٹے اپنی کوئی بات اپنے کسی بڑے سے، اس کی شفقت پر اعتماد کر کے منوانے کے لیے جھگڑتے ہیں۔ اس مجادلہ محبت کی بہترین مثال سیدنا ابراہیم ؑ کا وہ مجادلہ ہے جو انہوں نے قوم لوط کے باب میں اپنے رب سے کیا ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ نے نہایت تعریف فرمائی ہے۔ اس کی تفصیل ہم اس کے محل میں پیش کرچکے ہیں۔ یہاں ان خاتون کے  جس مجادلہ کی طرف اشارہ ہے اس کی نوعیت بالکل یہی ہے۔ اردو میں اس کا مفہوم ادا کرنے کے لیے کوئی موزوں لفظ سمجھ میں نہیں آیا اس وجہ سے میں نے ترجمہ جھگڑنا ہی کیا ہے لیکن یہ جھگڑنا خاص مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ لفظ اردو میں بھی مستعمل ہے بشرطیکہ آدمی موقع و محل کو ملحوظ رکھ سکے۔۔۔۔۔۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرماکر ان کو اور ان کے اس مجادلہ کو زندہ جاوید بنا دیا اور لوگوں کو سبق دیا کہ جن کو دین کے معاملے میں کوئی مشکل پیش آئے انہیں اس مومنہ خاتون کی طرح اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرنی چاہیے، منافقوں کی طرح اس کو نکتہ چینی، سرگوشی اور اللہ و رسول کے خلاف محاذ آرائی (محادّہ) کا بہانہ نہیں بنا لینا چاہیے۔ (تدبرِ قرآن)

تیسرا مفہوم یہ ہے کہ ظہار کے الفاظ زبان سے نکالنے کے بعد آدمی پلٹ کر اس بات کا تدارک کرنا چاہے جو اس نے کہی ہے۔ بالفاظ دیگر عَادَ لِمَا قالَ کے معنی ہیں کہنے والے نے اپنی بات سے رجوع کرلیا۔ چوتھا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کو آدمی نے ظہار کر کے اپنے لیے حرام کیا تھا اسے پلٹ کر پھر اپنے لیے حلال کرنا چاہے۔ بالفاظ دیگر عَادَ لِمَا قَالَ کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص تحریم کا قائل ہوگیا تھا وہ اب تحلیل کی طرف پلٹ آیا۔ اکثر و بیشتر فقہاء نے انہی دو مفہوموں میں سے کسی ایک کو ترجیح دی ہے۔ (تفہیم القرآن)

4۔ظہار سے اگر چہ طلاق واقع نہیں ہوجاتی تاہم یہ ایک گناہ کبیرہ ہے۔۔۔۔۔گویا کفارہ بھی عبادات کی شکل میں تجویز ہواہے۔تاکہ انسان کے نفس میں پاکیزگی اور تقویٰ پیدا ہوا۔کفارہ میں حدی جرائم کی طرح کوئی بدنی سزا نہیں ہوتی۔ (تیسیر القرآن)

 حادَّ کا لغوی مفہوم  "یُحَادُّونَ "حد النظر بمعنی تیز نظر سے گھورنا اور حادَّ سے مراد ایسی مخالفت اور دشمنی ہے جس سے انسان غضب ناک ہوکر مقابلہ اور انتقام پر اتر آئے۔مخالفت کی ابتدائی شکل تو یہ ہے کہ انسان اللہ کا حکم تسلیم نہ کرے۔دوسرا اقدام یہ ہے کہ انسان اللہ کے احکام کا مذاق اڑانا شروع کردے اور تیسرا اقدام یہ ہے کہ اللہ کے قانون یا سزا یا تعزیر کے بجائے کوئی دوسری سزا یا تعزیر مقرر کرلے اور اللہ کے احکام کو نظر انداز کردے۔یا اس کی مخالفت میں آکر شرعی احکام کو مصلحت پر  مبنی ہونے کے بجائے اسے معاشرہ کے لیے نقصان دہ یا غیر مہذب ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ یہ سب صورتیں حاد کے ضمن  میں آتی ہیں۔(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴿7﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ﴿8﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ ﴿9﴾ اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴿10﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ﴿11﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿12﴾ ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ ﴿13ع المجادلة 58﴾
7. کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح ومشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ 8. کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے۔ 9. مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔ 10. (کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں۔ 11. مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔ 12. مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 13. کیا تم اس سےکہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔

تفسیر آیات

(نجویٰ یعنی سرگوشیوں کے مختلف پہلو):339-340 )معارف القرآن(

۔منافقین 'السلام علیکم'کے بجائے 'السام علیک'کی آواز نکالتے جس سے موت کی بددعا مقصود ہوتی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

اسی ناجائز سرگوشی کی تعریف میں یہ بات بھی آتی ہے کہ دو آدمی تیسرے شخص کی موجودگی میں کسی ایسی زبان میں بات کرنے لگیں جسے وہ نہ سمجھتا ہو۔ (تفہیم القرآن)


تیسرا رکوع

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ ﴿14﴾ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿15﴾ اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ﴿16﴾ لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿17﴾ یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ﴿18﴾ اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴿19﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ ﴿20﴾ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ ﴿21﴾ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ ﴿22ع المجادلة 58﴾
14. بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں۔ اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں۔ 15. خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں یقیناً برا ہے۔ 16. انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ 17. خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) ۔ یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ 18. جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے کہ (ایسا کرنے سے) کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔ 19. شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے۔ اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے۔ یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے۔ 20. جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔ 21. خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے۔ بےشک خدا زورآور (اور) زبردست ہے۔ 22. جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے۔

تفسیر آیات

(حزب الشیطان و حزب اللہ)

ستیزہ کاررہاہے ازل سے تا امروز                                                             چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی

14۔ اشارہ ہے مدینے کے یہودیوں کی طرف جنہیں منافقین نے دوست بنا رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی مخلصانہ تعلق ان کا نہ اہل ایمان سے ہے نہ یہود سے۔ دونوں کے ساتھ انہوں نے محض اپنی اغراض کے لیے رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ (تفہیم القرآن)

18۔یعنی یہ صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے۔ جھوٹ اور فریب ان کے اندر اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔ (تفہیم القرآن)

21۔قرآن نے رسولوں کی جو تاریخ پیش کی ہے ان میں سے اکثر کو پہلی صورت پیش آئی یعنی رسول اور اس کے ساتھیوں کی ہجرت کے بعد قوم پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کن عذاب آگیا۔ صرف آنحضرت ﷺ کے معاملے میں دوسری صورت پیش آئی کہ ہجرت کے بعد آپ کو جہاد کا حکم ہوا اور آپ کے اعداء نے آپ کے صحابہ ؓ کی تلوار سے شکست کھائی یہاں تک کہ ان کا بالکل قلع قمع ہوگیا۔ (تفہیم القرآن)

22۔ ۔۔۔ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ اے نبی ؐ ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کاتم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسُول ؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے ،اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا (سورۂ توبہ: 24) ۔۔۔۔۔۔  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔۔۔ اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ ۔۔۔ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ۧ   اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبُوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبُوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے،جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔۔۔تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔۔۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اُسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے (سورۂ مائدۂ: 54-56) (بیان القرآن)ْ

- یہ اسی فیضِ روحانی کا کرشمہ تھا کہ ابوعبیدہ بن جراح ؓ نے غزوۂ احد میں اپنےباپ عبد اللہ الجراح پر تلوار چلائی ،سیدنا ابوبکرؓ نے بدر میں اپنے فرزند کو للکارا،مصعب بن عمیرؓ نے احد میں اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا ،حضرت عمرؓ نےاپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا اور علیؓ،حمزہؓ اور ابوعبیدہؓ نے اپنے عزیزوں عتبہ ،شیبہ  اور ولید بن عبید کو لقمۂ اجل بنایا۔(تدبرقرآن)

- 366-367۔ اوپر والے حوالہ پر اضافہ(تفہیم القرآن)

۔جنگ کے دوران کافر اقرباء سے مسلمانوں کا سلوک:۔  یہ آیت ان صحابہ کی شان میں نازل ہوئی جنہوں نے اللہ کے اس ارشاد پر عمل کرکے دنیا کے سامنے اس کا عملی نمونہ پیش کیا تھا۔غزوۂ احد میں سیدنا مصعب بن عمیرؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کوقتل کیا۔سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو اور سیدنا علیؓ ،سیدنا حمزہؓ اور عبید بن الحارث نے علی  الترتیب عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا۔ ایک دفعہ سیدناابوبکرؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن اپنے باپ سے کہنے لگے کہ اباجان! آپ جنگ میں عین میری تلوار کی زد میں تھے مگر میں نے باپ سمجھ کرچھوڑ دیا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے جواب دیا: بیٹا اگر تم میری تلوار کی زد میں آجاتے تو میں تمہیں کبھی نہ چھوڑتا۔  غزوۂ احد کے قیدیوں کے متعلق مشورہ ہواتو سیدنا عمرؓ نے یہ مشورہ دیا کہ ہر آدمی اپنے قریبی رشتہ دار کو قتل کرکے موت کے گھاٹ اتار دے ۔غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی پر عبداللہ بن ابی منافق نے آپؐ کی شان میں ناجائز کلمات کہے تو ان کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ ہی تھا اور سچے مومن تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگے۔اگر آپ حکم فرمائیں تو میں اپنے باپ کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں لارکھوں۔ لیکن آپ نے اپنی طبعی رحم دلی کی بناپر عبداللہؓ کو ایسا کرنے سے منع فرمادیا۔ غرضیکہ سچے ایمانداروں کی تو شان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار حتیٰ کہ اپنی جان تک کی پروانہیں کرتے۔(تیسیر القرآن)