13 - سورة الرعد (مکیہ)
| رکوع - 6 | آیات - 43 |
مضمون: اس سورہ میں سورہ یوسف ہی کا مضمون عقل و فطرت کے دلائل سے واضح کیا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: سورۂ یونس سے آٹھ سورتوں کا سلسلہ(سورۂ یونس تا بنی اسرائیل) شروع ہوا جو غالبًا 11 تا 13 سنہ نبوی (ہجرت مدینہ سے قبل)نازل ہوئیں۔
نظمِ سورۂ: سورۂ یونس سے سورتوں کا تیسرا گروپ شروع ہوا جو سورۂ نور پرختم ہوگا۔ اس میں چودہ مکی سورتیں (یونس تا مومنون)اور 15 ویں مدنی سورۃ ،سورۂ نور ۔حق و باطل کی کشمکش میں حضورؐ کی کامیابی اورکفار کی ناکامی (آخری دور کا ماحول)
مرکزی مضمون : حضورؐ کی دعوت کو قبول کرنے والے عقلمند (اولوالباب) اور منکر ین ِ توحید و آخرت سازشی بھی ہیں اور بے وقوف بھی ۔یہ حق و باطل کی کشمکش ہے(ستیزہ کارہائے)دونوں کا کردار بھی مختلف اور انجام بھی مختلف ۔
ترتیب مطالعہ: (i) پہلے دورکوع(دعوت توحید و آخرت کو دلائل سے برحق ثابت کیا گیا )(ii)تیسرا رکوع اور چوتھے رکوع کی پہلی تین آیات (اہل توحید کو عقلمند اور اہلِ شرک کو بیوقوف ثابت کیا گیاہے)(iii) آیت :30 سے آخرسورۃ تک (عقلمند اہل ایمان کا انجام و انعام)
آیات ِ الٰہی( تذکیر بآلاللہ)
۔اللہ کی آیات(توحید و آخرت کے دلائل)۔(تعلیم القرآن)
پہلا رکوع |
| الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿1﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ ﴿2﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ﴿3﴾ وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴿4﴾ وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿5﴾ وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿6﴾ وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ ۧ ۧ ﴿7ع الرعد 13﴾ |
| 1. الٓمرا۔ (اے محمد) یہ کتاب (الہیٰ) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 2. خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک، ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔ 3. اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے اور ہر طرح کے میوؤں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ 4. اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجود یہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے۔ اور ہم بعض میوؤں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ 5. اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔ 6. اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔ 7. اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہیں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے۔ |
تفسیر آیات
۔ پہلی آیت میں قرآن کریم کے کلام الہی اور حق ہونے کا بیان ہے کتاب سے مراد قرآن ہے اور وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ سے بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن ہی مراد ہو لیکن واؤ حرف عطف بظاہر یہ چاہتا ہے کہ کتاب اور اَلَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ دوچیزیں الگ الگ ہوں اس صورت میں کتاب سے مراد قرآن اور اَلَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ سے مراد وہ وحی ہوگی جو علاوہ قرآن کے رسول کریم ﷺ پر آئی ہے کیونکہ اس میں تو کوئی کلام نہیں ہوسکتا کہ رسول کریم ﷺ پر آنے والی وحی صرف قرآن میں منحصر نہیں خود قرآن کریم میں ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۔ (معارف القرآن)
4۔ اسے محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے کے لیے بڑی ہٹ دھرمی درکار ہے۔ (تفہیم القرآن)
5۔گردن میں طوق پڑا ہونا قیدی ہونے کی علامت ہے۔ ان لوگوں کی گردنوں میں طوق پڑے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی جہالت کے، اپنی ہٹ دھرمی کے، اپنی خواہشات نفس کے، اور اپنے آباواجداد کی اندھی تقلید کے اسیر بنے ہوئے ہیں۔ یہ آزادانہ غور و فکر نہیں کرسکتے۔ انہیں ان کے تعصبات نے ایسا جکڑ رکھا ہے کہ یہ آخرت کو نہیں مان سکتے اگرچہ اس کا ماننا سراسر معقول ہے، اور انکار آخرت پر جمے ہوئے ہیں اگرچہ وہ سراسر نامعقول ہے۔ (تفہیم القرآن)
6۔اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ۔حضرت ابن عباسؓ صحابی سے منقول ہے کہ قرآن مجید میں سب سے بڑھ کر پُرامید و پُرتسلی یہی آیت ہے ،اور سدی تابعی نے بھی یہی کہا ہے اور کہا ہے کہ یہ مغفرت بشارت غیر تائبین کیلئے ہے۔۔۔۔۔متکلمین اہل سنت نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ صاحب کبائر کی مغفرت توبہ کے بغیر بھی ہوسکتی ہے، ورنہ توبہ گناہ کو زائل کرہی دیتی ہے مؤمن تو ظالم جبھی تک ہے ،جب تک غیر تائب ہے۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ ﴿8﴾ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ ﴿9﴾ سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴿10﴾ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ ﴿11﴾ هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ ﴿12﴾ وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ ﴿13﴾ لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا ْیَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ﴿14﴾ وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ ۞ ﴿15﴾ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴿16﴾ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ ﴿17﴾ لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ ۧ ۧ ﴿18ع الرعد 13﴾ |
| 8. خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) ۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔ 9. وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔ 10. کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔ 11. اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ 12. اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ 13. اور رعد اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے۔ 14. سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے۔ 15. اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)۔ 16. ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے۔ 17. اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)۔ 18. جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے۔ |
تفسیر آیات
تفسیر آیات:
9۔ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَال غیب سے مراد وہ چیز ہے جو انسانی حواس سے غائب ہو یعنی نہ آنکھوں سے اس کو دیکھا جاسکے نہ کانوں سے سنا جاسکے نہ ناک سے سونگھا جاسکے نہ زبان سے چکھا جاسکے نہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کیا جاسکے۔ (معارف القرآن)
12۔بادل اور بارش پر میکائیل فرشتہ مقرر ہے۔ (تیسیر القرآن)
13۔ اصطلاح ِ شریعت میں اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جو ناظمِ ابر و سحابیات ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ فرشتوں کے جلال خداوندی سے لرزنے اور تسبیح کرنے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ یہاں اس لیے کیا کہ مشرکین ہر زمانے میں فرشتوں کو دیوتا اور معبود قرار دیتے رہے ہیں اور ان کا یہ گمان رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی خدائی میں شریک ہیں۔ اس غلط خیال کی تردید کے لیے فرمایا گیا کہ وہ اقتدار اعلی میں خدا کے شریک نہیں ہیں بلکہ فرمانبردار خادم ہیں اور اپنے آقا کے جلال سے کانپتے ہوئے اس کی تسبیح کر رہے ہیں۔۔۔۔ یعنی اس کے پاس بیشمار حربے ہیں اور وہ جس وقت جس کے خلاف جس حربے سے چاہے ایسے طریقے سے کام لے سکتا ہے کہ چوٹ پڑنے سے ایک لمحہ پہلے بھی اسے خبر نہیں ہوتی کہ کدھر سے کب چوٹ پڑنے والی ہے۔ ایسی قادر مطلق ہستی کے بارے میں یوں بےسوچے سمجھے جو لوگ الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں انہیں کون عقلمند کہہ سکتا ہے ؟ (تفہیم القرآن)
14۔ پکارنے سے مراد اپنی حاجتوں میں مدد کے لیے پکارنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حاجت روائی و مشکل کشائی کے سارے اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے صرف اسی سے دعائیں مانگنا برحق ہے۔ (تفہیم القرآن)
15۔ یَسْجُدُ۔سجدہ یہاں یہ اصطلاح شرعی نہیں بلکہ اپنے اصلی و لغوی معنی میں ہے، یعنی سب کے سب اللہ کے آگے جھکے ہوئے ،اور اس کی مشیت کے مطیع و منقاد ہیں اور سجدہ کو سجدہ صرف دلالۃ ًکہا جائیگانہ کہ عبادۃً۔(تفسیر ماجدی)
قوموں کے عروج و زوال کا قانون :
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
- جن نعمتوں سے کوئی قوم بہرہ ور ہوتی ہے ان سے اسے بلاوجہ محروم نہیں کردیا جاتا ۔(ضیاء القرآن)
- افراد اقوام کا اٹل قانون ۔ہر وہ شخص یا قوم جو اپنی موجودہ پستی پر نالاں ہے اور عروج و بلندی کی خواہاں ، وہ یہ آیت پڑھے۔(ضیاء القرآن)
17۔ (i) بقاکی کشمکش (Struggle for existence)(ii) اور بقائے اصلح(Survival of the fittest) ۔جو چیز افادیت اور نفع رسانی کی صفت سے محروم ہوگی ،وہ فنا ہوجائے گی۔حق نفع رساں اور باطل ضرررساں ۔جب تک بنی اسرائیل رشدوہدایت کا چراغ روشن کئے رہے ۔انی فضلتکم علی العالمین کا شرف انہیں نصیب رہاجب ملت اسلامیہ نے اس ذمہ داری کو سنبھالا تو خیرالامم قرار پائی۔جب اس کا نشتر تحقیق کند اور جذبۂ جہاد ٹھنڈا پڑگیا تو الحمرا کی دیواروں کے سایوں میں ان کے بوڑھوں اور بچوں کو بے دردی سے ذبح کردیا گیا۔ شاہی محلات میں شہزادیوں کی عصمتیں لوٹی گئیں۔(ضیاء القرآن)
ــــحق و باطل کی دوسری مثال یہ ہے کہ جب دھاتوں کو،جن سے زیورات یا دوسری کارآمد اشیاء بنتی ہیں۔کٹھالی میں تپایا جاتاہے تو اس کا ناکارہ حصہ اور کھوٹ سب کچھ ایک دم اوپرآکرکام کی چیز کو چھپاتاہی نہیں بلکہ اس پر پوری طرح چھاجاتاہے۔لیکن یہ سب کچھ بلآخر جل جاتاہے اور اسے باہر پھینک دیا جاتاہے اور مائع دھات جس کا زیور وغیرہ بنتاہے وہ نیچے ہوتی ے اسی طرح معرکہ حق و باطل میں ایک دفعہ باطل ضرورحق پر چھاجاتاہے لیکن بلآخر حق ہی باقی رہتاہےکیونکہ وہی لوگوں کے فائدہ کی چیز ہوتی ہے۔(تیسیر القرآن)
- کارل مارکس کا (Thesis, anti –thesis, synthesis)(بیان القرآن)
تیسرا رکوع |
| اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ ﴿19﴾ الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ ﴿20﴾ وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ ﴿21﴾ وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ ﴿22﴾ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ ﴿23﴾ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ ﴿24﴾ وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ ﴿25﴾ اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ ۧ ۧ ﴿26ع الرعد 13﴾ |
| 19. بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔ 20. جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔ 21. اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں۔ 22. اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔ 23. (یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے۔ 24. (اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔ 25. اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اس کو توڑ ڈالتے اور (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کر دیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں۔ ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے۔ 26. خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔ |
تفسیر آیات
تفسیر آیات:
19۔ اُنْزِلَ اِلَیْكَ۔ اس سے قرآن مراد ہونا تو ظاہرہی ہے،باقی رسول اللہؐ نے وحی خفی کی بناپر قرآن سے باہر جو احکام دئیے ہیں ،وہ بھی اس کے عموم میں شامل ہیں۔(تفسیر ماجدی)
20۔ عَهْدُ اللّٰہ سے مراد وہ عہد اطاعت ہے جو انسان روز اول اللہ سے کرچکاہے۔۔۔۔۔ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ یہ لفظ حقوق اللہ کے مرادف ہے اور اس کی ادائی کا درجۂ اقل یہ ہے کہ معاصی کبیرہ سے اجتناب رہے۔(تفسیر ماجدی)
21۔ ان دومثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ کائنات اپنے مزاج سے ہرنافع کو باقی رکھنا چاہتی اور غیر نافع کو برابرچھانٹتی رہتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ حق اور باطل کو ٹکراتا ہے تو باطل خس و خاشاک کی طرح اڑجاتاہے ،لیکن حق باقی رہتاہے ۔یہ اس بات کی شہادت ہے کہ وہ حق و باطل کی اس کشمکش میں، جو قرآن کے نزول سے برپا ہوئی ہے،باطل کو مٹادے گا اور قرآن کے حاملین باقی رہ جائیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
22۔ الَّذِیْنَ۔ ۔۔ رَبِّهِمْ۔یعنی دین حق پر ہرطرح کی جسمانی صعوبتوں اور دماغی پریشانیوں کے باوجود قائم رہتے ہیں، اس صبر کے عموم میں ہرقسم کے احکام تشریعی اور مصائب تکوینی پر صبر شامل ہے۔۔۔۔خوب غور کرکے دیکھ لیا جائے، ان خوش قسمت بندوں کے صفات و عادات میں کہیں ذکر ان کی "مادی ترقیوں"کا اور ان کی اعلیٰ علمی ڈگریوں اختراعات و ایجادات کا، ان کے مالی و کاروباری کارناموں کا ان کے سائنسی انکشافات کا آتاہے؟۔(تفسیر ماجدی)
25۔ بے دینی اور تقاضائے جاہلیت کو لاکھ خوشنما و نظر فریب اصطلاحات کے پردہ میں چھپایا جائے جیساکہ موجودہ تہذیب و تمدن کے پرستار اس کے ساتھ معاملہ کرہی رہے ہیں ،اس کے پھیلاؤ کا نتیجہ اختلالِ امن اور فساد فی الارض حسد و منافست ،بے حیائی ،جنس پرستی کی صورت میں نکلنا لازمی ہے۔جیساکہ مدت سے ارض فرنگ میں نظم و انتظام کی ساری خوش غلافیوں کے باوجود دیکھنے میں آرہاہے۔(تفسیر ماجدی)
تیسرے رکوع میں اللہ کے بندوں کی نو صفات :
(i) اللہ کے عہد کو پورا کرنے والے (الست بربکم قالوبلیٰ) (ii) وہ کسی عہدو میثاق کی خلاف ورزی نہیں کرتے (iii)اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں(iv)اپنے رب سے ڈرتے ہیں(v) برے حساب سے ڈرتے ہیں(vi) جو خالص اللہ کی رضا جوئی کےلئے صبرکرتے ہیں۔(vii)نماز قائم کرتے ہیں(محض پڑھتے نہیں)(viii) اللہ کے دئیے ہوئے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں۔(ix)برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔۔۔۔بعد ازاں نافرمان بندوں کی علامات: (i)اللہ کے عہد کو پختہ کرنے کےبعد توڑ دیتے ہیں (ii) ان تعلقات کو قطع کردیتے ہیں جنکو اللہ نے قائم رکھنے کا حکم دیا تھا (اللہ اور رسول سے تعلق ، قطع رحمی ، اسلامی اخوت کونقصان) (معارف القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖ ۚ ﴿27﴾ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ ﴿28﴾ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ ﴿29﴾ كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ ﴿30﴾ وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ ۧ ۧ ﴿31ع الرعد 13﴾ |
| 27. اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے۔ 28. (یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔ 29. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لیے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے۔ 30. (جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ 31. اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ |
تفسیر آیات
28۔ اللہ کو یادکرنے ،اللہ کی تسبیح اور حمد بیان کرنے کی فضیلت کی بابت رسول اللہؐ نے فرمایا :"اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر(تسبیح بیان)کرتاہے،اس شخص کے مقابلے میں جو اپنے رب کا ذکر (تسبیح)نہیں کرتا،ایسے ہی ہے جیسے مردہ کے مقابلے میں زندہ کی۔"(صحیح بخاری،الدعوات۔باب"66،حدیث:6407) ۔ ذکرالٰہی کے بہت فضائل ہیں:۔ رسول اللہؐ نے فرمایا:"جو کوئی دن میں سوبار"سبحان اللہ وبحمدہٖ"کہے تو اس کی تمام (صغیرہ)خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اگر چہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔"(صحیح بخاری،الدعوات،باب:65حدیث:6405) ۔ ایک اور روایت میں ہے:"جوشخص دن میں سوبار"لاالٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ،لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر"(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہی ہے،اس کا کوئ شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کیلئے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔)کہے تو اُسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب دیا جاتاہے اور اس کیلئے (اس کے نامۂ اعمال میں)سونیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے نامۂ اعمال سے سو برائیاں مٹادی جاتی ہیں اور یہ عمل دن بھر شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کرتاہےاور کوئی بھی شخص اس دن اس شخص سے بڑھ کر کوئی نیک عمل نہ لاسکے گا ماسوائے اس کے جس نے یہ عمل اس سے زیادہ بارکیا۔"(صحیح بخاری، الدعوات، باب:64۔حدیث 6403)( احسن الکلام)
ـــ جسم کی غذا ( مٹی کی غذامٹی سے پیدا ہونے والی چیزیں )، روح کی غذا (ذکر الٰہی،کلام ِ الٰہی)۔ (بیان القرآن)
ـــدولت ، حکومت، منصب ،جاگیر ، کوئی چیز انسان کو حقیقی سکون و اطمینان (ذکر ، قرآن، نماز ،قیام الیل، تہجد ، نیند نہ آنا مسئلہ نہیں ، جاگنا اور نیند توڑنا مشکل ) (تفسیر عثمانی)
ــــیعنی ذکر الٰہی میں خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ انسان کے قلب کو غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے الجھاؤسے بچادیتاہے ،اور شرک سے جو انتشار ذہنی پیدا ہوتاہے ،یقینی تو حیداس کیلئے تریاق بن جاتاہے ۔۔۔البتہ اس اطمینان کے بھی مختلف درجے اور مرتبے ہیں، جس درجہ کا ذکر الٰہی ہوتاہے اسی نسبت سے اطمینان ِ قلب بھی حاصل ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)
29۔ طوبیٰ سے مراد کیا ہے؟ لفظ طوبیٰ کے معنی ایسی خوشی حاصل ہونا جس سے انسان کے دل کے علاوہ اس کے حواس بھی لطف اندوز ہوں(مفردات)اور جنت کی نعمتیں سب ایسی ہی ہوں گی بعض مفسرین نے طوبیٰ سے مراد وہ درخت لیا ہے جس کا ذکر احادیث میں آتاہے کہ وہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں ایک سوار اگر سوسال تک بھی چلتا رہے تو اس کا سایہ ختم نہ ہو۔(بخاری،کتاب التفسیر،سورۂ واقعہ زیر آیت(ظل ممدود)اہل عرب کیلئے ایسے درخت کا جنت میں موجود ہونا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔کیونکہ عرب کا اکثر علاقہ سنگلاخ اور ریگستانی ہے۔شدت کی گرمی پڑتی ہے ۔لوئیں چلتی ہیں مگر درخت یا درختوں کے سائے بہت کم پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے جنت کی نعمتوں کا جہاں ذکر آتاہے وہاں ٹھنڈے پانی او رگھنی اور ٹھنڈی چھاؤں کا بالخصوص ذکرہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
30۔رحمٰن سے کافروں کا چڑنا:۔ رحمٰن اللہ تعالیٰ کا دوسرے درجہ پر ذاتی نام ہے جیسے فرمایا"قل اد عوااللہ اوادعوا الرحمن"(17: 110) اسی لیے یہ لفظ بھی اللہ کی طرح کسی مخلوق کیلئے استعمال نہیں ہوتا قریش مکہ کو اس لفظ سے خاص چڑ تھی ۔جیسے یہود کو جبرائیل اور میکائل فرشتوں سے چڑتھی۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب آپؐ نے صلح نامہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھوایا تو اس پر قریش کے نمائندہ سہل بن عمر نے یہ اعتراض کردیا کہ یہ رحمٰن کون ہے ہم اسے نہیں جانتے جب یہ جھگڑا بڑھا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ جملہ مٹاکر قریش کے دستور کے مطابق باسمک اللہ لکھ دیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(بخاری، کتاب الشروط،باب الشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اہل الحرب)۔(تیسیر القرآن)
31۔ایک روز ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں چند مطالبات پیش کیے کہ اگر مکہ کے پہاڑ دورہٹ جائیں اور ہماری کھیتی باڑی کےلئے زمین فراخ ہو جائے نیز اس میں چشمے اور نہریں جاری ہوجائیں اور قصی(جد اعلیٰ) قبر سے زندہ ہوجائے اور ہم بھی دوش ِ ہواپر سوار ہوکر شام و یمن تجارت کےلئے آیاجایا کریں تو پھر ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ایسا کر بھی دیا جائے تو یہ ہٹ دھرم پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور یہی کہہ دیں گے بڑا زبردست جادوگر ہے۔ اس شرط کی جزا محذوف ہے۔(ضیاء القرآن)
۔اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی ضروری ہے کہ اس میں خطاب کفار سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے ہے۔ مسلمان جب کفار کی طرف سے بار بار نشانی کا مطالبہ سنتے تھے تو ان کے دلوں میں بےچینی پیدا ہوتی تھی کہ کاش ان لوگوں کو کوئی نشانی دکھا دی جاتی جس سے یہ لوگ قائل ہوجاتے۔۔۔۔۔۔کیا تمہیں ان سے یہ خوش گمانی ہے کہ یہ قبول حق کے لیے بالکل تیار بیٹھے ہیں، صرف ایک نشانی کے ظہور کی کسر ہے ؟ جن لوگوں کو قرآن کی تعلیم میں، کائنات کے آثار میں، نبی ﷺ کی پاکیزہ زندگی میں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے انقلاب حیات میں نور حق نظر نہ آیا کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ پہاڑوں کے چلنے اور زمین کے پھٹنے اور مردوں کے قبروں سے نکل آنے میں کوئی روشنی پالیں گے ؟ (تفہیم القرآن)
ــــ رسول کریمؐ کے اشارہ سے چاند کے دوٹکڑے ہوجانا پہاڑوں کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے اور تسخیر ہوا سے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہے، اسی طرح بے جان کنکریوں کا آپؐ کے دستِ مبارک میں بولنا اور تسبیح کرنا کسی مردہ انسان کے دوبارہ زندہ ہوکر بولنے سے کہیں زیادہ عظیم معجزہ ہے،لیلۃ المعراج میں مسجد اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں کا سفراور بہت مختصر وقت میں واپسی تسخیر ہوا اورتختِ سلیمانی کے اعجاز سے کتنازیادہ عظیم ہے۔(معارف القرآن)
ــــمنکروں نے یہود کی تعلیم وترغیب سے فرمائشیں اس قسم کی کی تھیں کہ پیمبری کا دعویٰ ہے تو داؤدپیمبر کی طرح پہاڑوں کی تسخیر کا تماشاکیوں نہیں دکھادیتے،یا سلیمان رسول کی طرح ہواپر سفر کیوں نہیں طے کرادیتے،یا عیسیٰ نبی کی طرح مردہ سے کیوں نہیں گفتگو کرکے دکھا دیتے ،آیت ان ہی بیہودہ فرمائشوں کے جواب میں ہے۔(تفسیر ماجدی)
پانچواں رکوع |
| وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ ﴿32﴾ اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ﴿33﴾ لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ ﴿34﴾ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ ﴿35﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ ﴿36﴾ وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ ۧ ۧ ﴿37ع الرعد 13﴾ |
| 32. اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا۔ 33. تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) رستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں۔ 34. ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں۔ 35. جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔ 36. اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔ 37. اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔ |
تفسیر آیات
36۔ (چنانچہ وہ اس پر ایمان لے آئے اور آپ کی تصدیق کی)الذین آتیناھم الکتاب۔یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے، صحیح معنی میں اپنے اپنے دین و شریعت کے پیروتھے ،یہ رسول اللہؐ پر بھی بلاتامل ایمان لے آئے۔۔۔۔اور پھر ان کا شمار صحابیانِ رسولؐ میں ہوا۔ہمارے زمانہ میں ایک ندوی عالم نے ایک مستقل کتاب ،اہل کتاب صحابہ و تابعین پر لکھ دی ہے،اس میں 63 نام ایسے ہی حضرات کے لکھے ہیں ،جو پہلے یہودی یا نصرانی تھے،اور بعد کو مشرف بہ اسلام ہوکر صحابیوں کی صف مبارک میں داخل ہوئے، اور 7 نام اہل کتاب صحابیات کے ان کے علاوہ درج کئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
۔ احزاب سے یہاں مراد مخالف پارٹیاں ہیں یعنی یہود، نصاری اور مشرکین عرب۔ ان کی مخالفت کی نوعیت بھی بالعموم یہ نہیں تھی کہ قرآن کے ہر حصہ سے ان کو اختلاف ہو۔ (تدبرِ قرآن)
37۔ عَرَبِیًّا۔صاف واضح عربی پر حاشیہ پارہ 12،سورہ یوسف۔آیت 2 کے ذیل میں گذر چکاہے۔۔۔۔اللہ اللہ ! دائرہ عبدیت سے ذرہ بھر قدم باہر نکالنے کی گنجائش ،سیدا لبشر اور سرور انبیاء تک کو نہیں دی گئی ہے تو کسی دوسرے کا ذکر ہی کیا۔۔۔۔اَھوآءَھُم۔ضمیر اہل کتاب کی جانب سمجھی گئی ہے اور ان کی اھواء (خواہشوں )کے اندر ان کی تحریفات بھی آگئیں۔(تفسیر ماجدی)
۔۔۔ العلم سے مراد کیا ہے؟ اس آیت میں خطاب عام مسلمانوں کیلئے ہے۔مگر بطور تاکید مزید آپؐ کو مخاطب کیا گیا ہے اور علم سے مراد علم وحی ہے یعنی منزل من اللہ احکام آجانے کے بعد نہ کسی کے قول کو تسلیم کیا جاسکتاہے اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ کیا جاسکتاہے اور اگر کوئی شخص یہ بات جان لینے کے بعد کہ یہ بات منزل من اللہ ہے کوئی ایسا کام کرے گا تو اس کو اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہ سکے گا۔۔۔۔۔واضح رہے کہ کسی حدیث کی صحت معلوم ہوجانے کے بعد اتباع کے لحاظ سے کتاب اور سنت دونوں ایک ہی درجہ پر ہیں اور قرون اولیٰ میں علم حدیث کیلئے بھی العلم کا لفظ عام استعمال ہوتارہاہے۔(تیسیر القرآن)
چھٹا رکوع |
| وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ ﴿38﴾ یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ ﴿39﴾ وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ﴿40﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ﴿41﴾ وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ ﴿42﴾ وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ ۧ ۧ ﴿43ع الرعد 13﴾ |
| 38. اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے۔ 39. خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔ 40. اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔ 41. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ 42. جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتیری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب الله ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے۔ 43. اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا کے) رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں۔ |
تفسیر آیات
38۔(خواہ وہ آیت مکتوبی تنزیلی ہو،یا آیت تکوینی یعنی معجزہ و خارق) اٰیَة۔ کے دومختلف معنی ہیں، ایک تو آیت ِ قرآنی یا حکم الٰہی ،دوسرے نشان یا معجزہ ، یہاں مراد دونوں ہوسکتے ہیں ،یعنی کوئی رسول نہ اپنی طرف سے کوئی تنزیل ِ الٰہی لاسکتاہےاور نہ کوئی معجزہ۔لیکن آگے جو مضمون آرہاہے اس سے مناسب معنی آیت مکتوبی و تنزیلی ہی کے ٹھہرتے ہیں۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت سے مطالبۂ خوارق کی ممانعت نکلتی ہے ،اور جب اس کی ممانعت پیمبروں سے ہے جس کا صاحبِ خوارق ہونا ضروری ہے تو اولیاء سے تو اس کی ممانعت بدرجۂ اولیٰ ٹھہرتی ہے،جن کا صاحبِ خوارق ہونا ضروری ہے بھی نہیں۔(تفسیر ماجدی)
۔۔41 زمین کو ہر طرف سے کم کرنے سے مراد؟یعنی اسلام چاروں طرف پھیلتا جارہاہے اور کفر کی سرزمین ہر طرف سے سمٹتی اور کم ہوتی جارہی ہے اور اس کا حلقہ تنگ سے تنگ تر ہوتاجارہاہےاسلام کو غلبہ دینا اور اسے پھیلاناایسی بات ہے جس کا اللہ فیصلہ کرچکاہے جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور جوں جوں اسلام پھیلتا ہے ان پر عرصہ حیات تنگ ہوتاجارہاہے۔(تیسیر القرآن)
43۔ اس طرح کی تقدیر معلق کہلاتی ہے جس میں اس آیت کی تصریح کے مطابق محو و اثبات ہوتا رہتا ہے لیکن آیت کے آخری جملہ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ نے بتلادیا کہ اس تقدیر معلق کے اوپر ایک تقدیر مبرم ہے جو ام اللکتاب میں لکھی ہوئی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ صرف علم الہی کے لئے مخصوص ہے اس میں وہ احکام لکھے جاتے ہیں جو شرائط اعمال یا دعاء کے بعد آخری نتیجہ کے طور پر ہوتے ہیں اسی لئے وہ محو و اثبات اور کمی بیشی سے بالکل بری ہے (ابن کثیر) (معارف القرآن)