112 - سورة الإخلاص (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 4 |
مضمون: توحید خالص کا اعلان۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: اس کا نام اخلاص ہے اور اخلاص ہی اس کا عمود ہے ۔سب سے پہلے بھی توحیدو اخلاص کی سورۂ (الفاتحہ) اور سب سے آخربھی توحید و اخلاص (الاخلاص) یہ جامع ہونے کے ساتھ ساتھ اتنی مختصر ہے کہ ہر شخص یاد کرکے تعویذ کی طرح حرزجاں بنالے ۔قرآن کا ایک ثلث (توحید کی وجہ سے)یہ سورت غالباً اعلان ِ عام کے بعد دوسرے دور (4تا5نبوی) میں نازل ہوئی جب رب کے نسب اور اس کی مادیت کے متعلق سوال ہورہے تھے ۔دوسرے نقطۂ نظر کے مطابق یہ مدینہ میں نازل ہوئی جب مشرکین ،یہود اور عیسائیوں کے مشترکہ رد کی ضرورت تھی۔ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے(مسلم) دس مرتبہ پڑھنے والے کیلئے جنت میں گھر بنایا جاتاہے(احمد) اس سورت کی محبت جنت میں لے جاتی ہے (ترمذی) وتر کی آخری رکعت میں پڑھی جاتی ہے(نسائی)
۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسولﷺ سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی (طبرانی)۔۔۔۔۔۔ عامر بن الطفیل نے حضور سے کہا " اے محمد ؐ آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف۔ عامر نے کہا۔ اچھا تو اس کی کیفیت مجھے بتایئے۔ وہ سونے سے بنا ہوا ہے یا چاندی سے یا لوہے سے؟ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔ (تفہیم القرآن)
نظمِ کلام: سورۂ الملک اور اگلی تین سورتیں توحید کی مختلف قسموں سے متعلق ہیں ۔
ضرورت سورہ اخلاص: اگر یہ سورہ توریت یا انجیل میں ہوتی تو نصاریٰ ہرگز تثلیث کی مہلک بیماری میں نہ پڑتے ان کو اپنی تاریکی کے زمانہ میں اس سورہ سے اس قدر ضد تھی کہ وہ اگر کسی کو اپنے مذہب میں داخل کرتے تو اس سے نعوذ باللہ اس خدا پر لعنت کرواتے جس کی صفت اس سورہ میں بیان کی گئی ہے۔۔۔۔(تفسیر فراہی)
شرک تقاضائے فطرت نہیں: سورہ روم آیات(28-54)میں اس دعویٰ کو کہ دینِ فطرت توحیدخالص ہے بہ دلائل بیان کیا ہے۔(تفسیر فراہی)
| )آغاز رکوع: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ ﴿1﴾ اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ ﴿2﴾ لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ ﴿3﴾ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ ﴿4ع الإخلاص 112﴾ |
| 1. کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے۔ 2. معبود برحق جو بےنیاز ہے۔ 3. نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔ 4. اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ |
تفسیر آیات
1۔ وہ تنہا ہے (Unique)یعنی منفرد ہے یکتا۔(بیان القرآن)
ــــ اس میں مجوس کے عقیدہ کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ خالق دو ہیں ۔خیر کا خالق "یزداں" اور شرکا "اہرمن"نیز ہنود کی تردید جو 33 کروڑ دیوتاؤں کو خدائی میں حصہ دار مانتے ہیں۔(تفسیر عثمانی)
ــــ قُل کے معنی ہیں اعلان کردو ،برملا کہہ دو ،منادی کردو۔ھو ضمیر مثال ہے۔احد وہ ہے جس کی ذات میں کوئی شریک نہ ہو اور "واحد" جس کی صفات میں کوئی شریک نہ ہو۔ (تدبرقرآن)
ــــ هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ(الحدید۔57۔3)اگر وہ تھا اور کوئی اور ہستی بھی تھی ،تو وہ اکیلا نہیں رہا ۔وہ ہمیشہ سے ہے ۔جب کوئی چیز نہیں تھی تب بھی وہ ہمیشہ سے موجود تھا۔(خرم مراد)
ــــ مختلف قوموں کے خداؤں کی تعداد:۔ اَحَدٌ بمعنی لاثانی ،بے نظیر ،یکتا،اس لحاظ سے اس لفظ کا اطلاق صرف ذات باری تعالیٰ پر ہوتاہے۔غیراللہ کے لیے واحد کا لفظ استعمال ہوتاہے۔واضح رہے کہ گنتی میں ایک، دو، تین کے لیے واحد،اثنین ،ثلٰثۃ آتاہے۔ واحد کے بجائےاحد نہیں بولا جاتا۔البتہ دوموقعوں پر احد کا لفظ واحد کا مترادف ہوکر آتاہے۔ (1)اسمائے اعدادکی ترکیب میں جیسے احد عشر (گیارہ )احدھما (دونوں میں سے کوئی ایک)احدمنکم (تم میں سے کوئی ایک)احدکم (تمہاراکوئی ایک)یوم الاحد(اتوار)وغیرہ (2)نفی کی صورت میں صرف ذوی العقول کے لیے آتاہے جیسے لیس فی الدار احد(گھر میں کوئی بھی نہیں ہے)جبکہ واحد کا لفظ عام ہے جو ماسوائے اللہ کے لیے تو عام مستعمل ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے صرف اس صورت میں کہ اللہ کی کوئی صفت بھی مذکور ہوجیسے هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (13: 16)(یعنی اللہ وہ ہے جو اکیلا ہے سب کو دباکررکھنے والا ہے۔)(تیسیر القرآن)
2۔ لفظ غنی سے خدا کی بے نیازی کا جو تصور ذہن میں آتاہے اس سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے بالکل بے تعلق ہے ۔اس کا اثریہ ہوتاہے کہ وہ اس کو اپنی رسائی سے بالاترسمجھ کر دوسروں کے سہارے پکڑتے ہیں۔ اس لئے اس کے حمید کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہونے کے ساتھ ساتھ تمام سزاوار حمد کاموں میں مصروف ہے۔ اسی طرح احد کے ساتھ صمد کہ بے شک اللہ تو سب سے الگ ،بے نیاز و ہمہ گیر ہے مگر وہ سب کی خبر گیری اور دست گیری بھی کرتاہے اور سب کیلئے پناہ کی چٹان ہے اور سب کا مرجع و ماویٰ ہے اور سب کی فریاد سنتاہے ،فریاد رسی کرتاہے ۔(تدبرقرآن)
ــــ غنی وہ ہے جسے کسی دوسرے کی احتیاج نہ ہو مگر یہ لفظ صرف مال و دولت کے معاملہ میں بے نیاز ہونے کے لیے استعمال ہوتاہے اور غنی دولت مند کو کہتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
3۔مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے ۔یہود حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا اور نصاریٰ نے باپ، بیٹے اور روح القدس کی ایک تثلیث قائم کی۔ایک زمانے میں پادری کسی مسلمان کو عیسائی بناتے ہوئے اس خدا پر نعوذ باللہ لعنت کرواتے تھے جس کا ذکر سورۂ اخلاص میں کیونکہ اس سے نہ تو خدا کا بیٹا، باپ یا ماں بنانے کی گنجائش نکلتی ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ سورۂ مریم میں ہے کہ "کہتے ہیں کہ رحمٰن نے کسی کو بیٹا بنا یاہے۔سخت بیہودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑ لائے ہو۔قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں،زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ۔اس بات پر کہ لوگوں نے رحمٰن کیلئے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ! رحمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے (19: 88- 92) اتنی سخت زبان اللہ نے کسی اور شرک کیلئے استعمال نہیں کی ۔ جیسے انسان کا بچہ انسان ، گھوڑے کا بچہ گھوڑا اسی طرح خدا کا بیٹا خدا ہوگا۔عیسائیوں میں علمِ بشریات(Anthropology) کی بڑی بڑی بحثیں ہیں کہ دونوں کی (Substance) ذات اور ماہیت ایک ہے ۔ یہاں سے پھر عیسائیوں کا دوسرا عقیدہ پیدا ہوا کہ شریعت اور قانون کی ضرورت نہیں چنانچہ سؤر کو حلال اور شراب کو جائز قرار دیا گیا۔ کیونکہ خدا کا بیٹا سولی پر چڑھ گیا اور سب کے گناہوں کا کفارہ اداکریا ۔اس لئے اب شریعت کی بجائے ہم اپنا قانون خود بنائیں گے ۔ دراصل مادی چیزوں کو خدا کہنے کا ہی یہ نتیجہ ہےکہ مادیت خدا بنتی چلی گئی (آزادی کیلئے جو تقریب ہوئی اُسے (Supper) کہتے یعنی عشائیہ ربانی ۔کیونکہ یہ عیسیٰ کا خون اور گوشت ہوتاہے)اسی عقیدے کا نتیجہ ہے کہ اس کے ہاتھوں میں کھیلتے کھیلتے دنیا یہاں پہنچ گئی ہے کہ اس نے اتنی تباہ کن چیزیں جمع کرلی ہیں کہ واقعی آسمان پھٹ پڑے گا ،پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ۔زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگی ۔اگر آج سارے ایٹم بم چل جائیں تو یہی منظر ہوگا۔(شاید افریقہ کا دور دراز کا کوئی گاؤں تو بچ جائے لیکن امریکہ کا تو ایک ایک حصہ بری طرح تباہ ہوجائےگا)(خرم مراد)
ــــ اللہ کی اولاد قراردینا اسے گالی دینے کے مترادف ہے:۔ سیدنا ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :بنی آدم نے مجھے جھٹلایا اور یہ اسے مناسب نہ تھا اور مجھے گالی دی اور یہ اسے مناسب نہ تھا۔اس کا مجھے جھٹلانے کا مطلب یہ ہے کہ جو وہ یہ کہتاہے کہ میں اسے دوبارہ ہر گز پیدا نہ کروں گا حالانکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں ہے اور اس کا مجھے گالی دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے حالانکہ میں اکیلا ہوں،بے نیازہوں ،نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور میرے جوڑکا تو کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔(بخاری۔ کتاب التفسیر)(تیسیر القرآن)
4۔ یہود کی کتابیں اٹھا کر دیکھوایک دنگل میں خدا کی کشتی یعقوب سے ہورہی ہے۔اور یعقوب خدا کو پچھاڑ دیتے ہیں (العیاذ باللہ)(تفسیر عثمانی)
ــــ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں : " شرک کبھی عدد میں ہوتاہے "اَحَدٌ" کہہ کر اس کی نفی فرمادی ،کبھی مرتبہ و منصب میں ہوتاہے "صَمَدٌ" کہہ کر اس کا بطلان کردیا،کبھی نسب میں ہوتاہے" لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ" سے اس کا ابطال کردیا اور کبھی کوئی کام کرنے اور اثر اندازی میں ہوتاہے اس کی تردید "لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ" سے کردی توحید کے اسی جامع مضمون کی وجہ سے اس کو سورت اخلاص کہا جاتاہے۔(ضیاء القرآن)
ــــ کفو کے معنی ہم سر ، ذات ،برادری کے ہیں ۔یعنی کوئی اُس کے جوڑ کا نہیں سب مخلوق وہ خالق، سب محتاج وہ غنی ،سب فانی و ہ تنہا باقی۔(تدبرقرآن)
- اللہ کی اولاد ٹھہرانا، حدیث میں اسے اللہ کو سب و شتم کرناقرار دیاگیا ہے۔ملاحظہ ہو حاشیہ : (سورۂ بقرہ:2/116)۔یہ سورت بڑی فضیلت والی ہے۔اس کی ایک مرتبہ تلاوت اجروثواب میں تہائی قرآن کے برابر ہے۔چنانچہ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے ، ایک شخص نے دوسرے شخص کو "قل ھوااللہ احد"تلاوت کرتے ہوئے پایا جو اسے باربار دہرا رہاتھا۔ صبح کو وہ شخص رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتائی جیسے کہ وہ محض اس سورت کی تلاوت کو کافی نہیں سمجھتاتھا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا:"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن کے ایک تہائی (حصہ کی تلاوت)کے برابر ہے۔"نیزحضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: رسول اللہؐ نے ایک شخص (شاید کلثوم بن زیدؓ )کو ایک لشکر کا سرداربناکر بھیجا ، وہ نماز میں (ہررکعت میں)اپنی قرأت "قل ھو اللہ احد" پر ختم کرتا۔ جب لشکر کے لوگ لوٹ کر مدینہ آئے تو انہوں نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا ۔آپؐ نے فرمایا:"اس سے پوچھو ایسا کیوں کرتاہے؟ لوگوں نے پوچھا تو اس نے کہا : اس سورت میں اللہ کی صفتیں مذکور ہیں مجھے اس کا پڑھنا محبوب ہے۔"آپؐ نے فرمایا :"اس سے کہو: اللہ(بھی)تجھ سے محبت کرتاہے۔"(صحیح بخاری، التوحید، باب: 1،حدیث :7374، 7375)(احسن الکلام)