109 - سورةالکٰفرون (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 6

مضمون:مشرکین سے قطع تعلق اور برأت کا اعلان۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول: سورۂ الکٰفرون ،اعلان عام کے بعد قیامِ مکہ کے دوسرے دور (4تا5 نبوی) میں نازل ہوئی جب قریش کے سرداروں نے ایک وفد کی صورت میں آکر پیشکش کی کہ ایک سال بتوں کی پوجا کی جائے اور ایک سال اللہ کی ۔انہیں لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ کا سبق سنایا گیا اور کفر سے عملی بے تعلقی کا اعلان کیا گیا۔ آپؐ نے طواف کے کے بعد اور فجر کی سنتوں میں سورۂ الکٰفرون اور سورۂ الاخلاص پڑھی ہے۔

نظمِ کلام: سورۂ الملک، سورۂ الھمزۃ

یہ جنگ اور برأت کی سُورہ ہے: سورۂ یونس میں فرمایا "اگر وہ تمہیں جھٹلادیں تو ان سے کہہ دو کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارے عمل ۔تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں۔"(تفسیر  فراہی )

بعثت کے مراحل :برأت ،ہجرت اور غلبہ:۔ کسی قوم میں کسی رسول کی بعثت کا زمانہ اس قوم کے بحران کا زمانہ ہوتاہےاور اس وقت مندرجہ ذیل تین حالتوں  میں سے کوئی نہ کوئی  حالت ضرور ظہور میں آجاتی ہے۔1۔ پوری قوم اپنی شرارتوں کی پاداش میں ہلاک کردی جاتی ہے۔ صرف ایک مختصر جماعت نیکو کاروں کی بچ رہتی ہے اور یہی جماعت ہلاک ہونے والوں کی جگہ زمین کی وارث بنتی ہے۔حضرت نوحؑ اور اکثر انبیاء کی امتوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا۔2۔ تباہی اورہلاکت کی آخری منزلوں تک پہنچ کر یک بیک قوم پیغمبر کی دعوت سے چوکنی ہوجاتی ہے اور خدا کی رحمت اس کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ،حضرت داؤدؑ،حضرت یوسفؑ اور پیغمبر عالم علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کی امتوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا ۔3۔ ایک امت تباہ کردی جاتی ہے اور ایک دوسری امت زندہ کی جاتی ہے ۔حضرت موسیٰؑ اور پیغمبر عالمؐ کی بعثت میں یہی معاملہ پیش آیا ۔ حضرت یعقوبؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی ذریت کے انتقام میں فرعون اور کسریٰ کی قومیں مٹادی گئیں۔قرآن مجید کی مختلف آیات میں ان حقائق کی طرف اشارات کیے گئے ہیں۔سورہ یونس میں ہے: "یا تو جس چیز کی ہم ان کو دھمکی دے رہے ہیں ،اس میں سے کچھ ہم تم کو دکھادیں گے یا یہ ہوگا کہ ہم تم کو وفات دیں گے  اور ان کا پلٹنا ہماری طرف ہوگا۔ پھر اللہ ان کے اعمال پر گواہ ہوگا۔ہر امت کے لیے ایک رسول۔  جب ان کا رسول آجاتاہے عدل کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتاہے اور ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ تمہاری یہ دھمکی کب پوری ہوگی۔کہہ دو میں تو اپنی جان کے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے ۔ہر امت کے لیے ایک اجل معین ہے جب ان کی اجل آجائے گی نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹے گی ،نہ ایک گھڑی آگے۔"(تفسیر فراہی)

۔ہجرت کے جنگ و برأت ہونے کے ثبوت احادیث سے: پہلے برأت کا اعلان کرتاہے ،اپنے شیرازہ کو مجتمع کرتاہے،خدا کی مدد کے بھروسہ پر پوری طرح مطمئن ہوتاہے ،پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتاہے ،اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت معین ہوجاتاہے تو وہ اس طرح بے خوف و خطر روانہ ہوجاتاہے گویا دنیا کی کوئی قوت بھی اس کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔(تفسیر فراہی)

سورۃ الکافرون کے فضائل:۔ 1۔ آپؐ نے طواف کے بعد کی سنتوں میں اور فجر کی سنتوں میں سورۃ "الکافرون"اور سورۃ الاخلاص پڑھی ہے۔(صحیح مسلم:726)۔2۔ تین رکعات والی وتر میں آپؐ نے سورہ الفاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ ، دوسری رکعت میں سورۃ "الکافرون"اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھی۔(ابن ماجہ :1،171،نسائی:کتاب قیام اللیل،حدیث 1،684)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)


قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ  ﴿1﴾ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ  ﴿2﴾ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ  ﴿3﴾ وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ  ﴿4﴾ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ  ﴿5﴾ لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠  ﴿6ع الكافرون 109﴾
1. (اے پیغمبر، ان منکران اسلام سے) کہہ دو کہ اے کافرو! 2. جن (بتوں) کو تم پوچتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا۔ 3. اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔ 4. اور (میں پھر کہتا ہوں کہ) جن کی تم پرستش کرتے ہوں ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں۔ 5. اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں۔ 6. تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر۔

تفسیر آیات

1۔ "قلْ" یہاں اعلان کردینے کے معنی میں ہے۔ آپؐ کی برسوں کی جدوجہد کے بعد ان کے رویّہ میں کوئی تبدیلی ہوئی تو یہ ہوئی کہ انہوں نے کفر و اسلام دونوں کا ایک ملغوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا ۔دو سوال : ایک یہ کہ قرآن میں عام طورپر قریش کے لیڈروں کو اس طرح کے سخت خطاب سے کہیں مخاطب نہیں کیا گیا ۔ دوسرا یہ کہ قریش بلکہ اہلِ عرب بالعموم خداکے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے  تو قرآن نے ان کو اے کافرو! کیوں کہا،اے مشرکین کیوں نہیں کہا ؟ جواب (i) اُس وقت کافر کہا جب اتمامِ حجت کردیا، قوم کے رویہ سے بالکل مایوس(ii) شرک حقیقت میں کفر ہی ہے۔(تدبرقرآن)

ــــ تاریخی روایتوں میں اس موقع پر قریش کے ان چار سرداروں کے نام آئے ہیں : (1)اسود بن المطلب الاسدی (2)ولید بن مغیرہ مخزومی (3)عاص بن وائل سہمی(4)امیہ بن خلف جمحی۔ان میں سے پہلے تین دعوت کے ابتدائی عہد میں رسول اللہؐ سے استہزاء کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔(کتاب المحبر ،عنوان: المستھزؤن من قریش)اور چوتھا یعنی اُمیہ بن خلف وہ شخص ہے جس نے آگے چل کر غزوۂ بدر کے موقع پر لشکر قریش کی میزبانی بھی کی تھی۔(تفسیر ماجدی)

2۔ گویا پہلے ہی فقرہ میں ان کی توقع کا خاتمہ کردیا۔ قریش اپنے جبرو ظلم کے تمام حربے آزماچکے تو دباؤڈال کر حضورؐ کو کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پر معاملہ طے کرنے کی طرف مائل کرنے کی کوشش ۔(تدبرقرآن)

3۔لَا اَعْبُدُ مَا(من نہیں) اعبد تو اس کا مطلب یہ ہواکہ جن صفات کے معبود کی عبادت میں کرتاہوں ان صفا ت کے معبود کی عبادت کرنے والے تم نہیں ۔کسی کا خدا چھ دن میں کائنات پیدا کرکے ساتویں دن آرام کرتاہے ۔کسی کا خدا صرف ایک نسل سے تعلق رکھتاہے (بنی اسرائیل) اس کا ایک بیٹا عزیر بھی ہے۔ کسی کا خدا ایک اکلوتے بیٹے کا باپ ہے جسے اس نے دوسروں کے گناہوں کا کفارہ بنادیا۔ کسی کا خدا بیچارہ صرف بیٹیاں ہی رکھتاہے۔کسی کا خدا انسانی شکل دھارتاہے ،کسی کا خدا سب کچھ پیدا کرکے الگ ہوگیا اورگھڑی ساز کی طرح ہے۔(تفہیم القرآن)

ــــ تم اگر اپنے دیویوں دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کیلئے تیار نہیں ۔خدا کی  عبادت کے ساتھ کوئی اور عبادت جمع نہیں ہوسکتی۔(تدبرقرآن)

ــــ یہ کوشش عرب قدیم پر ختم نہیں ہوگئی ،جلال الدین محمد اکبر (شہنشاہ ہند)کا جاری کردہ"دین الٰہی"اس کا ایک مہذب و منقش چرباتھا۔اور آج جو "سیکولر"گورنمنٹ کی آڑ میں پروپیگنڈہ یک جہتی و وحدتِ ادیان کا ہورہاہے،وہ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔۔۔۔۔عرب میں بت پرستی کی تاریخ بڑٰی قدیم ہے۔ابن الکلبی نے اپنی کتاب الاسنام میں لکھا ہے کہ اسماعیلؑ بن ابراہیمؑ کی نسل جب مکہ میں پھیلنا شروع ہوئی تو کچھ عرصہ بعد شہر کے حدود اُن کے لیے ناکافی ثابت ہوئے ،اور اُنہوں نے نکل نکل کر دوسرے مقامات آباد کرنے شروع کردیے۔جہاں کہیں یہ لوگ جاتے ،حرمِ محترم کا کوئی پتھر ساتھ لے جاتے اور اسی کو خانۂ کعبہ کا بدل سمجھ کر اس کی تعظیم و احترام بجالاتے ،یہاں تک کہ طواف وغیرہ بھی اس کے گرد کرنےلگ گئے۔سنگ پرستی یاپتھر پوجا کی بنیاد اسی طرح پڑی اور پھر رفتہ رفتہ قومِ نوح یا عراق والوں کی، جن کا تمدن قدیم تر تھا، مورتیاں بھی انہوں نے اختیار کرلیں۔ رہا خاص شہر مکہ اور خانۂ کعبہ تو یہاں جس شخص نے بت پرستی کا آغاز کیا ،اس کا نام عمرو بن لحی بن قمعہ ہے جو قبیلۂ  خزاعہ کا مورثِ اعلیٰ ہے۔(الاصنام ،ص:6 تا 7)اسی عمرو بن لحی سے متعلق سیرت ابن ہشام میں ہے کہ یہ اپنے کاروبار کے سلسلہ میں مکہ سے شام گیا، اور وہاں لوگوں کو خوش حال دیکھ کر اور ان کی زبان سے ان کے بتوں کی کارسازی اور چارہ فرمائی کے قصے سن کر ان کے ایک بہت بڑے بت ہُبل نامی کو ان سے مانگ لایا اور اسے کعبہ پر نصب کردیا، اسی وقت سے عین کعبہ میں مورتی پوجا ہونے لگی۔(ابن ہشام،ج1/ص:70) (تفسیر ماجدی)

4۔ اوپر کا اعلان مستقبل سے متعلق ہے ۔اب یہ ماضی سے متعلق بھی آپؐ نے اپنا مؤقف واضح فرمادیا کہ ماضی میں بھی کبھی میں ان چیزوں کا پرستار نہیں رہاہوں جن کی تم نے پرستش کی ۔یہاں ماعبدتم چونکہ ماضی ہے اس وجہ سے یہ واضح قرینہ ہے" وَ لَا اَنَا عَابِدٌ" کی نفی ماضی ہی سے متعلق ہے ۔یعنی میں پہلے بھی کبھی ان چیزوں کا پوجنے والا نہیں رہا ۔جب میں تمہارے ان بتوں کو اپنی زندگی کے اس دور میں بھی کبھی خاطر نہیں لایا ۔جب میں شرفِ نبوت سے متشرف اور نورِ وحی سے منور نہیں ہواتھا۔(تدبرقرآن)

5۔ یہ آیت لفظاً تو آیت :3 کا اعادہ ہے اس وجہ سے تکرار کا شبہ پیداہوتاہے لیکن معناً یہ اس سے مختلف ہے ۔اس کا تعلق آیت :4 کی طرح اور ماضی سے ہے جب کہ آیت :3 کا تعلق مستقبل سے ہے ۔یعنی تم اگر اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ ماضی میں تم بھی اسی معبود کی پوجا کرتے رہے ہو جس کی میں پوجا کرتارہاہوں تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے۔(تدبرقرآن)

ــــ ان میں ماضی ،حال  اور مستقبل تینوں زمانوں کا ذکر آجاتاہے ۔اب تم اس مقام پر پہنچ چکے ہو کہ جہاں تم پر کافر ہونے کا فتویٰ دیاجاسکتاہے۔احادیث میں اس بات کو سخت ناپسند کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی تکفیر کرے ۔مسلمان تو مسلمان ، کفارِ قریش کے بارے میں بھی سوائے اس ایک مقام کے کہیں بھی انہیں کافر نہیں کہا گیا ۔ (خرم مراد)

6۔ دین کے معنی دوہیں: (i) زندگی بسر کرنے کے طریقے (ii)روزِ جزا ۔یہ رواداری کی تعلیم نہیں بلکہ یہ تو اعلانِ جنگ ہے کہ اب ہمارے اور تمہارے راستے الگ ہیں۔یہ چھوٹی تصویر ہے کہ چودہ سوسال سے مسلمانوں کی یہودیوں اور عیسائیوں سے جنگ ہے۔ یہودی سپین بمقابلہ یورپ کو اپنا سنہری زمانہ کہتے ہیں ۔(خرم مراد)

ــــ یعنی جب میرے دین اور تمہارے دین میں کوئی اشتراک ماضی میں نہ ہوا،نہ حاضر میں ہے۔توآئندہ کس طرح توقع کرتے ہو کہ ہم کسی ایک نقطہ پر مجتمع ہوسکیں گے اس وجہ سے سمجھوتے کی توقع بالکل لاحاصل ہے ۔عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو رواداری کے مفہوم میں لیا ہے حالانکہ یہ کفار کے رویہ سے بیزاری بلکہ ان سے ابدی مفارقت اور اعلانِ جنگ کے مفہوم میں ہے۔(تدبرقرآن)